نیویارک میئر میں پاکستانی خاتون سے ملاقات کے دوران آبدیدہ ہوئے ظہران ممدانی
ظہران ممدانی نے شہریوں سے ملاقات کی جس میں ایک پاکستانی خاتون سے بھی ان کا تعامل رہا، اس خاتون نے ظہران ممدانی کو کہا تھا کہ وہ انگریزی اچھی نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے بہت سARIں لکھ کر ان کے سامنے پیش کیں، اس کے بعد وہ ظہران ممدانی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاشرے میں جہاں لوگ متحد نہیں ہوتے ان لوگوں میں نرم دلی پیدا کی جائے۔
ظہران ممدانی نے اپنی ملاقات کے دوران ایک پاکستانی خاتون سے بات کی جسے اس نے پوچھا تھا کیا ان کا تعلق پاکستان سے ہے، اور وہ اردو سمجھتی ہیں؟ ظہران ممدانی کو جو جواب ملیا تھا وہ تھا کہ انہیں اردو آتی ہے لیکن وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے، بلکہ بولتے ہیں۔
ظہران ممدانی نے یہ بھی پوچھا تھا کیا ان کا تعلق پاکستان کی شہر لاہور سے ہے، اس پر انہوں نے جو جواب دیا تھا وہ تھا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے، یہ سن کر ظہران ممدانی کو ان کی ایک خوشبو کی لگ گئی، لیکن اس کی خوشبو میں کچھ حیرانی کا مایوسہ بھی تھا، جسے وہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
ظہران ممدانی کو ایک پاکستانی خاتون سے مل کر آنکھوں میں حیرانی لگی، اس کی آنکھوں میں وہ کچھ سچائی نظر آ رہی تھی جو کسی سے چھپ نہیں سکتی تھی، یہ دیکھ کر ظہران ممدانی آبدیدہ ہوگئے۔
ظہران ممدانی کا یہ عہد نیویارک میں شاندار اور ساتھ دل کی بھرپور تہنیت کے ساتھ آگیا، وہ نئی صدی کے دور کی پہلی مسلمان میئر ہیں، انہوں نے نیویارک میئر کے عہدے پر حلف اٹھایا، اس تقریب میں انہوں نے اپنے دادا، دادی کے قرآن پاک سے حلف اٹھایا تھا۔
ظہران ممدانی نے خطاب میں کہا کہ اب ایک نئی دنیا کا آغاز ہوا ہے، اگر آپ نیو یارک کی شہری ہیں تو مجھے بلطفریق آپ کا میئر سمجھیں۔
مگر یہ سچ بھی نہیں کہ وہ پاکستانی خاتون جو ظہران ممدانی سے مل گئی وہ حقیقی طور پر ان کی خوشبو کو دیکھتی تھی… اس کا معینہ بھی نہیں کہ وہ اپنے دور میں ایسے معاشرے میں رہیں گے جس میں لوگ متحد ہوں گے، یہ صرف بھावनات کی بات ہے اور کیا اس میں سچائی نہیں ہوتی؟
بہت ہی بے صبری والی بات ہوئی نیویارک میئر کو ایک پاکستانی خاتون سے ملاقات کے دوران، وہ کیا کرتا تھا اس کی زبان کو انھوں نے بدل دیا تھا؟ یہ لوگ شہری ہیں یا غیر شہری؟ وہ صرف ان کے آنکھوں میں ہی سچائی دیکھ رہے ہیں؟
Wow ، وہ ایک پاکستانی خاتون نے نیویارک کی میئر سے بات کی جو اس وقت شہریوں کو بھی سمجھنا مشکل لگ رہا تھا؟ یہ اچھا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو دکھائی رہی، خاص طور پر نہیں تو اردو میں پڑھنا مشکل لیکن بولنا آسان تھا? اس کی خوشبو کا یہ حیرانی کن محavel بھی دیکھ کر ظہران ممدانی کو آبدیدہ ہوئے، نئی صدی میں ایسا کیا ہوا تھا؟
ظہران ممدانی کی ان ملاقات سے نکلتی ہوئی ایسی خوشبو ایسے معاشرے میں پھیلی ہوگی جہاں لوگ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور ان کی دلی پر دباؤ سے دور رہتے ہیں، اس میں ایک اچھی بات بھی ہوگی کہ وہ شخص جو خوشبو لاتا ہے وہ ایسی چیز ہو سکتا ہے جو معاشرے کو ایک نئے روپ میں دیکھنے کی طاقت دیتا ہے، مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ شخص جو خوشبو لاتا ہے وہ ایسی چیز ہو سکتا ہے جو کسی کو متاثر کر سکتی ہے، لگتا ہے ظہران ممدانی نے ایسا کیا ہیں جو معاشرے کی دلی میں نرمیت پیدا کرے گا۔
یہ جو حالات بھی ہوئے اس میں ایک حیرانی کارروائی ہے، میری آنکھوں میں بھی اسی طرح کی حیرانی لگی تھی جس سے ظہران ممدانی ہوگئے، وہ ایک پاکستانی خاتون سے بات کر رہے تھے جو انگریزی آدتی تھی اور ان کا تعلق لاہور سے تھا۔ یہ جیسے ان کی خوشبو میں حیرانی لگی، ایسی سچائی جو کسی سے چھپ نہیں سکتی تھی۔ میری خیال میں ظہران ممدانی کو وہی چاہیے جس پر ان کا احترام تھا، لیکن یہ بات بھی کہتے ہوئے ہی کہیں نہیڰا۔
میں تو اس پر حیران ہونے کے لیے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ لوگ کیا پکڑتے ہیں? اور ایسا بھی شاندار ٹاپ میئر بن کر ان کا تعلق پاکستان سے نہیں تھا؟ آدھے صدمہ ہو گیا میرے ساتھ، پریشانی کی لگ گئی میرے جسم کے ساتھ.
یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ نیویارک میئر کو ایسے معاشرے میں تعلق رکھنے والی پاکستانی خاتون سے ملاقات ہوئی جہاں لوگ متحد نہیں ہوتے، لیکن اس کے بعد یہ کہظت بھی نہیں ہو سکتی کہ ایسے معاشرے میں نرم دلی پیدا کی جائے جو متحد نہیں ہوتے وہاں اس پاکستانی خاتون کی خوشبو کیسے آئی، جو لوگوں کو حیرانی لگا دی۔ مگر یہ بات بھی سچ ہو گی کہ نیویارک میئر نے اپنے دور میں شاندار کام کیے ہیں، لیکن اس دوسری خاتون کی خوشبو کو نظرآ کرنا بھی ایک اچھا سے کامیاب معاشرے کے مظاہر ہو گیا۔
ملازمت پر ایسا لگ رہا ہے جیسے ظہران ممدانی کو ایک نئی دنیا کی چالاک کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے، پھر بھی وہی کہیں تھا، جو کہہ گیا تھا وہی سمجھا گیا। پوری دنیا میں اس طرح کی ملاقاتوں پر توجہ دی جا رہی ہے جیسے یہ نیویارک میئر کا دور ہے، لیکن ایک سادہ سوال یہ ہے کہ ظہران ممدانی کی کتنے حقیقی ملازمین ہیں؟
عمر خدا یہ دیکھ کر میرے لئے بھی آنکھوں میں حیرانی ہوئی، ان لوگوں نے جو ظہران ممدانی سے بات کرتے ہیں وہ ایسے ہیں جن کی بولچی اور زبان کے بارے میں جانتے ہوئے تو ان کی زبان میں بھی حیرانی ہوتی ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا ہی ہوتے ہیں، یہ تو میرے لئے بھی ایک حوالہ ہے جو آپ کو آپ نہیں جانتے ہوگے، یہ دیکھ کر منہ پر پانی آتا ہے۔
وہاں شہر کی بھرپور تہنیت اور دل کی روشنی دیکھ کر میرے لئے ایک نئی دنیا کا آغاز ہوا ہے، ظہران ممدانی کو ملنے سے پہلے میں بھی یہی بات کہتے تھے جو اب واضح ہوگئی ہے، نئی صدی کی پہلی مسلمان میئر ہونے پر میرا بھی خUSHخوشی تھی، لیکن وہاں ملنے والی پاکستانی خاتون کی خوشبو میں حیرانی کا مایوسہ تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھ کر وہ آبدیدہ ہوئے۔
ظہران ممدانی کی ملاقات ایک بات بھی نہیں بلکہ ایک بات ہے جو اس شہر میں کسی کی بات سونے کے لئے نہیں۔ وہ ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اپنے تعلقات اور جذبات کو سامنے لایا ہے، ان کے پاس ایک خوشبو ہے جس سے آپ کو حیران ہوجائے گا، لیکن یہی خوشبو جو دنیا کی تازہ ترین واقعات کو دیکھنے کے لئے ہمیشہ کچھ نہیں کرتے؟
عجیب غمرہ ہوا نے اس صدی میں ، نیویارک کی شہریوں کو دیکھ کر آنکھوں میں حیرانی لگ گئی ہے، یہ ایسا ماجا ہے جو پہلے نہیں ہوا ہے۔
اس کی حیرانی بھی ہوئی تھی ، جب انہوں نے ایک پاکستانی خاتون سے بات کی تو اس خاتون نے زہران ممدانی کو بتایا کہ وہ انگریزی میٹرک نہیں کیا، بلکہ صرف اردو اور پانچ سال کی تعلیم حاصل کرنے پر ہار گئیں، لیکن انہوں نے بھی اپنے آپ کو ایسا نہ لگایا کہ وہ پوری دنیا کے سامنے کمزور دکھائی دے رہی ہیں۔
عجائب ! نوی یارک میئر اس وقت ہوئے جو دیکھنے کو کچھ نہیں ہوتے! ظہران ممدانی کی وہ پاکستانی خاتون سے مل کر کا کہیں پہلے آج تک دیکھا گیا تھا، ایک میئر نے ایسے معاشرے میں بات کی جس میں یہ سب نہیں ہوتے!
لاکھ لاکھ شکر و برکت ظہران ممدانی کو اور ان کی پاکستانی خاتوم سے، ان کا بھاروں میں ایک ایسا Moment رہا جس نے اسے پچھلے سے دیکھنے سے زیادہ متاثر کیا ہیں!
میں تو پتا چل گیا تھا کہ نیویارک میں ایسا معاشرہ ہو گا جہاں نہ کوئی حیرانی کروڈا، بلکہ سارے لوگ یک جا ہو جائیں گی اور ایسی دuniya میں رہنا بھی چیلنجنگ nahi hai وہ پاکستانی خاتون جو ظہران ممدانی کو ایسا معاملہ پیش کیا تھا، وہ کیا سچ کیوں بتائے گی؟ لڑکی ہوتی ہے تو اس پر اس کی نوجوانی اور عورت کی چھوت بھی لگتی ہیں
عہدِ حال کی بات کیں... یہ ظہران ممدانی کی ملاقات سے منسلک ہے، وہ نیویارک کے نئے میئر ہیں اور ان کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے... لگتا ہے اس کی خوشبو وہاں پھیل گی، لیکن یہ دیکھنا بہت حیرانی کا تھا کہ وہ ایسے سے بول رہی تھی اور اردو سمجھتی ہے... مگر اس کے بعد جب انہوں نے شہروں میں متحد ہونے کی بات کی تو مجھے یہ لگا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں آئی جس کے لیے سچائی کی ایسی چابی کی ضرورت ہے...
ظہران ممدانی کے یہ عہد دیکھ کر مجھے بہت گہری خوشبو لگ رہی ہے، اس سے پہلے بھی نے نیویارک میں شاندار کچھ دیکھا تھا ، لیکن ایسا ہونا بھی تو چیلنج تھا، اور اب وہاں نئی صدی کے دور کی پہلی مسلمان میئر ہوں، اس سے دل کو بھی گہرا شوق لگ رہا ہے…
ظہران ممدانی کو اس پاکستانی خاتون سے ملنے کا یہ موقع ایک نئی دنیا کی پہلی لمحہ ہے، جہاں وہ اپنی دباو اور آدھرو دلی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے آپ کو ایسے معاشرے میں نظر آ رہے ہیں جہاں لوگ اپنے تعلقات اور خود کی سمجھ سے متعین بنتے ہیں۔ یہ ایک بے مثال موقع ہے جس پر وہ اپنی آدھرو دلی کو ظاہر کرتے ہوئے آپ کی حیرانی اور شادابیں دیکھ رہے ہیڰ۔ اس طرح کے نئے معاشرے میں لوگ ایسی دلی کی بہت जरور ہے جو وہ اپنے آپ کو ایسے ساتھوں کی تلاش میں بناتا رہے۔
ایسے سارے لوگ جو اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ ظہران ممدانی نے ایک پاکستانی خاتون سے ملاقات کی، تو ان کی نظر یہ ہی رہتی ہے جیسا کہ میڈیا وضاحت کر رہا ہے۔ لیکن بھلے ہیں، ظہران ممدانی کو ان کی خوشبو میں حیرانی لگی اور اس پر اس کی ایسی خوشبو سے پریشانی پیدا ہوئی جو کہی نہیں جاسکتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اردو سمجھتے ہیں، لیکن ان کی توجہ اس بات پر ہی رہتی ہے کہ وہ انگریزی اچھی نہیں ہیں۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں، لیکن یہ بات بھی ہر وقت بات کی جاتی رہی ہے کہ وہ کوئی ایسا معاشرہ تھا جوsoft اور نرم دلی والا ہو، نہ تو اس میں کچھ حقیقت رہتی ہے نہ ہی یہ صرف ماجہ و فancies پر منحصر ہوتا ہے۔
ایسے سارے معاشرہ کو دیکھ کر، مجھے بھی توجہ کے طور پر حیرانی لگتی ہے کہ ظہران ممدانی نے ایک پاکستانی خاتون سے بات کی اور ان کا جو جواب دیا وہ اس بات پر ہی کھینچتا ہے۔ میں بھی کہنا چاہوں گا کہ یہ دیکھ کر مجھے بھی حیرانی لگتی ہے، لیکن ان کے پاس اس طرح کی بات کا کوئی استدلال نہیں ہے کہ وہ اردو سمجھتے ہیں اور وہ انگریزی میں بھی اچھی نہیں ہیں۔
ایسے کے علاوہ، یہ بات بھی رہتی ہے کہ نیویارک کی نئی مئر ظہران ممدانی ایک پاکستانی خاتون سے مل کر آنکھوں میں حیرانی لگ گئی، لیکن اس وقت تک کہ وہ ان کی خوشبو سے پریشانی نہ کرتا تھا، وہ ان کی بات پر جاتے ہوئے ایک پاکستانی خاتون کو دیکھ کر آنکھوں میں حیرانی لگتی تھی۔