وینزویلا پر امریکی حملوں سے تعلق رکھنے والے نئی یارک میئر ظہران ممدانی نے صدر ٹرمپ کو فون کرتے ہوئے تحفظات سے آگاہ کیا، اس نے کہا ہے کہ وینزویلا پر حملے ایک جنگی اقدام ہے جو نئی یارک کے شہریوں کو بھی متاثر کرے گا اور اس پر انھوں نے صدر ٹرمپ کی سرزنش کی ہے کہ وہ اس سے ایسا ہی جواز پیش کرتے ہیں جو پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کرتے ہیں۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی صدر ٹرمپ پر زور دیا، اس نے کہا ہے کہ وینزویلا پر حملے کیلئے جواز وہی ہے جس سے پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کیا جاتا ہے، اس نے صدر ٹرمپ کی سرزنش کی ہے کہ وہ اقدامات کے بعد بھی ان کے خلاف criticism کو کم کرنے کا سدبا نہیں چلا رہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف علاقوں میں حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔
این دھرتیوں پر یہ حملے جو کہ نئی یارک کے مہاراجو کو بھی متاثر کر سکتے ہیں اس پر سرزنش کی جانے سے خوفناک بات ہو گی اور پیٹرن کو سمجھائی جاسکتی ہے کہ اچانک حملوں سے نتیجہ ان کا بھی کیا ہوسکتا ہے؟
یہ بہت غمزناک اور خوفناک بات ہے کہ امریکا نے وینزویلا پر ایسے حملے کیے ہیں جس سے پوری دنیا متاثر ہوگئی ہے، مگر یہ بات بھی بھرپور طور پر کہلی رہی ہے کہ وینزویلا کی سرزمین پر حملے سے نئی یارک کا شہری ہونے کے باوجود ممدانی میئر کو بھی اس جیسے انصاف کا احساس ہوا ہوگا، وہاں تک کہ صدر ٹرمپ کو انھیں فون کر کے اپنی چوٹ سے آگاہ کیا اور اس نے بھی ایسی ہی criticism کی ہے جس سے اسے پہلے یوکرین پر پیوٹن کے حملوں میں شامل ہونے پر مل کر توجہ دلانی پڑتی رہی ہے، اور واضح طور پر اس نے انھیں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ جس جواز پیش کرتے ہیں وہی ہے جس سے پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی یہ رہا کہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے نئی یارک میئر کو اس سے متعلق سرزنشوں پر جواب دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسا کہنا بھی بہت مشکل ہوگا کہ اس حملے میں کسی امریکی فوجی یا سیاسی رہنما کا کوئی بھی حصہ نہیں تھا، پھر بھی وہ لوگ جو وینزویلا کے حوالے سے یہاں سے تعلق رکھتے ہیں ان پر اسی طرح کی سرزنش نہیں کی جاسکتی، یہ بھی بات ہوگی کہ وینزویلا میں موجود غیر ملکی فوجیوں کی جگہ اس سے قبل امریکی فوجیوں کا اقدامہ کیسے ہوا گيا ،
ایسے حالات کچھ دیر سے چل رہے ہیں اور اب تو وینزویلا پر امریکی حملے سے بھی کچھ نئی بات ہوئی، لاکہ اب تو ان شہروں میں سے ایک نئی یارک میئر نے صدر ٹرمپ کو فون کرتے ہوئے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ ان شہروں پر بھی حملے کی تیز نہیں کچھ دیر میں ہو سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اس طرح نئی یارک کے شہری بھی یوکرین پر پیوٹن کی حملے کو متاثر ہون گے۔
یہ ایک بڑا ماحولائی زہر کا معاملہ ہے نہیں، وینزویلا پر حملوں سے پہلے بھی امریکا کو یوکرین کی समस्यہ کے حل کے لئے بہت سے جوجے پیش کرنے پڑتے ہیں اور اب وہ اس کے لیے ایک نئا جواز تلاش کر رہے ہیں، مگر یہ بات کوئی نہ کوئی جاننے والا ہے کہ یہ جانشین جنگوں کا سفر تھام سکتا ہے تو یا اسے ایک ایسا جواز پیش کرنا پڑتا ہے جو کہ امریکا کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے ہو،
یہ ایک خطرناک پٹرن ہے، پہلے پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے defenders کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور اب وینزویلا پر حملے کے defenders کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، یہ ایک خطرناک ماحول ہے جس میں کسی بھی ملک کو اپنا نئا شہر بنایا جا سکتا ہے اور اس طرح دنیا کو خطرے کے سامنے لایا جا سکتا ہے
ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملوں سے تعلق رکھنے والے صدر کی اہلیت کو حراست میں لے کر بھیج دیا جائے، اس سے پورا دنیا دیکھے گا کہ وہوں کون ہے؟ یہ صرف ایک سیاسی حملہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ وینزویلا کی آزادی اور اقتدار کو منسلک کرنے کی کوشش بھی ہوگی، امریکا کی جانب سے یہ ایک خطرناک عمل ہے جو دنیا بھر میں غصے پھیلانے والا ہوگا۔
یہ واضح طور پر ایک معتدل حربہ کی جانب کے ایک نئے نمونے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہاں امریکا کو بھی اپنی غلطیوں کے لیے ذمہ دار بنایا جاتا ہے، ان کی مداخلت سے وینزویلا کے اس معاشرتی نظام پر ایک نیا تباہ کن اثرانداز برپا ہو گئا ہے جو اس میں دوسرے ممالک کی مداخلت سے بھی کچھ نہ کچھ لگتا ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز کو تھوڑا بھی زیادہ حقیقت کا استعمال کرنا چاہیے، وہ اپنے ساتھ ان لوگوں کی بھی مدد کرتے جو اس معاشی نظام پر پریشانی اور تناؤ میں ہیں اور ان کو بھی ایسا ادراک کیا جائے جو وینزویلا سے ہو رہا ہے۔
یہ وینزویلا پر امریکی حملوں کا ایک اہم پٹا ہے، جو نئی یارک میئر ظہران ممدانی کی criticism سے بھی مشورہ دیتا ہے کہ اس سے وہاں کے شہریوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
میری خواہش یہ ہے کہ مگر اس پر انھوں نے جس سے انھوں نے صدر ٹرمپ کی سرزنش کی ہے وہی ہے جو پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کرتے ہیں۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی اس پر زور دیا اور انھوں نے صدر ٹرمپ کی سرزنش کی ہے کہ وہ اس سے جواز پیش کر رہے ہیں جو یوکرین پر حملوں کے دفاع میں پیش کرتے ہیں اور اقدامات کے بعد بھی ان کے خلاف criticism کو کم کرنے کی بات نہیں کر رہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، میرا خیال یہ ہے کہ اس پر انھوں نے کسی بھی ایسے جواز کی پیش کش نہیں کی جس سے وینزویلا کو بھی متاثر کیا جا سکے گا۔
یہ تو وینزویلا پر امریکی حملے کا ایک بڑا معاملہ ہوا ہے، مگر ایسے حالات میں یوکرین پر پیوٹن کی حمایت کیا جائے گا؟
یہ سچ میں وہی مسئلہ ہے جو دنیا کو دھکیلا دیا گیا تھا، ایک اور ملک نے اسی طرح کی مدد دی اور اب یہ یوکرین پر حملے کے دفاع میں آئے گا، مگر وینزویلا کو ان کے ساتھ ملنے کی لازمییت کیا؟
امریکی فوج نے ایسے حالات میں حملہ کیا تو یہ بھی ہمेशا سوال رہتا ہے کہ اس پر یوکرین پر حملے سے جواز کیوں پیش کیا جائے گا؟
یہ وینزویلا کے ساتھ یہی تھا جس پر وہوں سے ایسی خبراں اتنے زور دی جاتی ہیں اور اب وہاں صدر کو نئے یارک میئر نے سرزنش کی اور امریکی سینیٹر بھی ایسا ہی کیا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہوں سے جاتے ہوئے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہاں کی حکومت بلاشبہ ایسے سائنسی اور فوجی حملوں کا سامنا کر رہی ہے جیسے لوگ ہندوستان میں یوکرین پر امریکہ کی طرف سے حملے کو دیکھتے ہیں لیکن وینزویلا سے جاتے ہوئے لوگ اس میں ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جنگی اقدام ہے جو ہندوستان کے شہریوں کو بھی متاثر کرے گا اور اس پر لوگ صدر ٹرمپ کی سرزنش بھی کریں گے۔
وینزویلا پر حملوں سے بچنے کے لئے نہیں، بلکہ انہیں ایسا ہی جواز پیش کرتا ہے جس سے وہ اپنی پالیسیوں کو طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں। اس میں نہیں آتا کہ وینزویلا ایک محنت کش ملک ہے، بلکہ وہ ایک اور عالمی طاقت کی مخالف ہے!
وہ لوگ جو اس پر حملے کر رہے ہیں ان کا منصوبہ تو صرف یہ ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسیوں کو طے کرنے کی کوشش کریں، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ایک اور ملک بھوکے شہروں میں آ پڑتا ہے!
یہ بھی سوچتے ہیں کہ وہ اس پر حملے سے ان کے نئے دوستوں کو مایوس کرائیں گے، لیکن یہ صرف ایک زحمت بن گئے ہیں!
یہ کیا ہوا ہے؟ وینزویلا پر امریکی حملوں سے جواز بھی کبھی نہیں لاتا، اب وہ یوکرین پر پیوٹن کو جواز پیش کر رہے ہیں اور اب ان کا ایسا جواز ہی پیش کرتے ہیں جو نئی یارک کی شہریوں کو بھی متاثر कर دے گا? میرا خیال ہے کہ وہ اس سے اچھا پہلے لارٹیاں چلا کر نہ آئے ہوت۔
یہ تو ایک بڑا معذور کردار ہے کہ امریکی صدر نے ایسا جواز پیش کیا ہو جس سے وہ اپنے اپنے شہر میں حملے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور اب انھوں نے ایسا ہی جواز پہنا ہوا ہے، یہ تو معقول نہیں ہوگا کہ وہ اپنے جواز کو چیلنج نہ کریں اور اس سے ایسا ہی جواز پیش کر رہے ہیں جس سے وہ اپنے اپنے معاملات میں استعمال کرتے ہیں… یہ صرف انھیوں کی تیندلی ہے …
میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ وینزویلا پر امریکی حملے کی نائٹنیکنگ ہی ہے، پھر نئی یارک میئر کو بھی اس پر توجہ دلاتا ہے اور صدر ٹرمپ کی سرزنش کرتا ہے کہ وہ اس سے ایسا جواز پیش کرتے ہیں، یہ تو بھی نئی یارک کے شہریوں کو کچھ بھی بچانے کی امید ہے؟ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی بھی بات میں تو تھی، لاکین کیا انہیں نئی یارک کا شہر کو بھی ہمدردی کے ساتھ دیکھنا پڑے گا؟ یہ جہالت کی فہمی ہے کہ کیسے ایسا جواز پیش کیا جائے اور یوکرین پر پیوٹن کو حملے میں یہ جواز کس قدر موثر ثابت ہوتا ہے؟