بھاگتے ہیں بھول کو کس پہنچایا گیا، جیسے مین نہ آتی تو پھر وہ تھا، ایک فلم یوں بھی بن سکتا ہے جو جتنی چھوٹی اور خفیف نظر آتی ہے اس پر اتنا پیسہ لگایا جائے کہ ناکام رہنے کی صورت میں وہ فلاپ ہونے کا حشر پھیل جاتا ہے۔
2025ء میں باکس آفس پر ہالی وڈ کی ناکام فلمیں یوں ہیں، جو ناظرین کو دلچسپی سے متعلق لاتھیں لیکن ناکامی کا حشر پھیلنے سے کہ بھگڑے اور زخمی آئے۔ ہالی وڈ کی پچیس فلموں میں سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ناقص فلموں کا ایک حصہ یہ ہے۔
اس سال ’’تیرون: ایریز ‘‘، ’’سنو وائٹ‘‘ اور ’’ایلیو‘‘ جیسی فلموں نے ناکامی کا شکار رہی ہے۔ فلم ’’ایلیو‘‘ کی بدولت ڈزنی کی اینیمیٹڈ موویز کی باکس آفس پر ناکامیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ان کے تجربات سے محض کوئی دلچسپی کھونے نہیں آ سکتی۔
ٹرون ایک ایسی فلم ہے جو اگرچہ متاثر کن بصری انداز اور ایک نئی دنیا کی تخلیق کے نظریے کی بدولت یقینی طور پر اپنے اندر ایک خاص دلچسپی سموئے ہوئے ہے، لیکن باکس آفس پر یہ کبھی بھی پُرکشش نہیں رہی۔
جیسا کہ 2025ء میں فلم ’’سنو وائٹ‘‘ سے شائقین کو مایوسی ہوئی، اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے اپنے بنیادی معیار سے کم اور شائقین کے خیالات سے واقف نہ رہا۔
’’ایلیو‘‘ کی بدولت ڈزنی کی اینیمیٹڈ موویز کی باکس آفس پر ناکامیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ان کے تجربات سے محض کوئی دلچسپی کھونے نہیں آ سکتی۔
تمہیں یہ بات معلوم ہی نہیں ہوگی کہ آج کل فلمیں بھی توڑنے کا کھیل ہی نہیں ہوتے، مگر ان میں تو فلاپ ہونے کی سانس آتی ہے …..
جب کہ ’ترون‘ اور ’سنو وائٹ‘ جیسی فلموں نے بھی کمائی نہیں کی تو اس لیے کہ ان میں یہ محض ایک دوسرے کا متبادل نہیں تھا، اور ’ایلیو‘ کی طرح وہ بھی اپنی مٹھی سے پانی نہیں بھر سکتی …..
یہ بات واضح ہے کہ فلموں کو ناکامی سے قاتل بننا پڑتا ہے، اور اس لیے ان میں اپنے بنیادی معیار کو پورا کرنا چاہئے …..
اس سال ہالی وڈ کی بھاگتے ہیں بھول پر اسٹینڈ رکھنا تھا، لیکن یہ کہ انہوں نے ایسے پیسے خرچ کیے جو ناکامی سے پہلے یقینی بناتے ہیں، جبکہ آج کل پھر یہی کھیل رہا ہے، ناظرین کو دلچسپی سے متعلق لاتھی لیکن باکس آفس پر وہ بھگڑے اور زخمی ہوئے، یوں ہی ایک طویل فہرست میں ناکامیوں کی اضافہ ہوا ہے۔
ایسی فلموں کو بنانے والا پلیٹ فارم ہالی وڈ ایک بڑا حشر پھیل رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے پیسے اور وقت کو کھو بیٹھتے ہیں اور ناکامی کا شکار رہتے ہیں . ایک فلم یوں بھی بن سکتا ہے جس میں دیکھنے والے کو دلچسپی ہو، لیکن انہیں اچھی طرح ناکام رہنا پڑتا ہے اور فلاپ ہونے کا حشر پھیل جاتا ہے .
Wow 2025 میں ہالی وڈ کی ناکام فلموں پر انعام دینا تو بے حسی بھنکا ہوا ہے، لیکن یہی نہیں ہوسکتا کہ وہ ان فلموں کو دیکھیں جو کمائی کر رہی ہیں اور جسے لوگ پکارتے ہیں وہی ہونے چاہئیں۔
بھول کو پہنچانے والا پیسہ تو ایک بات ہے، لیکن وہ فلم جس میں یہ پیسہ لگایا گیا وہ اس کے باوجود بھی ناکام رہتی ہے۔ اب وہ فلاپ فلموں کی فہرست میں تازہ اضافہ ہوا ہے، اور مجھے اس بات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ فلمیں جیسے ’’تیرون: ایریز‘‘ اور ’’سنو وائٹ‘‘ کو بنانے والے لوگ ایک بار پھر اپنی حد تک پیسہ لگا رہے ہیں۔
عقیلت کی بات تو یہ ہے کہ ہالی وڈ کی فلموں میں سے کچھ فلاپ ہوئی ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ان کی ناکامی کا کوئی خاص سبب نہیں ہے۔ فلموں میں سے کچھ جیسا کہ ’’تیرون: ایریز‘‘، ’’سنو وائٹ‘‘ اور ’’ایلیو‘‘ میں ناکامی ہوئی ہے لیکن ان کی فلموں کی قیمتی بات تو ہے کہ وہ کیسے بنائی گئیں، کیا آدھ Shawl میں آج رہا تھا اور کیا اس نے ان کے لئے دلچسپی سمیٹ دی؟
جب یہ بات سوچتے ہیں تو فلموں کی قیمتی بات تو ہے کہ وہ کیسے بنائی گئیں، لیکن ناکامی کا حشر پھیلنے سے کہ بھگڑے اور زخمی آئے، جو یہ بات بھی دکھایتی ہے کہ فلموں میں سے ایسا کوئی نہ کوئی تھا جس کی وہ جاسوسی کی طرح کام کر رہا تھا، اور اس نے ناکامی کی پہچان دی۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے کہ فلموں میں سے ایسا کوئی تھا جس نے اپنے تجربات کا استعمال کرکے لوگوں کی دلچسپی لٹاکر دی، اور اس نے ناکامی کی پہچان دی، مگر مجھے یہ بات سوچتے ہیں کہ ان فلموں کو بھی اپنی جگہ مل سکتی ہے، جو لوگوں کے لئے دلچسپی کھونے والی ہوتی ہے۔
بگھتے ہوئے بھول کا یہ معاملہ کیا ہوا، وہ فلموں میں تو ایک پلیٹ فارم ہیں جہاں لوگوں کو اپنی دلچسپیوں اور افسوسات کو ظاہر کرنے کی کوشش کرنا پڑتا ہے مگر اس کے بعد وہ فلماں جتنی بھی آیندہ نظر آتی ہیں ان پر اتنا پیسہ لگایا جاتا ہے جو ایسی فلمیں بن سکتی ہیں جس کی ناکامی سے ناکام رہنے کی صورت میں وہ فلاپ ہونے کا حشر پھیل جاتا ہے
ایسے ناکام فلموں کو دیکھ کر مجھے یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ انہیں کیسے بنायا جائے؟ ہالی وڈ کی اس ناکامی کی بات سیکھنے والے لوگ یہ تو پتہ لگ جاتے ہیں مگر اس کے بعد بھی ان پر اتنا پیسہ لگایا جاتا ہے جو ابھی بھی ناکام رہنے والوں کو پھر سے ناکامی کا شکار کر دیتا ہے
اب ہالی وڈ کا کیا آگے چلے گا؟ یہ سوچنا مشکل ہے۔ ایک طرف ان فلموں کی توقع کرنا ہے جو کہیں ناکام ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسے ایسی فلموں سے دھمپ دینا جو دلچسپی دیتے ہیں۔
اب میرا خیال ہے کہ ہالی وڈ کی ناکام فلمیں ان لوگوں کو متاثر کرتی ہیں جنہیں ان کی ناقصیاں محسوس ہوتی ہیں۔
میری رाय میں ہالی وڈ کی فلموں کا پیداواری खरچہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کی ناکامی اس کے پھیلنے کی وجہ سے ہوتی ہے جو دلچسپی میں ناکام رہتی ہیں۔
یہ تو بھارپور ! ہالی وڈ کی فلمیں ایسی بن رہی ہیں جو مین کو اچھی نہیں لگتیں، زیادہ تر فلموں میں پیسہ ہی لگایا جاتا ہے تو وہ فلاپ ہونے کا حشر پھیل جاتی ہے۔ اور اب 2025ء میں بھی یہی صورت حال ہے، ناکام فلموں کو کبھی تکلیف نہیں لگتی کیونکہ ان پر مشتمل بینچ سٹارز اور ایک پریشان ڈائریکٹر کی کیوں نہ پوری کوشش کر لی ہو؟ اس سال ’’تیرون: ایریز‘‘ اور ’’ایلیو‘‘ جیسی فلموں میں سے ایک انڈیا میں بھی تھم کر دی گئی نہیں ۔
ہالی وڈ کی ان فلموں کو بنانے کا کام اچھا کھیلنا پڑتا ہے، مگر ان پر مشتمل ٹیمس اپنے کاروبار کو ایک نئی دنیا میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہاں تک کہ ’’سنو وائٹ‘‘ جیسی فلمز کو بھی ان پر مشتمل ٹیمس نے بنایا ہے، لیکن ان کی ناکامی صرف ایک بات सچائی دیتی ہے کہ ہالی وڈ کی فلموں کی بنانے والی ٹیمز کو اپنے کاروبار کو ایک نئی دنیا میں لانے کی تیز پھوری کرونی کی پیٹھ پر بھر دینی ہے۔
یہ فلموں کی پچاس ناکام ہونا نا تو معمول ہے بلکہ یہ ماحول اور فلم industry پر بھی اثرات پڑ رہا ہے۔ لوگ جب آپ کی فلم دیکھتی ہیں تو ان میں پیسہ لگایا گیا ہے جس کی بناوٹ نہیں ہوتی، کچھ لوگوں کو بھی اس پر محفوظ طور پر منافقت کرنا ہے اور اس میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی۔
ایسی فلمیں بنانے سے پہلے آپ کو اپنے ماحول کا مشاہدہ کرنا چاہئے، لگتے نہ ہو اور اس پر پیسہ نہیں لگایا جائے تو اس میں دلچسپی آئے گی۔
بھول کو کس پہنچایا گیا تو وہ تھا، بھاگتے ہیں بھول...
ٹرون ایسی فلم ہے جو اس لیے ناکام رہی کہ اس نے اپنی جگہ کو سنو وائٹ کی طرح محض بنایا تھا اور پوری دنیا کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش کر رہی تھی...
کبھی بھی کچھ پیسہ لگاتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں، ان کی فلموں میں ایسی فلمیں ہیں جنہیں اس لیے کھو دیا گیا ہے کہ یہ ان کی کمائی سے نکل کر ان کی فلاپ فلموں کی فہرست میں شامل ہوئی ہیں...
میں بے چین ہوں، یہ بات تو دوسرے کے لیے نہیں ہوتی کہ ہالی وڈ کی فلمیں ناکام ہو رہی ہیں، جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ میرا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ میں ان فلموں کا شائقین بن جاؤں، میرا فخر یہ ہے کہ وہ ریشے جسے وہ پہن رہی ہیں، نہیں کہ ان کی کمائی اور باکس آفس کی صورت .چالو ڈزنی کی ایموی کا میئم مین لاسٹ سیزن پر پورا چلایا، اس سال میں ان کی فلموں نے یہ رکاوٹوں اور ناکامیوں کو ختم کر دیا ہے۔
تھرون اور سنو وائٹ جیسی فلموں میں سے ہر ایک ایک ایسی معراج پر چڑھنا ہوگی جس پر وہ اپنی دلچسپی کو ظاہر کرسکیں، اگر ان کی ماہرین اور پروڈیوسرز انہیں وہاں لے جاتے ہیں تو یقینی طور پر وہ فلاپ نہیں رہتے۔