3 بہنوں نے 9ویں منزل سےچھلانگ لگا دی دلخراش واقعہ پر کہرام مچ گیا

انجینیئر

Well-known member
غازی آباد، اترپردیش - بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر غازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ایک گریل کی پناہی میں چھلانگ لگا کر 3 کمسن بہنوں نے خود کھونے کی کوشش کی۔ اس واقعے میں ان کی 9ویں منزل سے کود کر خودکشی کر لی گئی تھی، جس پر شہر میں سوگ کی فضا چھائی گئی ہے۔

بچوں کا ایک 8 صفحات پر مشتمل نوٹ سامنے آیا جس میں انہوں نے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی تھی اور وہ اپنے والدین سے معذرت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے،سوری پاپا۔

آپنے کمرے کی دیوار پر ایک جملہ لکھا گیا تھا جو میں بہت اکیلی ہوں۔ یہ واقعہ رات کو تقریباً 2 بجے پیش آیا تھا جب بچیاں ان کے کمرے سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق بچیوں نے آئی این ٹی میں گیمنگ کی لت ہونے سے متاثر ہوئی اور ان کی جان پر اسے دور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ فوجوں کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچیاں ایک آن لائن ٹاسک بیسڈ گیم کی عادی تھیں، جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی تھی۔
 
بچوں کو بھی ہمेशا اپنی محنتوں پر فخر کریں اور انہیں گیمنگ کی مایوس کی نہیں بنائیں … وہی تو دیکھنا تھا کے کیا ہوتا ہے جو کچھ لگتا ہے…
 
یہ واقعہ بہت ہی افسوسناک ہے …Kids ko internet pe kitna galat faisle hona chahiye? Unki lives ko kaisi zaroorat thi, unko papa aur mama ke saath samay bitana chahiye tha... Yeh game ki baat koi bhi bachcha nahi jaanta hai. Online games ko kids ko paalanane wala nahi hona chahiye…
 
ایسا کچھ ہوا ہے جو مجھے بھی غور کرنا پڑ رہا ہے، ان بچوں کو کیا شائقین ہوئے؟ انہوں نے ایک آن لائن گیم کھیل رکھا تھا اور اس کیaret لگی تھی، اب یہ کہیں چل گئی؟ انہیں کیا ہوا کہ وہ ایسے گیم کھیلنے پر بھی لگت دی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ گیمنگ کچھ لوگوں کو اچھا لگتی ہے، لیکن اب یہ 8 صفحات پر مشتمل نوٹ لکھ کر چھلانگ لگا کر خودکشی کرنا کیا ہوا؟
 
جب تک میں اس شہر کی پہلی بار آئی، تو مجھے یہاں ایک اچھی محبت اور خواہش کا احساس ہوا تھا۔ لیکن اب جب میں آپ کو پڑھنے والا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہے #سوریپاپا. یہ واقعہ ہمارے بچوں کے لیے ایک شدید وارننگ ہے اور میں اسے پھیلانا چاہتا ہوں کہ اپنی گیمنگ سرگرمیوں سے بچنا ہی بڑا کام ہے #ہمیشہپہلاؤ. اس واقعے نے ہماری ایک بھیڈ کو توجہ دenusا ہے۔ مجھے یہ واضح طور پر ہے کہ اگر آپ اپنے bachon ko online games dene ka fayda denge to unki life ek badi mushkilein se doosri padh jaati hai #bacho_ki_padosi_dil.
 
ہمارے یوں اس دuniya میں بھی کیا ہوتا ہے؟ ایک چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش تو ہوتا ہے لیکن ان گرییلز میں پناہ لینے والی بچیاں کو یہ اچھی نہیں لگتی تھی؟ کیا ان کی کچھ پہل کا اور کچھ کامیاب ہوا? مجھے بھی یہ سوالات آتے ہیں، سوری پاپا!
 
🤕 یہ واقعات ایک ہی گھر سے ہونے والا ہے، جس میں اب بھی والدین اور دوسرے رکن فمیلی کو یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ ابھی تو ہو سکتا ہے! میری ایسے بچے ہیں جنہیں گیمنگ لگن ہی نہیں، ان کو دیور کھیلنا ہی اچھا لگتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ والدین کو اس بات پر توجہ دینی چاہئیے کہ ان بچوں کی دوسری جانب کیسے دیکھنا چاہئیے، جو بھی کھیل رہے ہیں ان کے ساتھ کیسے بات کرنی چاہئیے۔
 
ਇਹ واقعہ بہت ہی کثرت ہے اور اس کی وجوہات پر تحقیق کرنا ضروری ہے. 😱
دنیا بھر میں بچوں کی جانوں کا یہ واقعہ ایک دیرپا پریشانی کی نشانہ ہے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر گیمنگ کرتے ہوئے دوسروں کے کام کو بھی اٹھانے لگتے ہیں. 📊
ایک جانب، ایسا مشاہدہ نافذ کیا گیا ہے کہ یہ چھلانگ لگنے سے پہلے ان کے والدین کے سامنے بھی ان کی جانوں پر اس کا اثر تھا. اور دوسری جانب، ایک جملہ اٹھایا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت یکوں میں لگتے تھے. 🚫
بچوں کی ایک جاننے والی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر گیمنگ سے متاثر ہوئے، اور اس لیے ان کی جانوں پر بھی اس کا اثر تھا. انھوں نے ایک آن لائن ٹاسک بیسڈ گیم کی لت لگا کر ایسی پریشانی پیدا کی جو ان کو خودکشی کے Thoughts کا شکار کردی. 💀
لیکن، اور تو یہ بات بھی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر گیمنگ سے متاثر ہوئے، لیکن اس کی وجوہات کو پتہ کرنا ضروری ہے. اور یہ بات بھی ہے کہ وہ اپنے والدین کے سامنے ان کی جانوں پراس کا اثر تھا. انھوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بعد ایسا نہیں ہوا جیسا کہ وہ چاہتے تھے. 🤔
ان تمام واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو انٹرنیٹ پر گیمنگ کی لت سے دور رکھنا ضروری ہے، اور ان کے والدین کو ان کی جانوں پر اس کا اثر رکھنے کی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے. 🚫
 
ایسا تو سمجھنا مشکل ہے کہ ایک آن لائن گیم کی عادی بچوں نے خودکشی کرنی جاری رکھی ہے؟ یہ کہیں سے آتا ہے کہ مچھلیوں میں بھی گیمنگ کی لیٹ ہو سکتی ہے؟
 
💔 یہ واقعہ بہت افسوسناک ہے، میری بات یہ ہے کہ شہرت اور معاشرتی دباؤ سے بچوں کی زندگی اس قدر ٹکراتی ہے کہ وہ خود کو پیداکش کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انھیں غلط فہمیوں سے بچانے اور ان کی منہ بکھرے جذباتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ صرف پARENTس بلکہ یہاں پولیس کے لئے بھی ایسی پالیسی تیار کرنی چاہیے جو انھیں آسانی سے نہیں دیکھ سکتی ہے۔
 
🤕😔 بے حوال نہیں کہی جا سکتی، ایک 8 سال کی بچوں کی جان کو دوسروں کا فائدہ اٹھانے کی جگہ سے لے کر غلطیوں میں گریٹ اُپلٹ کر رہی ہے۔ انہیں گیمنگ کی لت ہونے کا لطف لینے کا ایک آسان طریقہ نہیں چاہئیے۔ 9ویں منزل سے کود کر خودکشی کرنا، یہ تو صرف ایک بڑی غلطی ہے! 🤦‍♀️
 
ایم اے ڈی کے لئے ایک نوجوان بھنڈار چل رہا تھا جو گیمنگ سرگرمیوں میں اپنی ملازمت کا ایک حصہ ہونے کی کوشش کر رہا تھا 🤦‍♂️۔ ابھی پڑھ لیتے ہیں تو یہ بات بھی جھلکتی ہے کہ یہ لوگ اتنی حد تک متاثر ہوئے کہ ان کا کوئی مفاد اور زندگی سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ اس دuniya میں بچوں کو گیمنگ کی ایک عجیب لٹری ہے جس سے انہیں زندگی سے نجات کے لیے اور اپنی زندگی کے قیمتی منصوبوں پر فوج کرنے کی بھلائی کرنے سے بچا جا سکتا ہے۔
 
واپس
Top