37 سال کی نوکری میں ایسی آگ نہیں دیکھی جو بھاری شدت کے ساتھ 1200 سے زیادہ دکانیں تیزی سے جل گئیں۔ گل پلازہ جسے وہاتنی تیزی سے شعلوں کی لپیٹ میں آيا جس سے اس پورے شاپنگ پلازہ کو اپنے نچلے حصے پر ہموار کر دیا، یہ بھی کہا گیا کہ آگ کی شدت اتنی تھی کہ اس کے باعث دھوونے والے لوگوں کی حالت غیر ہو گئی۔
انکشاف محکمہ فائر بریگیڈکے چیف آفیسر محمد ہمایوں نے گل پلازہ میں دیکھا کہ 37 سال کی نوکری میں ایسی آگ نہیں دیکھی جو بھاری شدت کے ساتھ اس طرح جل گئی، جس کی وجہ کو یہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ گل پلازہ ایک 2 ایکڑ پر مشتمل بازار ہے جس میں 1200 سے زیادہ دکانیں تھیں، اور اس بازار کے اندر بھی کوئی نظام موجود نہیں تھا جو آگ پر قابو پانے کے لئے۔
چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو عابد جلال کانجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ریسکیو سروس نے 1122 اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد فائر فائٹر آگ بجھانے پر مامورتھے۔
ایسے ہی ہوا آگ کی لپیٹ میں 1200 کا بazar جلنا ہمت نہیں کرتی تھی… وہاں تمام دکانیں جل گئیں، لوگوں کی زندگی بھی ہلاک ہوگئی… ایسے سے ہوا کیا؟ ان لوگوں کو اپنی زندگی میں کچھ بھی نہیں رہ گیا… 1122 اور فائر بریگیڈ نے اسی 1200 دکانیں جلانے سے روکی، مگر یہ پورا شاپنگ سسٹم دھويا ہوا ہے…
ایسے میں تو یہ بہت گھبرا کر آ رہا ہے کہ گل پلازہ کیا تھا؟ اس کو 37 سال کی نوکری کے بعد سے بنایا گیا ہے، چلو جس نے ایسی آگ لگائی ہو، اب یہ بھی ہار جائے گا? میرا خیال یہ ہے کہ اس دکانیں بھی ہت سے جل گئی ہیں، لیکن پہلے ایک آگ لگنے والوں کو پچھا جانا پڑتا تھا؟ اب ان کی بات کیا ہونی ہے?
سورجے سے چمکتا ہوا ایسا لگتا ہے کہ آم تاروں میں سے کسی کی بھی نہیں دیکھنی پڑے گی جب اس میں ایک ہی بات دکھائی دی جائے... گل پلازہ کی آگ کے بارے میں یہ تو حقیقت سے جاننا مشکل ہو گئا ہے. کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ شاپنگ پلازہ میں بھی آگ لگی تھی، لیکن یہ بات تو انسانی ذہانت کی حد تک سمجھی جا سکتی ہے... 1200 دکانیں جل گئیں تو کیسے؟ کیا کسی نے آگ لگا کر ان دکانوں کو تباہ کرانا چاہیا؟ اس پر جو بات بھی کہی جائے وہ ہمیں اس بات سے واضح ہونے والی نہیں. اور تو یہ بھی دیکھنا مشکل ہو گئا ہے کہ کسی کو آگ لگائی تھی یا اس پر کوئی دوسرا مظالم جسے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا.
اس قدر بھوکم کی آگ جل گئی جو یہاں کے لوگوں کو کم از کم 2 دن سے تنگ کر رہی ہے، اس کا خلاف ورزی تو نہیں ہو سکا ہے کیونکہ اس آگ کے باعث دھوونے والوں کو ایسی صورتحال پہنچ گئی جس کا شکر ہلچل میں نہیں ہو سکا ہے. میٹروپولیٹن شاپنگ پلازہ میں یہ آگ بھاری شدت کے ساتھ جل گئی، جو کہ بھی دیکھا گیا تو اس کی تیزی سے وہ ہموار کر دی گئی، اور نتیجے میں ایسے لوگ ہلاک یا زخمی ہو گئے جن کے لئے یہ کچھ بھی چاہیے تھا. ان کے بعد وہ 12 دفعہ کی نوکری میں ایسی آگ نہیں دیکھی جس کی شدت اس طرح تھی، جو کہ لوگوں کو اپنی زندگی سے بچا کر دے.
ایک دیر کے لیے توجہ دینے کے بعد ایسا کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا، اور اب وہی پھر دھماکہ دیتے ہیں۔ گل پلازہ میں دھوؤنے والے لوگوں کی حالت انہیں سمجھنے میں بھی نہیں آ رہی کہ وہ آگ کے بعد کس صورتِ حال میں ہیں۔ یوں تو یہ سب تھوڑی سا پہلے ہی نہیں تھا جب 20 سال قبل ایک اسی طرح کی آگ نے دھماکیا۔
گل پلازہ میں ایسی آگ نہیں دیکھی جس کا ایک ہفتہ کی لمبائی کو لینا پڑتا! یہاں تک کہ محکمے فائر بریگیڈ کے چیف آفیسر نے بھی کہا کہ وہاں ایسی آگ نہیں دیکھی جو 37 سال کی نوکری میں اس طرح جل گئی! یہ سب کچھ تو حقیقی شocker ہے... 1200 سے زیادہ دکانیں جس میں کوئی نظام نہیں تھا اور ان دکنوں میں بھی کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ دھوونے والے لوگ اپنی حالت کھو گئے! آور یہ کہنا کہ فائر بریگیڈ کو 1122 اور ریسکیو سروس نے ایک ساتھ مامورتھے، تو یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔
یہ ایک بدترین واقعہ ہے جس کی وجہ سے بھی دکانیں تیزی سے جل گئیں، لاکھوں لوگوں کو اپنے ملازم اور اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے. گل پلازہ میں ایسی شدت والی آگ کی وجہ سے دکانیں جل کر شاپنگ پلازہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں، ایسا نہیں دیکھا گیا تھا کہ اس طرح کی آگ میں اچھا سے ختم ہونے کی صلاحیت تھی. ان کھوئی ہوئی دکانیں اور لوگوں کی غیرت یہاں تک پہنچی ہے جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں.
یہ تو واضح ہے کہ اس شاپنگ پلازے میں سافٹ ویئر نہیں تھا اور پھر بھی جل گئی؟ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل لگاتار محسوس کیا جا رہا ہے اور ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں مل سکا۔ دیکھتے ہیں تو پلازے میں دکانیں جلنے لگ رہی ہیں اور ان کے مالکان کو بھی کچھ نتیجہ نہ مل سکا۔ یہ بھی بہت غم آنا چاہیے کہ دھوونے والے لوگ اس واقعے کی وجہ سے ایسے معاملات سے دوچار ہوئے جو انہیں بے آداب اور غم گزاسٹا دیتے ہیں۔
بہت غصے کا احساس ہو رہا ہے ان دکانیں جل گئیں، آپ کو لگتا ہو کہ آپ کیسے بھاگتے? یہ بھی نہیں سمجھا جا سکتا کہ آگ کی شدت اتنی تھی کہ دھوونے والے لوگوں کی حالت غیر ہو گئی. یہ شاپنگ پلازہ کیسے ایسا بنایا گیا تھا؟ آگ کو قابو میں لانے کے لئے کوئی نظام نہیں تھا? 1200 سے زیادہ دکانیں جل گئیں، یہ بھی انفراسٹرکچر کی بدولت نہیں?
بہت بدقسمتی گل پلازہ میں ایسا واقعہ ہوا جو دیکھ کر ہمیں دم لگنے سے محروم رہیں گے 1200 سے زیادہ دکانیں تیزی سے جل گئیں، یہاں تک کہ ایسے حالات پیدا ہوئے جو کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا। انکشاف محکمہ فائر بریگیڈکے چیف آفیسر محمد ہمایوں نے کہا ہے کہ یہ ایسی آگ نہیں تھی جو 37 سال کی نوکری میں دیکھنے کو ملی، لیکن وہ بھی ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں جس سے اس بازار کو اپنے نچلے حصے پر لاکر رکھا گیا تھا۔ ایسی آگ کی شدت کی وجہ کیا؟ کتنے دکانیں جل گئیں اور کتنے افراد خطرے میں ڈالے گئے? یہ سب سچائیوں پر انحصار کر رہا ہے
ابھی ہفتے پہلے گل پلازہ میں دیکھا گیا تھا کہ آن لائن پہچان اور بھاپ کے ٹرانسفر کو کوئی نظام نہیں ہوتا، اب یہ سارے نظام ٹھوس آگ میں پھنس گئے ہیں تو اس پر ہمیں بات کرونا چاہیے کہ لین دین بھی ایسی ہی دھمکی دیتا ہے، ابھی میں 32 سال کی نوکری میں یہ ہوا تو پھر 37 سال کی آگ کیسے جل سکی؟
جب میں گل پلازہ کے حالات دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس شاپنگ پلازہ میں جاننے کی کوئی آوا نہیں ہے کہ آگ سے جلنا کیسے ہوتا ہے؟ ایسے میں تو دھوونے والے لوگوں کی زندگی کو کیا سمجھ لیا جائے گا ؟ گل پلازہ میں جاننے کے لئے میری نیند نہیں آتی ہے، مجھے یہ سوچنے پر آجازمی ہو رہا ہے کہ اس شاپنگ پلازہ کی دیکھ بھال میں کام کیسے کیا جائے گا ؟
اس دuniya میں پچیس سال کی ہمت اور محنتوں کے بعد گل پلازہ جس دکانیں تھیں وہ سب آگ میں جل گئیں تو اس پر غور کرنا چاہیے کہ ایسا کیسے ہو سکا؟ ان دکانیں پورے شاپنگ پلازہ کو اپنے نچلے حصے پر ہموار کر دیں اور اس کے لیے وہاں کی لائٹننگ اور کنٹرول کم تھی تاکہ دھونے والے لوگ اپنی زندگی کو پال سکیں تو یہ کیسے ہو سکا؟
اس دکانیں جلنے کا واقعہ تو چھپنا نہیں گی اور یہاں تک کہ 37 سال کی نوکری میں بھی اس طرح کی ایسی آگ دیکھنی پہ لائی جو سبھی غصے اور دھومت سے لھرک ہو کر رہ گئے یہ تو بہت کہلائڈا ہوا اور پوری دکانیں جلنے کی وجہ یہ نہیں تھی صرف ایک دھوونے والا جسے نہیں رکھنا پڑا تو آگ لگ گئی، یہ تو ہمیشہ اس بات کا سکواٹر بن رہا ہے کہ ماسٹر فائرو۔
اس میں کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ آگ بھاری شدت کے ساتھ 1200 سے زیادہ دکانیں جل گئیں? کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ ان دکانیں جل گئیں اور دھوونے والوں کی حالت خراب ہو گئی، لیکن اس کو proves نہیں ملا سکتا؟ میں چاہتا ہoon کہ میرے پاس یہ ثبوت ہوا تو میں بھی کہنا پاؤں گا کہ یہ آگ وہی تھی!
یہ بات تو واضح ہے کہ گل پلازہ میں ایسی آگ نے دیکھنی پہلی باری تھی، اس کی وجہ یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ 37 سال کی نوکری میں ان کی کارکردگی کتنی کمزور تھی۔ اس Market ko Dhadkan Nahi Thi (market ko آگ لگنے کی دھڑکن نہیں تھی) ! یہ تو ایک عجیب بات ہے، جو لوگوں کے جوش و خروش کو اور بھی بڑھا دیتی ہے!
agar yeh to gal plaza ki aag ke baare mein hai toh main socha tha ki yeh aur bhi jaldi se hi ho gayi. lagta hai ki fir bhi government koi cheez nahi ki kar rahi, bas dikhana hai ki unhe pata chalta hai jab kuch galat hota hai? agar wo 1200 se zyada dukaanein the toh yeh to achi tarah hi ho sakta tha. ab wo bhi galat ho gaya toh kya government ko is par jawab dena chahiye?
ایسا کہنا ہو تو 37 سال کی نوکری میں ان کو یہ بھی کرنی چاہئے کہ ایک ریکارڈ بنائیں جس میں ایسی آگ کی شدت سے بھی دھونے والوں کی حالت کو شامل کریں... ہمیں یہ پتا لگانا ہو گا کہ انہیں نا ہوا پر مبنی نہیں کیا گیا تھا، اور اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی گئی تو یہ بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایسے میں ایک ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہی تھا کہ 37 سال کی نوکری انہیں یہی بنائیں جس میں ان کو کام کرنے کی صورت سے بھگ پھرکنا پڑے اور دوسری بار وہ محض فوجی آگ بجھانے کا مامور بن گئے۔
اس کے بعد ان کو ہمیں پتہ چل گیا کہ ایک ہی جگہ پر 1200 سے زائد دکانوں کی آگ نہیں ہوئی...