40 ہزار بھارتی مزدوری کیلئے روس جائیں گے

کوئل

Well-known member
رواں برس 40 ہزار سے زیادہ بھارتی شہری مزدوری کیلئے روس جائیں گے۔ رواں سال کم از کم 40 ہزار بھارتی شہری مزدور روس آئیں گے اور ان کے ساتھ نئی دہلی میں بھارت کی حکومت نے روس کے صدر نالغا نام والے شخص سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے سے 70 سے 80 ہزار بھارتی شہری پہلے سے ہی روس میں کام کر رہے تھے لیکن وہ اسی ساتھ نئے معاہدے سے تعلقت پیدا کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت 2026 کے لیے 70 ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اور ان کی نقل و حمل میں واضح طور پر یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔

روس میں کم ہنر مند بھارتی کارکنوں کی ماہانہ اجرت پانچ سو سے 1,111 امریکی ڈالر کے درمیان ہوتی ہے جبکہ بھارت میں ان کی ایسی ملنے والی آمدن نہیں ہوتے۔

اس معاہدے سے روس کو بھارتی مزدوروں کی نقل و حمل کی اجازت ملی ہے اور ان کے لیے کام کے لیے روایات پیدا ہوئی ہیں اور یہ معاہدہ بھارت کو بھی فائدہ مند ہوگا کیونکہ اس سے وہ اپنی ناجائز مزدوریوں سے روک کر ان کے لیے کام کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہوگا۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاہدے سے روس کو بھارت سے زیادہ کام کی سائنس حاصل کرنے میں مدد ملے گی، لیکن یہ بات کیا جائے کہ مزدوری کیلئے روس جانا کچھ کامیاب ہونے والا نہیں ہے؟ میں کبھی بھارت میں رہا ہوں اور یہاں کے مزدوری کی سائنس کو دیکھا ہوں، وہاں کوئی کام کہنے والے کو اپنی مہنت میں سیریسٹل ٹیوب کیا کرتا ہے، یہ بھی ایک بات ہے جو میں اس معاہدے پر commenting کرتا ہوں، لہٰذا مجھے معلوم ہے کہ بھارت اور روس دونوں کو اس معاہدے سے واضح فائدہ حاصل ہوگا، لیکن میں یہ بتاتا ہوں کہ میرا دل راسخ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس معاہدے سے بھارتی شہریوں کو زیادہ مزدوری کی سائنس حاصل ہوسکتی ہے!
 
روس کی یہ معاہدہ بھارتی مزدوروں کو پھیلانے کے لیے بہت اچھی طرح سے لگ رہا ہے 🤔 70 ہزار کے قریب کارکنوں کو یہ معاہدے سے تعلقت پیدا کرنا کہیں نا جھیلنا ہوگا اور ان کی زندگی میں ایسا کچھ نئا لینے والا ہوگا जس سے یہ معاہدے بھی فائدہ مند proves ho jaye 🤑
 
یہ بھی ہوا کی بات ہے کہ اس معاہدے سے کیا فائدہ ہوگا روس کی جانب سے؟ یہ کہتے ہوئے جو بھی کمزور مزدوری ڈھانچے کو روک رہا ہے وہ اس معاہدے سے اس بات کا فائدہ اٹھای گا کہ وہ اپنی ملکیت کے مزدوروں پر کم اجرت دے گا۔

پہلے سے ہی روس میں کام کرنے والے بھارتی شہری 40 ہزار سے زیادہ ہیں اور ان کے لیے یہ معاہدہ ایک جتنی خوش خانی ہوگا جو اس بات پر مبنی ہے کہ ان کی ایسی مزدوریوں کو بھارت میں کام کے مواقع نہیں مل سکتے تھے۔

اس معاہدے سے یہ بھی بات ہے کہ روس کی جانب سے بھارتی مزدوروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ معاشرتی لाभ حاصل ہوگا۔
 
روس میں بھارتی کارکنوں کی معیشت کس حد تک متاثر ہوتی ہے؟ انہیں پچاس ہزار روپے سے پانچ ہزار روپے تک وصول کرلیا جاتا ہے؟ اور یہ معاہدہ ان بھارتی کارکنوں کے لیے کام کے مواقع پیدا کرتا ہے یا نہیں؟
 
یہ تو ایک بڑی بڑی کھوٹ ہے 🤯 روس کے صدر نالغا نے بھارت کو اپنی ملکی مزدوریوں کی فیکٹری میں داخلے کا معاہدہ کیا ہے اور اب ان سے پچاس ہزار تک بھارتی شہری مزدور روس جائیں گے... ایسے میں وہ اپنی ملکیت کی فیکٹریوں کو اس معیار پر لانے کا موقع دے رہے ہیں جس پر انھیں کام کرنے پڑ سکتے ہیں...
اس معاہدے سے نئے بھارتی مزدوروں کو روس کے شہر میں رہنا پڑے گا اور ان کی نقل و حمل پر یقین کرایا گیا ہے... اس نئی فیکٹری کے اندر انھیں بہت کم آدھن میں کام کرنے پڑ سکتے ہیں اور وہ اپنی ملکیت کو ایسی چیٹھاں پر لان رہے ہیں جس سے انھیں کارخانوں میں کام کرنے کے لیے ملتا ہو...
اس معاہدے سے بھارتی شہریوں کو نائٹ مائیڈر یا ایسے نئی واقفیت کی اجازت ملی ہے جس کے ساتھ انھیں اس معاہدے سے باہر کام کرنے میں رکھ دیا جائے گا...
 
روس کو اپنا فائدہ اور سہولت حاصل ہونے کا ایک نئا موقع ملا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا پثار نظر آ سکتا ہے اور اس معاہدے کی مدد سے وہ اپنے شہر کی معیشت میں اضافہ لانے کے لیے اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے.
 
روس نے بھارت کو 70 ہزار سے زیادہ مزدوروں کی تجاویز دی ہے جو پہلے سے ہی وہاں کام کر رہے تھے، اور نئے معاہدے سے ان کے ساتھ تعلقت پیدا ہوگی۔ یہ بات بھی نازک نہیں ہے کہ روس کی جانب سے اس معاہدے سے بھارت کو کیا فائدہ ہوگا؟

ان مزدوروں کو رکھنے پر روس نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کی ایسی ملینے والی آمدنی کے بغیر وہاں کام کر رہے ہیں اور ان کے لیے نئے معاہدے سے یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بھی ایک بات تو چیلنج کے طور پر آ رہی ہے کہ ان مزدوروں کو یہ کیسے نقل و حمل میں لایا جائے گا؟ نہ تو اس پر کوئی تفصیل دی گئی ہے اور نہ ہی یہ بات تھوری سے پہنچی ہے کہ وہ کیسے بھارت میں اپنی جانوں کا خطرہ لے کر کام پر آئیں گے؟
 
اس معاہدے کی واضح طور پر لائیں گے نئی دہلی میں مزدوروں کے لیے. روس کی ایسی سے 70 ہزار سے زائد بھارتی شہریاں پہلے سے کام کر رہی تھیں اور اب ان کی نقل و حمل میں یقین کا اظہار کیا گیا ہے.

تجربات سے بتاتا ہے نا کہ روس میں کام کرنے والی بھارتی مزدوروں کی ماہانہ اجرت پانچ سو سے 1,111 امریکی ڈالر تک ہوتی ہے۔ اب یہ نئی دہلی میں ان کے لیے یقین کا اظہار ہوا ہے.

اس معاہدے سے بھارت کو اپنی مزدوریوں کی نقل و حمل کی اجازت ملی ہے جو اس کی جانب سے کام کے مواقع پیدا کرنے میں فائدہ مند ہوگا.
 
روس جائیں گے تو بھارتی کارکنوں کو یہ معیار پہنچانا ہوگا کہ وہ روس میں کام کرنے کے لیے پہلے سے ہی تیار تھے، اب ان کی آمدنی کا نئا معیار ہوگا!
 
روسی معاشی نظام بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمیں اٹھائی بھی ہے اور جیسا کہ وہ اپنے مزدوروں کی نقل و حمل میں ایک حد تک یقین کرتا ہے تو ہم بھی ان کو اپنی ملکیت کے طور پر دیکھتے ہیں اور جب وہ اپنے مزدوروں کو اپنے ساتھ لے آتے ہیں تو ہمیں انہیں بھی اپنی ملکیت کا ایک حصہ سمجھنا چاہئیے
 
یہ تو بھارتی सरकार کی جانب سے ایسے معاہدے پر دستخط کئے جا رہے ہیں جیسے وہ خود کو دیکھ رہے ہیں مزدوروں کا حوالہ! روس سے 40 ہزار کے قریب بھارتی شہری مزدوری کیلئے جائیں گے اور ان کو بھی اپنے معاشرے میں آ کر کام کریں گے!

اس معاہدے سے بھارت کے لیے کچھ فائدہ ہوگا تو یقین ہے! ان مزدوروں کو پکڑ کر وہ اپنے مزدوروں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں اور انھیں کام کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں!

روس میں بھی ایسے معاشرے نہیں ہیں جو مزدوری کو اپنی سہولتیں بناتی ہیں وہ لوگ ہیں کہ جیسے ہو ایسا!
 
🤔 یہ معاہدہ تو بھی پچاس لاکھ سے زیادہ شہری مزدور روس جائیں گے، اس میں ایک اور برہم دھارنا ہوگیا ہے کہ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے اور نہیں چاہتے ہیں مگر ان کو بھی اس معاہدے سے تعلقات پیدا کرنا پڑ رہا ہے، یہ تو بھارتیوں کی ایک نئی روایت بن رہی ہے۔
 
اس معاہدے سے بھارت کو اپنی مزدوری کی ناجائزیتوں پر قابو پانے اور ان لوگوں کو کام کے مواقع دینے میں فائدہ ہوگا 🌟 اور اس طرح روس میں بھی کام کرنے والے بھارتی کارکنوں کے معاشرتی طور پر بہتر تعلقات بنائے جا سکتے ہیں 🤝
 
روس اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ تو دیکھیں ہی نہیں، جیسا کہ یہ بتایا گیا ہے 40 ہزار سے زیادہ بھارتی لوگ روس جانے والے ہیں اور ان کی نقل و حمل پر یقین ہو گا، اس معاہدے سے روس کو بھی فائدہ ہوگا کہیں تو کم اخراجات پہنچ جائیں گے یا تو بھارتی مزدوروں کی مدد سے اس کی کارکردگی میں ترقی آئے گی، یہ معاہدہ اس بات کو بھی سمجھاتا ہے کہ کم ہنر مند مزدوروں کو بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے، یہ معاہدے کے ذریعے ہر طرف پر ایک نئی کارکردگی کی شروعات ہوگی।
 
یہ معاہدہ تو دیکھنا تھا اور نہیں سا، یہ پچاس ہزار بھارتی شہری روس جائے گا اور ان کی جتنی ملنے والی آمدن ہو گی، وہ اسی کے برعکس دیکھنا دیے گا۔ پچاس ہزار شہری روس جانے کے لیے نکلنے کی جگہ ان میں سے جو تین ہزار بھی رہتے ہیں، اب وہ پچاس ہزار میں شامل ہو کر ایک اور معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔
 
<3️👀 روس کی شہری مزدوری کیلئے پھر سے 40 ہزار سے زیادہ بھارتی مزدور آئیں گے! 😂💼 70 ہزار سے زیادہ کا معاہدہ تو کرلیا گیا ہے لیکن پانچ سو امریکی ڈالر کی ماہانہ اجرت، وہ جو انھیں روس میں کام کرنے پر ملا! 🤣

روس نے بھی اس معاہدے سے فائدہ اٹھایا ہوگا؟ نہیں تو کیسے? 😜

<3️👀 روس میں کام کرنے والی بھارتی مزدوریوں کی جگہ نئے مزدور آئیں گے! 🤯 2026 میں بھی اس معاہدے سے 70 ہزار سے زیادہ بھارتی مزدور روس میں کام کریں گے! 😂
 
یہ معاہدہ بھارت کو 40 ہزار سے زائد مزدوروں کی فک्र میں لے جا رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے ناجائز مزدوروں کی ساری شخ بھوک پر پڑیں گی 🤑
 
یہ بھارتی شہریوں کو روس جانے کی بات تو اچھی نہیں ہے، انہیں اپنے ملک میں کام کا مواقع بنانے کی جگہ دینی چاہئے
 
🤔 یہ بھی دیکھنا کہ روس کے اس معاہدے سے ان کی مزدوری پر کوئی نقصان نہ ہونا چاہیے... وہ بھی اپنے شہریوں کے لیے کام کے مواقع پیدا کرنا چاہیں، اور انھیں بھی ایسی معاوضت دی جائے جو ان کی زندگی میں معاون ہو... 🤑
 
واپس
Top