60 ہزار سال پرانے زہریلے تیر دریافت

فوٹوگرافر

Well-known member
جنوبی افریقہ میں دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیر دریافت ہو چکے ہیں، جس کی عمر تقریباً 60 ہزار سال ہے۔ یہ Discover News کی رپورٹ سے مشہور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیریا نسل کی پتھر کے اس دور کی شکار کی تقنے فنکشنز ہیں جو قدیم زمانے سے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ دریافت کوازولو ناٹل میں ایک پرانے چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے تیریا سے لی گئی ہے۔ محققین نے ’’جفبول‘‘ نام کے ایک زہریلے پودے کی کیمیائی باقیات کو تلاش کیا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں۔

یہ پودے دنیا میں قدیم ترین زہریلے تیریا میں سے ایک مانتے ہیں اور اس کی موجودگی کا یہ پہلا کھانے والا نام لگایا گیا ہے۔ محققین کا مشاہدہ یہ ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے شکاروں میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کی گئی تھیں اور اس سے یہ نتیجہ Nik ہیٹس لگایا گیا ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔
 
اس پرانے چٹانی پناہ گاہ سے نکلنے والے تیریا کو لینے کے بعد 60 ہزار سال کی عرصہ کی معلومات مل گئیں، تو اس بات کا بھی کوئی عجیب نہیں کہ دنیا کی سب سے پرانے زہریلے تیریا میں سے ایک یہ ہے؟ یہ محققین کی تلاش سے لگایا گیا ہے جو ’جفبول‘ نام کے زہریلے پودے کو دیکھتے ہیں جسے شکاروں کے لیے استعمال کر رہے تھے؟ وہ اس بات کا بھی علم رکھتے تھے کہ یہ پودا دنیا میں سب سے پرانا ہے اور اب تک کسی نے اس کی موجودگی کو سمجھا نہیں ہوا؟ محققین کی جانب سے لگایا گیا یہ نام بھی ایک نتیجہ ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے لوگوں کو بھی پتا تھا کہ شکاروں میں اس جگہ میں یہ زہریلے مواد استعمال کیے جاتے ہیں? اور یہ محققین کی جانب سے لگایا گیا کہ دنیا کے قدیم ترین تیریا میں سے ایک یہ ہے؟ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہوئے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے لوگوں نے زہریلے مواد کی معلومات حاصل کر لی تھیں۔
 
اس معاملے کی بات کرتے ہوئے، مجھے یہ سوال اٹھانے پر کچھ استحکام نہیں مل رہا کہ کیسے یہ محققین کو صرف ایک پرانے چٹانی پناہ گاہ سے یہ کامیابی حاصل ہوئی؟ دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی ترقی کی وجہ سے پتھروں کو 60 ہزار سال اور اس سے اوپر بھی تیزاب دیا جاتا ہے، تو کیسے یہ محققین کو صرف ایک پرانے چٹانی پناہ گاہ سے یہ کامیابی حاصل ہوئی؟
 
😊 یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ جنوبی افریقہ میں دنیا کا قدیم ترین زہریلے تیر دریافت ہو گیا ہے، جو تقریباً 60 ہزار سال کی ہے! یہ بھی منفرد بات ہے کہ اس تیریا کی کیمیائی باقیات کو ایک زہریلے پودے سے ملنے والے تیریا سے تلاش کیا گیا ہے جسے روایتی شکاری استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ ان سب لوگوں نے 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے شکاروں میں زہریلے مواد اور اس کے استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں! یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ 60 ہزار سال قبل ان لوگوں نے اپنے جीवन کو یوں بنایا تھا جو اب تک پوری دنیا میں موجود ہے!
 
اس-news میں یہ بھی ہو گیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال کی عمر کی قدیم ترین زہریلے تیریا دریافت ہوئی ہے اور اس پودے کو ’جفبول‘ کہا جائے گا۔ یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اس پودے کی موجودگی میں شکاروں کی بھی تبدیلی آئی ہے جو ایک فنکشن کے طور پر کام کر رہا ہے اور اس سے یہ بات بھی نکلتے ہیں کہ قدیم زمانے میں شکاروں کی موجودگی میں ایسی تبدیلیاں آئیں ہیں جو 60 ہزار سال قبل اس خطے کی آبادی کو اچھی طرح معلوم تھیں 🤔
 
چلو اس بات کو پہلی طور پر سمجھیں کیا یہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے شکاروں میں استعمال ہونے والے زہریلے تیریا کا ایک نئا نام لگایا گیا ہے یا اس کا مطلب یہ ہی کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے شکاروں میں انھیں استعمال کرنا ایک نئا بات بن جائیگی؟ مینے پکھا ہوا کہ اس کی موجودگی کی یہ information دنیا کے لیے نئی نہیں ہوگی، دنیا بھر میں شکاروں میں انھیں استعمال کرنا ایک اسی بات ہوگی جس کے بارے میں 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے شکاروں نے اپنی information حاصل کی تھی، مگر یہ بھی بات بھی ہوگى کہ یہ information دنیا کے لیے کتنی اہم ہوگی؟
 
آج کی دنیا میں یہ بات کو نہیں سمجھنا چاہئے کہ انسانوں نے صدیوں سے ہی اپنے آس پاس کیThings کا انحصار تیریا اور اس جیسے زہریلے پودوں پر رکھا ہوتا ہے۔ یہ بات اتنی عجیب نہیں ہے کہ ان لوگوں نے اس کے استعمال سے قبل بھی اسے استعمال کیا ہو گا۔ اور اب جب ایسے پودے کی دریافت ہوئی ہے جو تقریباً 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ میں استعمال ہوتے تھے تو یہ بات بھی اتنی عجیب نہیں ہے کہ ان لوگوں نے اس کا استعمال کیا ہو گا۔
 
بہت دلچسپی کا کام ہے South Africa 🌳 میں 60,000 سال پہلے Zehreel Tir (ایک ایسی پودے کی موجودگی) دریافت ہو گئی ہے جو دنیا کے قدیم ترین Zehreel Tir ہونے کی حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ محققین نے Nik Heets پر کامیابی سے Search Kar Liya hai! 🔍

اس پودے ki kisi cheez ko search karne par Unhone Discover News ki report se mashhoor ہua hai jo ke Batata hai ki yeh paheli terai nassl ki pattar ke asal mein shakar ki cheez hoti hai jo sabse pehle 60,000 saalon pahle istemaal hui thi. 🤯

Yeh Paheli kahe Wazolo Natal me ek purani chatni pahanch gaya hai jaha se Unhone "Jebol" nam ki zehreel pudi kee cheez ko search kiya hai jo sabse pehle kisi bhi region me istemaal hua hai aur ab tak istemaal hua hai. Yeh Pudi ki Cheez ko yah naya naam Diya Gya hai "Jebol" jo ke world me sabse pahi paheli zehreel tir mein se ek manti hai. 🌟
 
یہ جاننے والا ہو گا کہ جنوبی افریقہ میں یہ پودے 60 ہزار سال قبل موجود تھے اور شکار میں اس کا استعمال بھی تھا۔ یہ بات صاف ہے کہ انسان نے 60 ہزار سال قبل اپنی ترقی کے لیے اس پودے سے لطف اندوز ہو کر شکار کی بنیاد رکھی تھی اور اب بھی یہ پودا شکار کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ ایسا تو چیلنج ہے کہ انسان نے اسے ابھی تک استعمال کر رکھا ہے اور جب تک انسان نے یہ پودا استعمال کیا ہے وہیں یہ ساتھ ہوا ہے۔
 
یہ کوازولو پناہ گاہ کا ایک باقیہ تیریا سے لینے والی رپورٹ تو انسانی تعقمی نہیں ہوگی، اس سے قبل یہ زہریلے مواد صدیوں سے استعمال ہوتے تھے اور اب بھی جفبول پودے کا استعمال چٹانی شکاروں میں ہوتا رہا ہے۔ میری بات یہ ہے کہ یہ جاننے کے لیے کہ کس پودے سے 60 ہزار سال قبل شکاروں میں اسے استعمال کیا جاتا تھا، ان معیاروں کو صدیوں سے ابھی بھی نہیں لگایا گیا ہے۔
 
اس Discovery News کی رپورٹ سے مندرجہ ذیل پودے کو 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ میں استعمال کیا جاتا تھا؟ یہ بتایا گیا ہے کہ ایک چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والی تیریا کی شکار کے اس دور کی فنکشنز میں جفبول نام کا زہریلا پودہ شامل ہوگا؟
 
"آپ کی آنکھوں سے آپ کو پتا ہوتا ہے کہ دنیا کتنا بڑا اور عجीब جھگڑا ہے۔" 😮
 
یہ پتھر کا پودا 60 ہزار سال قبل بھی اس پر چڑھا رہا تھا... ڈسکवरى میں اچھی لگ رہی ہے، واضح کر دیتے ہیں کہ پرانے شکار کو کیسے مار دیا جاتا تھا 🤯
 
اس discovering ki baat toh bahut interesting hai! 60 हजار سال purani hai yeh discovery, jo kaafi ancient hai. toh kya log isse ek bada saavdhan nahi hain? yeh tiriya se le li gayi thi jo ek paheli ho rahi hai. zehreeli tiriya ki baat toh bahut complex hai, aur isse experiment karne ke liye koi bhi taraha ka manoranjan nahin hota.
 
یہ بات یقینی طور پر بھارتی ہوگی کہ جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال پورے انسائنس سے قبل زہریلے تیریا کی موجودگی اور استعمال کے بارے میں یہ شاندار وہی نتیجہ Nik ہیٹس نے لگایا ہے۔ ابھی تک سائنسی کمیونٹیز نے بھی یہ بات سمجھنی پہلی کوشش کی تھی، لیکن یہ جاننے میں کچھ اور لگا ہے کہ ان کو کیسے استعمال کیا جاتا تھا اور اس کا معتدل پودے کا نام یزولے نھیں ہوتا بلکہ ’‘جفبول‘‘ ہوتا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال قبل موجودہ دور سے بھی پہلے، انسان نے زہریلے مواد اور شکار کی استعمال کو اپنی شان میں جانا تھا۔
 
50 ہزار سال قبل یہ پودا کبھی بھی سونے کو چھوٹا کیا ہو گا؟ یا اس نے صرف ایک روز یہ معاملہ سمجھ لیا ہو گا؟ ان باتوں پر کام کرنا محسوس کرنا difficult hai.
 
یہاں تک کہ جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال کی عمر کے زہریلے تیریا دریافت ہو چکے ہیں، یہ تو ایک دلچسپ خبر ہے...

لیکن آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس وقت کی شکاروں میں ان تیریا کا استعمال کرنا ایسی کہ جس سے انسان کو بھگڑا ہوا اور ایک دوسرے پر قبضہ کیا... یہ سارے لوگ اپنی زندگیوں میں ایسے کام میں ہی لگاتے تھے جو انسان کو انسان سے ہٹا کر ایک دوسرے پر قبضہ کرنے کے لیے پریشانیوں پہنچاتے تھے...

ایسا تو لگتا ہے کہ یہ زہریلے تیریا کوستومIZیشن کی ایک پوری تاریخ ہوگی... اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کے منزلوں میں بھی ایسی تبدیلی آئی جس نے انسان کو دوسرے انسان سے ہٹا کر انہی تیریا اور اس سے تعلق رکھنے والی ترتیباتوں کا شکار کردیا...
 
یہ محض ایک بات ہے کہ پتھر کی عمر لگائی گئی ہے، لیکن اس سے کچھ نتیجہ نکلتا ہے؟ یہ بھی کیا کہیں اور پھونکا جائے کہ یہ 60 ہزار سال قبل استعمال کی گئی تھی، لیکن ان 60 ہزار سالوں میں کیا ہوا؟
 
یہ لگتا ہے کہ انسانیت نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور ابھی بھی ان میں سے ایک 60 ہزار سال قبل کی شادی کی پٹی سے باقی رہ گیا تیریا ہے... لگتا ہے کہ یہ انتہائی دلچسپ Discovery News کی رپورٹ سے ملا ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیریا نسل کی پتھر کے اس دور کی شکار کی فنکشنز ہیں جو قدیم زمانے سے استعمال ہو رہے ہیں... یہ پودے دنیا میں قدیم ترین زہریلے تیریا میں سے ایک مانتے ہیں اور اس کی موجودگی کا یہ پہلا کھانے والا نام لگایا گیا ہے...
 
ایسا ہی ریکارڈ مل گیا ہے کیوں نہ?! جنوبی افریقہ میں ایک پرانے چٹانی پناہ گاہ سے بھی ایسا ہی ریکارڈ ملا ہے جس سے یہ بات قائم ہوتی ہے کہ انسان تھوڑی سا وقت باقی رکھتا ہے۔ لاکھ لاکھ سال پرانے فیلڈ میں سے بھی یہ نتیجہ نکلا ہے جس کے بعد انسان کو اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کتنے سارے سالوں میں یہ ایسا کر چکا ہے اور جتنی بھی قدرتی شانداری انسان کی دنیا کو نجات دہندہ بناتی رہے گی۔
 
واپس
Top