پانی پوری لور
Well-known member
بریلی سے ایک واقعہ سامنے آیا جو 9 سال تک چلتا رہا جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی تھی اور شادی کے بعد بھی اس نے بدل دھندلی ہو کر اپنے شوہر جیوتی کے ساتھ خودکشی کر دی۔
جیوتی کی شادی بریلی میں 25 نومبر کو ہوئی جس میں دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ جتیندر اور جیوتی کا رشتہ 9 سال تک چلتا رہا جو اس کے بعد یہ رشک میں آ گیا کہ اس نے اپنی بیوی سے پیسوں پر تنازعہ شروع کر دیا اور جیوتی کی ایک لاکھ روپے کی رقم کو جان چلی گئی تھی۔
جتیندر بریلی کے انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتا تھا اور جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں تھی۔ جتیندر کی بیوی جیوتے نے اپنے شوہر سے رقم کے بارے میں سوال کیا تو اس پر جھگڑا شروع ہو گیا اور شادی کے بعد 2 ماہ میں یہ رشتہ بدل دھندلی ہو کر خودکشی کی طرف ایکڑا دیا۔
جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا تو جتیندر کے والد نے اس پر ہاتھ پاؤں پکڑ لیے اور جیوتی کا گلا بھری رکھ دیا۔ اس وقت کالچرل شہر بریلی کی گرِجا شنکر کالونی میں واقع یہ جگہ ان جوڑے کی کراۓ پر تھی۔
جیوتی نے اپنے والد اور بھائی کو فون کر کے گھر بلایا تو اس وقت جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور جیوتی کے والدین اور بھائی نے جیتندر کو دبائا، وہ ہاتھ پاؤں پکڑ لیتا۔
اس کے بعد جتیندر ایک مفلر کی مدد سے گلا دبایا اور اپنا جسم ایک فٹو رپورٹ میں لٹاک دیا، تو اس کے بعد ان کو خودکشی قرار دیا گیا لیکن بعد میں اس نے پوسٹ مارٹم کرایا جس پر یہ ڈرامہ بدل دیا۔
جتیندر کی مریمت کی وجہ یہی نہ تھی کہ وہ اپنی بیوی سے پیسوں پر تنازعہ شروع کر دیا تھا، مگر یہ بھی ایک رشک تھی۔ جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی سے لاکھ روپے کی رقم لینے کا وعدہ کیا لیکن اس پر انہوں نے یقینی طور پر ایک لاکھ روپے دینے کو انکار کر دیا، مگر جتیندر اور جیوتی کا تعلق طالب علمی کے زمانے سے تھا۔
جیوتی کی بیوی ہی نے یہ رشک پکڑنے میں کامیابی حاصل کی، اس نے بتایا کہ جتیندر کے غصے میں وہ اس نے فریڈم کو قبول کرنا اور اپنے شوہر سے لاکھ روپے کی رقم لینے کا وعدہ دھلایا تھا جو اس نے اپنی جان پریتی نہیں دینے پر راض تھا۔
جتیندر بریلی میں کام کر رہتا تھا اور جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں تھی۔ اس کے بعد ہاتھ پاؤں پکڑنے، جھگڑے اور خودکشی یہ سب ایک سلسلہ ہی تھا جو اس نے شادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اپنی بیوی جیوتی کے ساتھ شروع کر دیا تھا۔
جیوتی کا بھائی دیپک اور اس کی والدین اور دوسرے رिशادار ہی نے جتیندر کو دبایا، وہ اپنا جسم لٹاکنے کے بعد جانچ پڑتال میں آنے پر شہری گھروں اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔
جیوتی کی شادی بریلی میں 25 نومبر کو ہوئی جس میں دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ جتیندر اور جیوتی کا رشتہ 9 سال تک چلتا رہا جو اس کے بعد یہ رشک میں آ گیا کہ اس نے اپنی بیوی سے پیسوں پر تنازعہ شروع کر دیا اور جیوتی کی ایک لاکھ روپے کی رقم کو جان چلی گئی تھی۔
جتیندر بریلی کے انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتا تھا اور جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں تھی۔ جتیندر کی بیوی جیوتے نے اپنے شوہر سے رقم کے بارے میں سوال کیا تو اس پر جھگڑا شروع ہو گیا اور شادی کے بعد 2 ماہ میں یہ رشتہ بدل دھندلی ہو کر خودکشی کی طرف ایکڑا دیا۔
جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا تو جتیندر کے والد نے اس پر ہاتھ پاؤں پکڑ لیے اور جیوتی کا گلا بھری رکھ دیا۔ اس وقت کالچرل شہر بریلی کی گرِجا شنکر کالونی میں واقع یہ جگہ ان جوڑے کی کراۓ پر تھی۔
جیوتی نے اپنے والد اور بھائی کو فون کر کے گھر بلایا تو اس وقت جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور جیوتی کے والدین اور بھائی نے جیتندر کو دبائا، وہ ہاتھ پاؤں پکڑ لیتا۔
اس کے بعد جتیندر ایک مفلر کی مدد سے گلا دبایا اور اپنا جسم ایک فٹو رپورٹ میں لٹاک دیا، تو اس کے بعد ان کو خودکشی قرار دیا گیا لیکن بعد میں اس نے پوسٹ مارٹم کرایا جس پر یہ ڈرامہ بدل دیا۔
جتیندر کی مریمت کی وجہ یہی نہ تھی کہ وہ اپنی بیوی سے پیسوں پر تنازعہ شروع کر دیا تھا، مگر یہ بھی ایک رشک تھی۔ جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی سے لاکھ روپے کی رقم لینے کا وعدہ کیا لیکن اس پر انہوں نے یقینی طور پر ایک لاکھ روپے دینے کو انکار کر دیا، مگر جتیندر اور جیوتی کا تعلق طالب علمی کے زمانے سے تھا۔
جیوتی کی بیوی ہی نے یہ رشک پکڑنے میں کامیابی حاصل کی، اس نے بتایا کہ جتیندر کے غصے میں وہ اس نے فریڈم کو قبول کرنا اور اپنے شوہر سے لاکھ روپے کی رقم لینے کا وعدہ دھلایا تھا جو اس نے اپنی جان پریتی نہیں دینے پر راض تھا۔
جتیندر بریلی میں کام کر رہتا تھا اور جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں تھی۔ اس کے بعد ہاتھ پاؤں پکڑنے، جھگڑے اور خودکشی یہ سب ایک سلسلہ ہی تھا جو اس نے شادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اپنی بیوی جیوتی کے ساتھ شروع کر دیا تھا۔
جیوتی کا بھائی دیپک اور اس کی والدین اور دوسرے رिशادار ہی نے جتیندر کو دبایا، وہ اپنا جسم لٹاکنے کے بعد جانچ پڑتال میں آنے پر شہری گھروں اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔