بریلی میں ایک شادی کے بعد شہدت میں دلہن نے شوہر کو موت سے بچا دیا، پولیس نے مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے
شادی کی ایسی کہانی جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی تھی، اس میں بدل کر فرتن اور لالچ کا ڈرامہ چلنا شروع ہو گیا۔ 33 سالہ جتیندر کمار یادو اور ان کی اہلیہ جیوتی کی شادی 25 نومبر 2025 کو ہوئی تھی، لیکن اس شادی کے بعد سے جسم گرانے کا ماحول بن گیا تھا۔
شادی کے چند ہفتوں بعد ایک پیسوں کے تنازعے نے شادی میں دراڑیں پڑنی شروع کر دیں، جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوائے اور یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا، جس کی وجہ سے جیوتی کو ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہوا تھا۔
اس کے بعد بات بڑھتی بڑھتی جھگڑے ہوئے اور تلخی بڑھتی گئی، محبت کی رشتہ بداعتمادی میں بدلنے لگی۔ جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا، جس پر بات بڑھتی بڑھتی جھگڑا ہوا اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔
جب جیوتی نے اپنے والد کالی چرن، والدہ چمیلی اور بھائی دیپک کو فون کر کے گھر بلایا تو جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور پولیس نے شادی میں مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے۔
جیوتی اور اس کی جماعتی فوجیوں نے اپنے شوہر کا گلا دبایا اور جتیندر نے حرکت بند کر دی اور جان چلی گئی، پولیس کو بتایا گیا کہ وہ آون لائن جوئے میں 20 ہزار روپے ہار گئے تھے۔
جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے پولیس میں شکایت درج کرائی تو پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور شادی کی تاریخ پر ایک نئی تاریخ لگا دی گئی، جس کے بعد پتہ چل گیا کہ اس شادی میں قتل ہوا تھا اور جیوتی کو مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے گئے۔
جیوتی نے جرم قبول کر لیا تھا اور بتایا کہ وہ اور جتیندر طالب علمی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اس نے پولیس کو بتایا کہ مالی جھگڑوں نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا اور وہ ایک انتہائی قدم اٹھایا تھا۔
بریلی میں یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک تلخ سبق ہے کہ غصہ، لالچ اور تشدد مل کر محبت کی سب سے مضبوط کہانی کا گلا کیسے گھونٹ دیتے ہیں؟
شادی کی ایسی کہانی جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی تھی، اس میں بدل کر فرتن اور لالچ کا ڈرامہ چلنا شروع ہو گیا۔ 33 سالہ جتیندر کمار یادو اور ان کی اہلیہ جیوتی کی شادی 25 نومبر 2025 کو ہوئی تھی، لیکن اس شادی کے بعد سے جسم گرانے کا ماحول بن گیا تھا۔
شادی کے چند ہفتوں بعد ایک پیسوں کے تنازعے نے شادی میں دراڑیں پڑنی شروع کر دیں، جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوائے اور یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا، جس کی وجہ سے جیوتی کو ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہوا تھا۔
اس کے بعد بات بڑھتی بڑھتی جھگڑے ہوئے اور تلخی بڑھتی گئی، محبت کی رشتہ بداعتمادی میں بدلنے لگی۔ جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا، جس پر بات بڑھتی بڑھتی جھگڑا ہوا اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔
جب جیوتی نے اپنے والد کالی چرن، والدہ چمیلی اور بھائی دیپک کو فون کر کے گھر بلایا تو جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور پولیس نے شادی میں مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے۔
جیوتی اور اس کی جماعتی فوجیوں نے اپنے شوہر کا گلا دبایا اور جتیندر نے حرکت بند کر دی اور جان چلی گئی، پولیس کو بتایا گیا کہ وہ آون لائن جوئے میں 20 ہزار روپے ہار گئے تھے۔
جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے پولیس میں شکایت درج کرائی تو پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور شادی کی تاریخ پر ایک نئی تاریخ لگا دی گئی، جس کے بعد پتہ چل گیا کہ اس شادی میں قتل ہوا تھا اور جیوتی کو مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے گئے۔
جیوتی نے جرم قبول کر لیا تھا اور بتایا کہ وہ اور جتیندر طالب علمی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اس نے پولیس کو بتایا کہ مالی جھگڑوں نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا اور وہ ایک انتہائی قدم اٹھایا تھا۔
بریلی میں یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک تلخ سبق ہے کہ غصہ، لالچ اور تشدد مل کر محبت کی سب سے مضبوط کہانی کا گلا کیسے گھونٹ دیتے ہیں؟