9 سال کی محبت کے بعد شادی 2 ماہ بعد ہی دلہن نے دولہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا

آرٹسٹ

Well-known member
بریلی میں ایک شادی کے بعد شہدت میں دلہن نے شوہر کو موت سے بچا دیا، پولیس نے مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے

شادی کی ایسی کہانی جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی تھی، اس میں بدل کر فرتن اور لالچ کا ڈرامہ چلنا شروع ہو گیا۔ 33 سالہ جتیندر کمار یادو اور ان کی اہلیہ جیوتی کی شادی 25 نومبر 2025 کو ہوئی تھی، لیکن اس شادی کے بعد سے جسم گرانے کا ماحول بن گیا تھا۔

شادی کے چند ہفتوں بعد ایک پیسوں کے تنازعے نے شادی میں دراڑیں پڑنی شروع کر دیں، جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوائے اور یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا، جس کی وجہ سے جیوتی کو ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہوا تھا۔

اس کے بعد بات بڑھتی بڑھتی جھگڑے ہوئے اور تلخی بڑھتی گئی، محبت کی رشتہ بداعتمادی میں بدلنے لگی۔ جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا، جس پر بات بڑھتی بڑھتی جھگڑا ہوا اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

جب جیوتی نے اپنے والد کالی چرن، والدہ چمیلی اور بھائی دیپک کو فون کر کے گھر بلایا تو جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور پولیس نے شادی میں مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے۔

جیوتی اور اس کی جماعتی فوجیوں نے اپنے شوہر کا گلا دبایا اور جتیندر نے حرکت بند کر دی اور جان چلی گئی، پولیس کو بتایا گیا کہ وہ آون لائن جوئے میں 20 ہزار روپے ہار گئے تھے۔

جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے پولیس میں شکایت درج کرائی تو پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور شادی کی تاریخ پر ایک نئی تاریخ لگا دی گئی، جس کے بعد پتہ چل گیا کہ اس شادی میں قتل ہوا تھا اور جیوتی کو مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے گئے۔

جیوتی نے جرم قبول کر لیا تھا اور بتایا کہ وہ اور جتیندر طالب علمی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اس نے پولیس کو بتایا کہ مالی جھگڑوں نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا اور وہ ایک انتہائی قدم اٹھایا تھا۔

بریلی میں یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک تلخ سبق ہے کہ غصہ، لالچ اور تشدد مل کر محبت کی سب سے مضبوط کہانی کا گلا کیسے گھونٹ دیتے ہیں؟
 
شادی میں ایسا نہیں ہونا چاہیے جب محبت سے بنائی گئی کہانی اس جہت پر تبدیل ہو جاتی ہو۔ اس کے بعد شادی میں لالچ اور غصہ کیسے شامل ہوتا ہے؟ یہ شادی ایک نئی کہانی نہیں تھی جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی تھی بلکہ ایک منٹ کی غلطی سے ایک تلخ درجہ تک پہنچ گیا۔
 
یہ واقعات بھی تو شادی کا ایک منظر ہیں، لیکن یہ اس کی پوری تاریخ کو دیکھنا ہوتا ہے۔ شادی میں محبت کا روایتی ہے لیکن یہ محبت کس طرح ناکام ہوسکتی ہے؟

جتنے چارے اور لالچ کی وجہ سے محبت کمزور کر دیتی ہیں، جتنے گھریلو معاملات کو ایک سیاسی لڑائی کا جھنکاؤ بنا دیتے ہیں اور جتنا ہٹانے والے سے پہلے محبت کی نہیں کی جاسکتی۔

یہ سارے واقعات پہچانتے ہی ایک تلخ सबق کے طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی نہیں کہ شادی اور معاملات میں عادلیت اور تعاون کی سب سے اہمیت کیا جاسکتی ہے۔

آئے دن ایسا ہو گا جب اس شادی کی تاریخ پر ایک نئی تاریخ لگائی جائے گی اور یہ شادی محبت پر بننے والی کہانی کے طور پر دیکھی جا سکے گی، لیکن اب تک یہ سبق ہی پڑا ہوا ہے کہ غصہ اور لالچ سے محبت کو توڑنا پڑتا ہے۔
 
اس شادی کے بعد جس چیلنج اور تلخی نے شادی کے بچے کو تیز کیا ہے، وہ صرف ایک ممکنہ حقیقت ہے کہ پریشانیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کمزور ہوتی جاتی ہے۔

اس واقعے نے شادی میں موت، بدلائی محبت اور مجھول ہاتھ پاؤں پکڑنا کے واقعات کو یقینی بنایا ہے۔

جب محبت ایک رشتہ بھی نہیں بلکہ ایک ساتھی کے طور پر کی گئی تو اس سے اسے تیز کرنا کیسے چاہئیے؟
 
اس واقعہ نے مجھے اس بات پر فخر دلائی کہ شادی کے بعد بھی جتیندر اور جیوتی کی محبت اس قدر کمزور ہو گئی تھی کہ وہ ایک پیسوں کے تنازعے میں ان کے درمیان تلخ رشتہ بدلنا شروع کر دیا تھا।

جب محبت کی جگہ غصہ اور لالچ لگی، تو اس نے شادی کی ایسی محنتوں اور بے پریشانی کے پہلے سے واقف ہونے والی جتنی بھی کوئی چIZ کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لایا، تو اس نے جو ان کے درمیان لالچ کی تاریک لہر لگائی وہ یہ ہی تھی۔

جتنی بھی محبت تھی، جتنا بھی پیار تھا، اس نے محروما وغیرت کے ماحول کو اپنایا۔
 
اس شادی کی تاریخ پر ایک نئی تاریخ لگائی جائے گی تو وہ حقیقت سے پوری نہیں ہوگی. اس واقعے کا یہ نتیجہ نہیں لگتا کہ شادی میں قتل ہوا تھا اور جیوتی کو مجھول ہاتھ پاؤں پکڑ لیے گئے. اس واقعے سے تعلق رکھنے والی تمام فوجیوں کے لئے یہ ایک عارضہ ہے۔
 
واپس
Top