گاڑی یا موٹر سائیکل پر PRESS لکھوانے والوں کو جرمانہ ہوگا, صحافیوں کیلئے اہم احکامات جاری

گیمر

Well-known member
بھارتی ریاست تلنگانہ میں حکومت نے ایک بڑا قدم چڑھایا ہے۔ اب وہیں سے لے کر گاڑیاں تھیں جن کے پاس سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ نہیں تھے اور ان لوگوں پر پریس یا पریس ٹی وی س्टیکرز لگانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

سرکاری محکمہ معلومات نے ریاست بھر میں تمام ضلعی عوامی رابطہ افسران کو ایک نیا اہم احکام جاری کیا ہے جس سے اس وقت تک گاڑیوں پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان لگانے والوں کی صرف وہیں صحافیوں کو اچھے درجے کی اجازت ہو سکتی ہے جن کے پاس انہیں ملنے والا سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ موجود ہو۔

بھارتی حکومت نے اس قانون میں کسی بھی شخص کو ایسا لگانے پر پابندی دی گئی ہے کہ جس کے پاس حکومت کی جانب سے جاری شدہ اکریڈیٹیشن کارڈ نہیں ہو۔

اس معاملے میں ریاستی محکمہ معلومات نے نئے احکامات کا اعلان کیا ہے جس سے اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں کو وہیں گاڑی یا موٹر سائیکل پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان لگا سکے گا۔

بھارتی حکومت نے اس قانون کی وجہ سے بتائی ہے کہ گاڑیاں تھیں جس پر ان کے اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں کو ایک سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ نہ ہونے سے بغیر اجازت لگانے والے لوگوں پر پابندی ہو گئی ہے اور وہ ان کے قانون کے خلاف بھی نہیں سکتے تھے جو اس وقت تک لागو ہوا ہے جب ان کے پاس یہ اکریڈیٹیشن کارڈ نہیں تھا۔

اس سلسلے میں ریاستی محکمہ معلومات نے ایک اعلان جاری کیا ہے۔ اس اعلان میں بتایا گیا ہے کہ اس قانون کو لागو کرنے کے بعد اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں کو وہیں گاڑی یا موٹر سائیکل پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان لگا سکے گا۔

حکومت نے اس قانون کی وجہ سے بتائی ہے کہ جب کسی شخص کو سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ ملتا تھا تو وہ اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں پر پابندی لگا دیتا تھا۔ اس کے نتیجے میں وہیں لگاتار گاڑیاں لگائی جاتی ہیں جن کے پاس انہیں ملنے والا سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ موجود نہیں تھا۔
 
یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ مگر ان گاڑیاں جو لگائی جارہی ہیں وہ کیسے لگائی گئیں؟ کوئی نہیں کہتا کہ ان کی پوری جائیداد Government ke kai steps ko follow kar rahi hain, baki bas ye toh sirf yehi hai ki unki gariyon ko government ka official sticker lagaya jaye.
 
ایسا تو سچ ہو گا کہ لوگ اس law کے بارے میں چیلنج کریں گے، کیونکہ یہ law government کے pass karne والوں کو galati dhang se nahi lagta ہو گا اور media ko bhi zyada control karna pasand nahi hogi 🤔
 
سچ منے تو یہ اچھا حوالہ ہے کہ ان لوگوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جو بلا کرونٹی پروفائل سے ملازمت کر رہے ہیں اور وہ صرف اپنے ساتھی صحافیوں کو ایسا لگا سکیں گے جو ان کی یہ دھالت جانتے ہیں #ہرکسیچیزسچھے #پریسمینافوریٹی #سچمنے
 
ایسا دیکھنا ہی ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنی پرانے نئی پالیسیوں کی ہم آہنگی کرنے کے لیے یہ قدم उठایا ہے۔ اب یہیں سے لے کر ان لوگوں پر پریس ٹی وی کارڈ لگانے کی پابندی لگا دی گئی ہے جو اس کے پاس نہیں تھے۔ لیکن یہ सवال کیا جاسکتا ہے کہ اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں کو صرف وہیں گاڑی لگائی جا سکتی ہے یا ان سے زیادہ ذاتی اہتمام کرنا بھی نہیں کیا جاسکتا؟
 
بھارت میں حکومت کی یہ نئی پالیسی ایک اہم بات ہے جو لوگوں کو سوشل میڈیا پر بھرپور مہسوسیت کا باعث بن رہی ہے... 😂 اور انٹرنیٹ پر تھوڑا سا ایفเฟकٹ بھی دیکھنا پڑتا ہے...
 
اس نئے قانون کے بارے میں، مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک آسان اور سفید معاملہ ہوگا۔ اب جب لوگوں کو سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ مل جائے گا تو وہ اپنی گاڑیاں تھیں ایسے لوگوں پر پابندی لگانے کا کہ جو انہیں ملنے والا اکریڡیٹیشن کارڈ موجود نہیں ہو، اس سے وہ لوگ اپنی گاڑیاں اچھی طرح لگائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ حکومت نے ایسے لوگوں پر پابندی لگانے کی کوئی وجہ نہیں دی ہے جو انہیں ملنے والا اکریڈیٹیشن کارڈ موجود نہیں ہو، لیکن اب وہ لوگ اچھی طرح لگاتار گاڑیاں لگائیں گے تو یہ بہت چکیں گا۔
 
ہمیشہ سے لگتا tha کہ اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان لگانے پر پابندی لگائی جائگی، لیکن اب حکومت نے خود کو ایک نیا قدم چڑھایا ہے اور اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں سے وہیں لگاتار گاڑیاں لگانے پر پابندی لگی ہے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے لیکن کچھ بات یہ ہے کہ یہ قانون کس کی پیروی کرے گا؟
 
اس قانون کی وجہ سے پریس ٹی وی سٹیکرز کے لگنا ہو گیا ہے تو بھی وہیں لوگ اس پر اچھی طرح پابندی کی نہیں، یہی تو ایک حقیقت ہے کہ یہ قانون گاڑیاں تھوڑی سے بھی تھیں جن کے پاس اچھے درجے کی اجازت نہیں تھی لیکن اب وہیں لگاتار ہی گاڑیاں لگائی جاتی ہیں۔ ایک منظر اس پر یقین رکھنا مشکل ہے کہ اس قانون سے گاڑیوں پر پریس ٹی وی سٹیکرز لگانے والوں کی تعداد میں کمی آئے گی، زیادہ تر لوگ اب وہیں لگاتار گاڑیاں لگائیں گے۔
 
اس معاملے سے اس بات کو سمجھنا ہوتا ہے کہ ابGovernment بھی وہیں لگاتار گاڑیاں چلو گیا ہے جن پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان نہیں تھا ... اور یہ دیکھنا ہوا گیا کہ اب ان لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا پیا ہو گا... 😒

ابGovernment نے ایک نیا قانون لागو دیا ہے اور اب وہیں سے لے کر گاڑیاں چلو گیا ہے جن کے پاس سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ نہیں تھے... اور پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہیں لوگ ان پر پریس یا پریس ٹی وی کا نشان لگائیں... اور اب اس طرح کے لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا پیا ہو گا... 🚗

ابGovernment نے بتایا ہے کہ جب کسی شخص کو سرکاری اکریڈیٹیشن کارڈ ملتا تھا تو وہ اچھے درجے کی اجازت حاصل کرنے والوں پر پابندی لگا دیتا تھا... اور اب اس طرح کے لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا پیا ہو گا... یہ ایک نئا معاملہ ہے اور اب Government اپنے Law کے مطابق چلو گیا ہے... 🚫
 
ایسا تو پتہ چل گيا، اب لوگ حقیقی ایڈیسونز ہی لگاتار رکھنے کا عزم کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ اپنی گاڑیاں نہیں چھوڑتے، پھر بھی یہ بات یقیناً سچ ہے کہ ان لوگوں کو ایسا لگنے کی اچھائی ہے یا نہیں؟

ایسا کیا توقع کرتے تھے؟
 
واپس
Top