اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی دھرنا ختم، اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ | Express News

ادبپرست

Well-known member
رولپنڈی میں باقیہ ملکی قدامت پسند تحریکیں اڈیالہ جیل سے دور ہو گئیں
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مل کر اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے دھرنے کو ختم کر دیا۔

اس دھرنا میں وہ راتوں تک ماحول میں آگ لگانے، پوسٹرز چھپایا، اور کارکنان کے ساتھ نعرے بازی کی تھی۔ باوجود یہ دھرنا تین دن تک جاری رہا، لیکن گزشتہ دو دن سے اس میں شریک ہونے والی کارکنوں کے بڑھنے کی وجہ سے ان کے تعداد میں کمی دیکھنا پڑا ہے۔

سورس سے ملتا ہے کہ پوسٹر چھپائی جانے اور نعرے بازی سے بعد میں گھنٹوں تک واپس جانے لگے تھے، جو دھرانے میں شریک ہونے والی کم تعداد کی وجہ ہوسکتی ہے۔

اس دھرنے کا انعقاد اس وقت کیا گیا جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ ایک گھنٹے سے اپنی گاڑی میں رہے تھے اور اس کے بعد ہی دھرنا ختم کر دیا گیا۔

اس معاملے پر پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ قانونی راستے پر چلے گا، جس لیے انھوں نے صبح اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کرنا ہوگا۔

اس دھرنے کے دوران تین کروڑ سے زائد لوگوں نے شرکت کی، جس میں پولیس اور انتظامیہ نے وضح تین لاکھ کے لیے پتہ لگایا تھا۔
 
🤔 اڈیالہ جیل سے دور ہو گئے وہ قدامت پسند تحریکیں جو روپنڈی میں تین دن تک دھرنا کر رہی تھی، اب ختم ہو گئی ہے۔ یہ ایک متعلقہ باتیں ہیں جس پر ابیں لوگ اچھا نظرانداز کرتے ہیں، لیکن وہی سوال ہے کہ اس دھرنے میں نئی جنسیت کی سہولتیں لائی گئی تھیں؟ کیا انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں ایک نئا عمل شروع کر دیا ہے؟ 🤷‍♂️
 
اس دھرنے کی سرگرمیوں کو کبھی بھی چھوڑنا ہی نہیں چاہئیے، اس کے بعد کیا کرنا پگا؟ وہ لوٹرے بن گئے اور پولیس ایسے دھرنوں میں شریک ہونے والے لوگوں کی چھاپی جاری رکھتی ہے۔ یہ ان کے لیے نئی شوق ہوگی، کچھ لوگ یہ دھرنا بننے اور پولیس کا سامنا کرنے سے بڑی خुश ہوئے اور اب اس کو اپنی شوق میں بدل گئے ہیں۔
 
اس دھرنا ہونے والی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز اٹھائی جب وہ سب زیادہ ترثاقت پسند تحریکوں کا شکار تھا اور دھرنا ختم کرنے والے نے ان لوگوں کو ایک بڑے پیمانے پر لینے کی کوشش کی ، اس کے بعد وہی لوگ ڈھانپ گئے ہوں گے ۔
 
علاوہ ازیں ڈالہ جیل سے باہر آنے والا دھرنا منظرنما تھا، لیکن وہی دھرنا جو پتہ لگاتے وقت اس کے ساتھ نہیں آتا ۔ یہ تو بہت عجیب ہے کہ ان لوگوں کو جس کی وجہ سے وہاں تین دن تک جانا پڑتا تھا وہی دھرنا ڈالہ جیل سے باہر آنے کے بعد تو اس میں شریک ہونے لگتے ہیں۔ یہ نہ صرف عجیب ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ وہ لوگ جو اس کے ساتھ جانے والوں میں سے بنتے رہتے ہیں، اب ان کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
 
یہ معاملہ کچھ دلچسپ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ رولپنڈی میں اڈیالہ جیل سے باہر آنے والے دھرنا کی واضح بات ہوئی ہے، اس میں تقریباً تین کروڑ لوگوں نے شرکت کی ہے اور یہ واضح بات ہے کہ وہ اپنے حقوق کی وکالت کر رہے ہیں، مگر یہ بات بھی ضروری ہے کہ پوسٹر چھپائی جانے اور نعرے بازی سے بعد میں واپس آنے کا مسئلہ تو حل ہو گیا ہے لیکن اس کے پیچھے کیا واقعات تھے، ان باتوں کو واضح کروانا ضروری ہے۔
 
मیرے ہی ساتھیوں نے رولپنڈی میں اچھے لوگ بھی دھرنا شروع کیا ہے تو یہاں پھر وہاں کے کارکن نے اسی طرح کا دھرنا شروع کیا ہے تو میرے لئے یہ بات اسٹاپ کرنی چاہیے لیکن مجھے یہ بات متھوں سے نکل رہی ہے کہ اچھے لوگ بھی دھرنا شروع کرتے ہیں تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ میرے پاس یہ بات بھی تھی کہ میں اس کا حصہ لے گا لیکن مجھے اب یہ واضح ہوا ہے کہ جب تک یہ دھرنا نہیں ہوتا تو میرا کوئی کام نہیں ہوگا
 
یہ واضح ہے کہ ایک جیل سے باہر دھرنا ایک بڑا معاملہ ہے اور اس میں ان لوگوں کو شامل ہونا جو پوسٹرز چھپا رہے ہیں وہ اس جیل سے باہر رات کچھ ہی وقت کے لئے نکلتے ہیں، یہ ماحول میں آگ لگانا ایک بڑا معاملہ ہے اور اس پر پوری دنیا کی توجہ مل گئی ہے، اب وہ لوگ جو دھرنا ختم کرنے کے لیے لینے گئے تھے ان کا تعداد کمی ہونے سے پتہ چل رہا ہے کہ اب ان پر توسیع کرنے کی کوئی اور واضح نہیں، یہ دھرنا جاری رہا تھا اور اب اس میں شریک ہونے والے لوگوں کا تعداد میں کمی ہوئی، یہ معاملہ ایک حقیقت ہے کہ اب اس پر پوری دنیا کی توجہ مل گئی ہے اور وہ لوگ جو دھرنا ختم کرنے لائے تھے ان کا معاملہ اب ایک عجيب معاملہ بن گیا ہے۔
 
عہد جدید میں ڈیٹنگ اور شادی کے بارے میں ایک نئی دuniya ہوگی، یہی وہ دھرنا تھا جو رولپنڈی میں پھلایا گیا، لگتا ہے ہمیں لوگ آج بھی ان کے ماحول میں آگ ہونے کی دیکھنا نہیں پڑ گئی ۔
 
یہ تو بہت عجیب ہے کہ لوگ ایسے دھرنوں میں شرکت کرتے ہیں جس میں وہ راتوں تک آگ لگا دیتے ہیں اور پھر واپس چلتے ہیں! کیا یہ لوگ بھागدادی ہیں؟
اور تین کروڑ سے زیادہ افراد نے شرکت کی، لہٰذا یہ کہتے ہیں لوگوں کو ملاپ اور مواقع میں نا موثر ہونے پر تھوڑا سا مظاہرہ کرنے کی پوزیشن مل گئی ہے!
 
اس وقت تک کے ڈرامے اڈیالہ جیل پر نہیں ہو سکتے جو ان کارکنوں کو یہ بات یقینی بناتا ہے کہ وہ اپنے حق میں لڑ رہے ہیں اور اس وقت تک وہ جھیل پر قائم نہیں ہو سکتے، چाहے وہ سہیل آفریدی کے دور میں کیا جائے۔
 
ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں تو یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اب لوگ کوئی چیلنج نہیں کرنا پڑتا ہے، وہ اپنی آواز اٹھانے کے لیے ڈھانچے کی تلاش دیتا ہے جس سے وہ اپنے مشن کو اچھی طرح پورہ کر سکے۔

اس معاملے میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اچھی طرح کوشش کی ہوگی، اب یہ دیکھنا ہی دلچسپ ہوگا کہ انھوں نے کیا فیصلہ لیا گیا ہے؟
 
بھائیو ایسا ہی رولپنڈی ہوگا، جیسا کہ سب نے دیکھا ہے کہ جب کوئی دھرنا ہوا تو پھر اس کی چھت بھی اچھی طرح ٹٹ گئی… اب یہ سے بات کرنے کا معاملہ ہوگا کہ کون سی کارکنیں شام کو واپس آئیں گی؟
 
یہ سب سے اچھی چیٹ رہی ہے کیوں کہ وہ بچھڑا ہوا دھرنا پوری نہ ہونے دیں گے، یہ سب کو پٹیشن میں لینے والا وزیراعلیٰ کی اہلیت پر سوال ہے کہ وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، اس کی ناکام ہونے کی صورت میں یہ پتیشن کھو جائے گا، اور وہ لوگ جو انھیں معاف کرنے والے ہیں وہ بھی چٹکارے ہیں
 
کسی بھی تحریک سے تعلق رکھنے والوں کو اڈیالہ جیل پر نوجوانوں کے دھرنا سے متاثر ہونے کا محسوس ہوتا ہے، مگر یہ واضح ہے کہ اس معاملے میں پتہ نہیں لگایا گیا تھا۔ سارے کارکنوں نے اپنی جان اور جائیداد بچانے کی کوشش کی۔ وہی کہلا رہا ہے جو پتہ چلتا ہے کہ تین دن تک دھرنا چلا تو اس میں کوئی ناکام نہیں رہا، مگر یہ واضح ہے کہ پچاس لاکھ سے زائد لوگوں نے ڈھرنے میں شرکت کی ہوگی۔
 
واپس
Top