بانی پاکستان تحریک انصاف کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دیا گیا دھرنا ختم کر دیا गया। یہ مضمون ماربل فیکٹری کے مقام پر جاری تھا، جس پر علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی موجود تھیں۔
ذرائع کے مطابق دھرنے میں صرف 10 سے 15 افراد شریک تھے، لیکن پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا کوئی رہنماء موقع پر موجود نہیں تھا۔
دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی، اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی، جس کے بعد تحریک تحفظاعین پاکستان کے ترجمان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری دھرنے میں پہنچے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنما محمود اچکزئی کا خصوصی پیغام لے کر پہنچے تھے۔
علیمہ خان، حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری سے بات چیت کے بعد دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئیں، جس کے بعد دھرنا باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی گاڑی منگوا لی گئی تھی اور وہ کچھ دیر بعد چند کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔ علیمہ خان دھرنا ختم ہونے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئیں۔
یہ نئی بات تو منظور ہو گی کہ دھرنے سے پہلے کی صورتحال بہت بھیڑ لگی تھی... اچانک 10-15 افراد کو بھیج کر ہی وہاں شanti ہو گئی... یہ تو ناجائز ہے کہ دھرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی نوجوانوں کو استعمال کیا جائے... یہ چیلنج ہے، لاکھوں لوگ پورے ملک میں اٹھتے ہیں تو ان پر بھی نظر انداز کرنا نہیں چاہیے...
یہ بہت اچھا نتیجہ ہے... جو لوگ مظاہرے کرتے ہیں وہ سب جانتے ہوں گے کہ ان کی بات کو کوئی بھلائی سے نہیں لے گا... یہ مظاہرہ صرف دیکھنے والوں کی رائے پر ہار جاتا... اور وہ لوگ جو اس کے خلاف انٹرنیٹ پر لکھتے ہیں وہ سب سچ کے مخالف ہوتے ہیں...
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دھرنا چلانے والوں کے وکالت کی ایک بہت ہی مہم تھی، لیکن اچنا حقیقت کو نہیں بتایا گیا ۔ دھرنے سے قبل اور اس کے بعد کی صورت حال کے بارے میں پوری تصور کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دھرنا صرف ایک چپٹی رہی تھی جو لوگوں کی توجہ اور دلچسپی کو حاصل کرنے سے پہلے نہیں چلی سکتی ۔
اس بات پر واضح طور پر بات چیت کی گئی، لیکن ایک سوال بھی ان کا نہیں جو لگتا تھا کہ دھرنے میں صرف 10 سے 15 افراد شریک تھے؟ اس بات کو تو یقین رکھنا مشکل ہو گئا، کیونکہ پوری مہم کی منصوبہ بندی کچھ نہ کچھ میں ہوئی تھی۔
اس واقعات پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب دھرنا ختم ہو گئا تو علیمہ خان کی گاڑی منگوا لی گئی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس وکالت کرنے کے لئے کوئی مقصد تھا؟
دھرنا ختم ہو جानے کی صورت میں اچنا حقیقت کو دیکھنا مشکل ہو گئا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس مہم نے اپنے مقصد تک پہنچانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی نوعیت کی سرگرمی میں بھی وکالت کرنا ہو گیا، جو نہیں کہی جائے گا۔
یہ خبر تو کچھ بھی نہیں ہو رہی، اڈیالہ روڈ پر دھرنا ختم ہو گیا اور پھنسنے والی بہنیں واپس چل گئیں... لگتا ہے جیسے یہ ایک دھرنا تھا جو ہمیشہ ہو گیا تھا....police ko bhi nahi mila, to kya woh koi darna nahi the?
یہ بہت اچھی نویں ہوگئی، تقریباً 80 فیصد لوگ اس منصوبے کا دکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ تین مشہور شخصیات کی موجودگی سے زیادہ اچھا نہیں تھا، اور یہ سب ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر 10 سے 15 لوگوں کے دھرنے میں شامل ہوئے تھے، اور پوریProcedure کو لالچ نہیں لینے والا، دھرنا صرف ایک گھنٹہ سے زیادہ کھلا رہا، اور ٹریفک بھی یوں ہی چلا گیا جیسا کہ پہلے کیا تھا
یہ دیکھا جاتا ہے کہ ماربل فیکٹری کے مقام پر اور تھرن پر 10 سے 15 افراد کیوں اور اس طرح کی کمی میں ٹھوس مواقع کی طرف بڑھنا چاہتے تھے؟ یہی نہیں، اس کا تعلق تحریک انصاف کے رہنماوں سے نکلتا ہے۔ ان کی مرکزی قیادت میں کوئی نہیں تھا اور وہ ہمیشہ دیکھتے آئے کہ کچھ لوگ ان کے حامی ہوکر ان کے لئے ہمیشہ کوشش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس سے ہر رکاوٹ میں ایک نئا موقف پیدا ہوتا ہے جس پر لوگ دیکھتے ہیں اور اس سے ان کی حمایت بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ دھرنا تھرن بن کر رک گئیے، جس نے وہ لوگ جو اس میں شامل تھے اور ان کی حمایت کرنے والے لوگ اس کا ہارمناک نتیجہ دیکھتے ہوئے اچھی طرح سوچ سکتے تھے کہ یہ پوری نئی رہنمائی کی طرف بڑھ جائے گا۔
اس کے برعکس، انہوں نے 10 سے 15 افراد کو ایک نئے موقف میں لانے کی کوشش کی تاکہ ان لوگوں پر تحفظاعین پاکستان کی رہنمائی کی جائے، جو اس دھرنے میں پہلے تھے اور وہی ہالے ہی ان کے ساتھ نہ چلے گئے یا اس کا کوئی موقف نہ بنایا۔
عزیز، میرے لئے یہ نازک موقف سے بچنے کے لیے اڈیالہ روڈ پر دھرنا ختم کر دیا گیا تھا... جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس سے موڑ کر دوسری فیکٹریوں میں پھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے... وہاں اس کے بعد بھی دھرنا چلایا گیا ہوگا، لیکن یہ بات کوئی نہ کوئی روپشنہ بنائی رہتی ہے...
اس ماحول کو کھو دیا گیا ہے جو ان لوگوں کو یاد آتا ہے جو اسے بنانے نے، دھرنے میں بھی اسی قسم کی طاقت نہیں دیکھی گئی۔ دھرنا ختم ہونے پر ایک داڑھی چھٹنا بہت سارے لوگ خوش ہو گئے تھے۔ نہیں کہیں، اب وہ مضمون جسے ہم نے جاری رکھا تھا، اور اس پر موجود لوگ، اب ڈیرہ میں ہی پہنچتے ہیں۔ یہ ایسی بات بھی یاد آتی ہے کہ ایک دھرنے کی وجہ سے پورے شہر میں آدھی رات گزارنا پڑ جاتی تھی، حالاں کہ اب اس کے بعد ٹریفک چلتا ہوا۔
یہ بات ایک sided ہے اور اس کی وجہ سے یہ مضمون واضح طور پر ساتھ میں نہیں آتا جب مضمون ماربل فیکٹری کے مقام پر جاری تھا تو دھرنا ایک سیاسی کارروائی تھی اور اس کے بعد یہاں تک کہ شہر میں ٹریفک بھی ساتھ میں نہیں آتی اس بات پر انہوں نے کوئی غلطی کہا ہے ۔