امریکی فوج اور طالبان کی انٹرنیٹ پر جانے والی غلطی کے بعد، امریکہ میں ایک نئی پچاسپھری ہو گئی ہے۔ اس کے بعد یہ سمجھنے میں کیسا آسانی ہے کہ امریکی فوج اور ان کی حکومت ایران میں اپنی غلطی کو جانتے ہوئے اترنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکہ نے اس میں یہ بات کبھی بھی نہیں کہی تھی کہ وہ ایران کو اپنی فوج اور حکومت کی غلطیوں سے نمٹنے میں مدد کرسکتا ہے، حالانکہ اس میں یہ بات بھی نہیں کہی تھی کہ وہ اپنی فوج اور حکومت کو ایران میں اترنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے ہی کہا ہے کہ ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکل کر اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج کروانا چاہئے، اس کے علاوہ وہ ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ سے ہی کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور فوج کو Iran میں اترنے کی کوشش کر رہا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے ٹرمپ کو دیکٹیٹر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کا خیال رکھنا چاہیں گے اور پہلے جیسے تانا شاہوں جیسا حشر بھی کر سکتے ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کی حکومت اور فوج ایران میں اترنے کی کوشش کر رہی ہے، وہ اس پر توجہ نہیں دے رہیں جس کی یہ غلطی ہوئی ہے۔
امریکہ نے اس میں یہ بات کبھی بھی نہیں کہی تھی کہ وہ ایران کو اپنی فوج اور حکومت کی غلطیوں سے نمٹنے میں مدد کرسکتا ہے، حالانکہ اس میں یہ بات بھی نہیں کہی تھی کہ وہ اپنی فوج اور حکومت کو ایران میں اترنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے ہی کہا ہے کہ ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکل کر اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج کروانا چاہئے، اس کے علاوہ وہ ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ سے ہی کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور فوج کو Iran میں اترنے کی کوشش کر رہا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے ٹرمپ کو دیکٹیٹر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کا خیال رکھنا چاہیں گے اور پہلے جیسے تانا شاہوں جیسا حشر بھی کر سکتے ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کی حکومت اور فوج ایران میں اترنے کی کوشش کر رہی ہے، وہ اس پر توجہ نہیں دے رہیں جس کی یہ غلطی ہوئی ہے۔