پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی جھگڑوں کی نذر ہو گئی۔ شاہد خٹک سینیٹر زرقا کو پارٹی اجلاس سے باہر نکل جانے کے لئے کہہ رہے تھے۔ جب سینیٹر زرقا نے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے لیے فیصلہ نہ ہونے پر احتجاج کیا تو پارٹی اجلاس ختم کردیا گیا تھا۔
ارکان پارلیمنٹ کی ایک جماعت نے پارلیمانی پارٹی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو اجلاس میں شامل نہیں کیا جا سکتا تو پھر بلایا نہ کریں۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شاہد خٹک کے رویے پر بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کی سیکیٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ کسی نے بیرسٹر گوہر یا اس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، تلخ کلامی میرے آنے سے پہلے ہو چکی تھی۔
سینیٹر زرقا نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی نے شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا تھا، لہذا ہم سے بیان حلفی جمع کرائیں اور اچھا ہوا سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اب پارٹی ہمارے بارے میں فیصلہ تو کرے گی۔
ارکان پارلیمنٹ کی ایک جماعت نے پارلیمانی پارٹی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو اجلاس میں شامل نہیں کیا جا سکتا تو پھر بلایا نہ کریں۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شاہد خٹک کے رویے پر بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کی سیکیٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ کسی نے بیرسٹر گوہر یا اس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، تلخ کلامی میرے آنے سے پہلے ہو چکی تھی۔
سینیٹر زرقا نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی نے شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا تھا، لہذا ہم سے بیان حلفی جمع کرائیں اور اچھا ہوا سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اب پارٹی ہمارے بارے میں فیصلہ تو کرے گی۔