پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی جھگڑے کی نذر ہوگیا - Daily Qudrat

سموسہ فین

Well-known member
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی جھگڑوں کی نذر ہو گئی۔ شاہد خٹک سینیٹر زرقا کو پارٹی اجلاس سے باہر نکل جانے کے لئے کہہ رہے تھے۔ جب سینیٹر زرقا نے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے لیے فیصلہ نہ ہونے پر احتجاج کیا تو پارٹی اجلاس ختم کردیا گیا تھا۔

ارکان پارلیمنٹ کی ایک جماعت نے پارلیمانی پارٹی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو اجلاس میں شامل نہیں کیا جا سکتا تو پھر بلایا نہ کریں۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شاہد خٹک کے رویے پر بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی کی سیکیٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ کسی نے بیرسٹر گوہر یا اس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، تلخ کلامی میرے آنے سے پہلے ہو چکی تھی۔

سینیٹر زرقا نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی نے شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا تھا، لہذا ہم سے بیان حلفی جمع کرائیں اور اچھا ہوا سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اب پارٹی ہمارے بارے میں فیصلہ تو کرے گی۔
 
بہت دلچسپ بات ہوئی نہیں? پھر بھی شاہد خٹک کی یہ رویہ دیکھ کر ہمارے پہلے پی ٹی آئی کے اراکین پر توجہ ڈالتے ہیں۔ وہ لوگ جو چاہتے ہیں تو نہیں بلایا جاسکتا اور نہیں بلائیں تو فیصلہ کیوں نہیں؟ ہمیں کھلی دل سے بات کرنے کی जरورت ہے، جس میں ایسی لڑائی ہارنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

جیو نیوز پر یہ بات بھی کہلی، سینیٹر زرقا نے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی وجہ سے ایسے احتجاج میں شمولیت کی۔ اس کے علاوہ پارٹی کے ارکان نے اور کیا کھیل رہے تھے؟ پھر بھی ہمارے لیے یہ بات اچھی ہے کہ اس پر مزید وضاحت کی جائے۔
 
یہ پتہ چلتا ہے کہ شاہد خٹک کا ماحول کچھ بھی نہیں ہوتا، ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ پارٹی اجلاس میں موجود نہیں ہوں تو بھی ہمیں کچھ نہیں کہنا پڑتا 🤣

انکوائر کے بعد سے اور ڈھونڈنے پر میں سمجھا ہے کہ اس بار ایسا نتیجہ نہیں ہو گا جیسا ہوا تھا کیونکہ یہ بار سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو چیلنج کرنے کے لیے بھی کھلے دروازے ہیں وہ ایسا نہیں چلا گیا جبکہ پورے پی ٹی آئی پر اپنا اثر ہی چھوڑ سکتے ہیں
 
اس парٹی کی سیکیٹری جنرل نے بتایا کہ پتھروں کی لڑائی ہی نہیں بلکہ یہ ایک عظیم ناقد کے ساتھ بات کرنے والوں کا مقابلہ تھا اور وہ اس میں کامیاب رہ گئے!
 
میری نظروں کی ایک چیتھ پینسٹر بنائی جائے
```
/_/\
( o.o )
> ^ <
```
پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی اجلاس کا یہ خوفناک پہلو ہے کہ جب بھی شوکاز کو ایک حلف لینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس سے کتنے افراد انصاف کی پارٹی سے دور ہو گئے ہوتے ہیں؟
میری توجہ ایک دھرتی مینو پینسٹر پر ہے
```
_______
/ \
/ \
| > |
_______/
```
جیسا کہ اس خبر سے ابھی واضح ہوا ہے کہ ایک عظیم پارٹی کی پچھلے دنوں میں جھگڑے اور تفرقے کا باعث بن گیا ہے تو یہاں کیا ہوا، انصاف کی پارٹی نے ایک سینیٹر کی جانب سے دیکھا اس طرح جہاں ایک سینیٹر کا موقف بدل گیا تو باقی تمام لوگ اس میں شامل ہو گئے اور انصاف کی پارٹی کو اپنے ارکان کو ناکام بناتے ہوئے نکلنا پڑا
میری نظر ایک چپکلی لائن پر ہے
```
___~~~
\ /
\
~
```
اس سے واضح ہوا کہ اس پارٹی میں پچھلے دنوں کی طرح بھی ایسا دیکھنا جارہا ہے اور اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ جو سینیٹر نے اپنے رویے پر توجہ دی تو وہ بھی ایک بار فوری نکل گئے
میری نظر ایک لائن میں ہے
```
_______
| |
| > |
|_______|
```
اس کا مطلب یہ کہ ایسے سینیٹرز کی بھی جانب دیکھنی پڑے گی جو نہیں چکے تھے اور انہیں بھی اپنے ارکان کو ناکام بناتے ہوئے نکلنا پڑے گا
 
میری رائے ایسا لگ رہا ہے جیسے ان کی پی ٹی آئی میں بھی دوسری جماعت بن گئی ہوں... ہر طرف جھگڑے، کھینٹ پھینٹ وغیرہ! میرا خیال ہے کہ شاہد خٹک کا رویہ تو دیکھنا ہی تھا... اور سینیٹر زرقا کی بات تو لگتے ہیں کہ وہ ایسی سانس لی رہے ہوں جو اچھی نہیں... پی ٹی آئی بانی کو خط لکھنے کو چاہتے ہو تو تو کیا پھیلائیں؟ ...ایسا نہیں لگتا!
 
ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شاہد خٹک کے رویے پر غور کیا اور اس سے متعلق خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بات بھی دلچسپی دہی کے لئے ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیسے لیا ہے اور ایسا کیسے چلای گا؟ شوکاز نوٹس کے بارے میں تو کچھ بات ہوئی ہے، لیکن اس سے بھی یہ بات متعین نہیں ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی پارٹی میں یہ فیصلہ کیسے لایا گیا ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹر زرقا نے پھر انٹرویو کے لیے بلایا تھا، جبکہ شوکاز نوٹس دیا گیا تھا اور اس پر باقی لوگ بھی پھنسی ہوئیں، یہ تو ناکام بننا ہی نہیں ہو سکتا!
 
یہ شہرت مند معاملہ ہے! پاکستان پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ایسی ناواقفیت سے شروع ہو رہا تھا جو نوجوانوں کو بھی غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ سینیٹر زرقا کی بات بے مثال اور بے انصاف تھی، اسے کبھی ایسا موقع نہیں ملتا تھا کہ اسے کچھ نہ کچھ کہنا پڑتا تھا۔

شاہد خٹک سینیٹر کی رہنمائی میں آئے تو ان پر کیا بھارosa اور پھر نہ ہونے والی باتوں کا جواب دینے کا مौकہ دے کر پارٹی کو بدنام کرتے ہوئے ایسا کردار ادا کیا تھا جیسا کہ کچھ نہ کچھ کہنا پڑتا ہے۔ اور اب یہ بات کون کی کہ ان کے اس رویے سے پی ٹی آئی کے اراکین اور رکنوں کو متاثر ہوا ہے؟
 
یہاں تک کہ نوجوانوں کے ساتھ بھی یہ واقعتہ ہوتا دیکھنا عجیب ہے! شاہد خٹک کے رویے پر ان کی بات تو یقین کے ساتھ لائی گئی، لیکن کیا پتہ نہیں چلتا کہ انہوں نے شوکاز کو آخری ادراک بھی کرایا ہے؟

میں اس پر کچھ سوالات لائے ہیں۔ سینیٹر زرقا کی بات تو تھی کہ پارٹی نے شوکاز کو بلایا، لیکن یہ کیا ایک جملے میں پورے شہر کو کبھال دیا جا سکتا ہے؟ اس کی بات تو تھی کہ انہوں نے بیان حلفی جمع کرائیں، لیکن یہ کیا وہی بات نہیں کہ جو پتہ چلتا ہے وہ ہمیں پتہ لگتا ہے؟

اس کے علاوہ سلمان اکرم راجا کے بیان کی بات تو تھی کہ کسی نے ان کے حوالے سے کچھ کہا تھا، لیکن یہ کیا ایک جملے میں اس بات کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے کہ کسی نے کچھ کہا اور وہ کیا کہہ رہا تھا؟
 
ان پلیٹ فارم پر سینیٹر زرقا کی اس بات کا بھی یہ کوئی غبستا نہیں کہ وہ شوکاز نوٹس سے نمٹنے کے لئے اچھا ہوا کرنا چاہتے تھے۔ یوں تو بانی جیسا شخص اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، لیکن شوکاز جو کہ پچاس سال کی عمر میں ہی پارٹی بنانے کا مہارثی تھا وہ اس کا جائزہ لینے کے لئے صرف ایک ہفتے اور رات کے لئے بھگتے تھے، اب وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔
 
😕 یہ شوقاز نوٹس دھنڈی ہو گئی پھر ایک نئی ڈھانچہ بن رہا ہے۔ سینیٹر زرقا کے احتجاج نے پارٹی کو ہٹا دیا، اور اب ان پر دباو ہے کہ وہ جواب دینے لگ رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ Telkh کلامی ایسے لگ رہے تھے اور پہلے تو ہو چکا تھا، لیکن اب یہ کچھ نئا ہے۔ میں اس کی بالکل تصدیق کرنے والا نہیں ہوں گا۔ شوقاز نوٹس کے بارے میں لوگ اپنی رائے دیتے چلے گئے، لیکن اب ہر کوئی ان کے سامنے اپنا دھندلا پکڑ لیتا ہے۔
 
جب تک وہ پارٹی میں ایک ساتھ ہونا چاہتے تھے، ان پر ہار نہ ہو سکا! اب جب وہ اچانک باہر ہوجاتے ہیں تو وہ پارٹی کو بھگاد دیتے ہیں؟ میرا یہ سوچنا ہو گیا کہ ایسے نہیں کیا جا سکتا.
 
سینیٹر زرقا کی بات کرتے ہوئے پوری طرح سے میرے سامنے بھول گئیں اور اس پر شاک کیا نہیں گیا… نہا کر رہے تھوڑے کچھ توڑ دیں، پھر ایسے میٹنگوں کی خلاف ورزی کی بھی؟ …انھوں نے ہی پارٹی کو دھکیل دیا، میرے خیال میں انھوں نے ایک اچھی پالیسی پر ہتھیار ڈال دیئے… شوکاز نوٹس کے جواب میں وہ نہیں آئے، تو انھوں نے ہی پارٹی ختم کر دی، ایسی بات کیسے کرتا ہے…
 
شادید غلطی کی بات کرو رہے ہیں۔ پھر بھی اس پر جواب دینا چاہیے۔ شاہد خٹک نے انسafia نے جو آرڈर دیا تھا وہ کچھ ماجور ہو گیا، پھر یہ بات کیسے چل سکتی ہیں؟ ہوا بھی ہوئی نہیں اور ایسا محسوس کر رہا ہوں۔
 
یہ بات بہت سچ ہے کہ PTI کے پارلیمانی اجلاس کا یہ خاتمہ ایک ایسی مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ Politics bhi like Cricket hai, aur team ka captain toh kisi ko nahi dekhna chahiye! 🙄

یہ بات سچ ہے کہ شاہد خٹک کی رویے پر بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے میں کام کرنا اچھا وہ نہیں،جبکہ سینیٹر زرقا کی بات بھی سچ ہے کہ парٹی نے شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا تھا, لہذا ہمیں بیان حلفی جمع کرائیں! 🤦‍♂️

لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہPolitics ko jeena bhi mushkil hota hai, aur party ka leadership toh ek naye nazariye ke saath aata hai! 😂
 
شوکاز کتے نے پھر سے بکھر گئے! شاہد خٹک کی بیڈ روم وال سنیٹر زرقا کو ایسا لگایا ہے جیسے انہیں کہتے ہیں کہ یہ تو ان کا فرار ہو گیا!

مگر یہ راز صرف پھیلایا گیا ہے، اس میں کچھ اور بھی ہے جس کو نہیں سمجھا جا سکتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاپुलر پرتھی ایسے معاملات میں مدد کرنے کی ضرورت ہے جہاں سے ان کے لئے کوئی اور راسخ الاعتقاد اور نچستہ درجہ کا خوف نہ ہو
 
جی وہاں اور اس کی ساتھ دکھا دیا گیا، شوکاز کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ وہ جس بات کی دعوت دی اور وہ اس پر آئے تو انہوں نے ایسا ہی جواب دیا جس سے وہ بھگت گئے.

آج پھر یہ دکھائی دیتے ہیں کہ Politics me Humari jansatta ko kitni jarurat hai, politics me humari zindagi ko kitna bahar kiya ja raha hai, politics mein jo log aaye hain woh sabhi hi jhoothi cheezon ka shikhar par bata rahe hain.

Par Pti ke members ne bilkul sahi kaam kiya nahi, kuch log hi sirf apne benefit ko lekar soch rahe hain, jabki akele se baith kar apni zindagi ko sahi bana sakte hain.
 
اب تک نے پی ٹی آئی کی ایک بھرپور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس دیکھا ہے، لیکن اب اس سے پہلے شوکاز نے نوتس دیا تھا اور پھر شاہد خٹک نے ایسی بات کی جو انھوں نے تو تو کھوئی ہی ہے اب اس کے بعد سینیٹر زرقا نے ایسا بھی کیا ہے جس سے تمام ملاپ نہیں رہ گئے 🤔. یہ تو پتہ چل گئے ہیں کہ ان کی پارٹی کی رچAYا وار لائن پر بھی ایسی بات ہوئی ہو گی.
 
تجربے سے پتا ہے کہ جو رائے بھی نکلتی ہو وہ ناقص ہوتی ہیں، اس میں ہر کس کی اپنی نظر اور دلچسپی ہوتी ہے، پھر جب کوئی فیصلہ کرنا ہو تو یہ سب کے لیے ایک موہری صورتحال بن جاتا ہے۔ اور اب جو ہوا رہی ہے وہ ناقص ہونے کی وجہ سے ہو سکتی ہے، شوکاز کا ایسا نوتس جس پر پارٹی نے ایک سرگرمی کے طور پر جھگڑا رچانہ، اور اس میں بھی پتہ چلا کہ شاہد خٹک کی روایات کو کمزور کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ایک موثر ماحول بنانے کے لیے اچھے ہوا سے نکلے، اب اگر وہ نوتس میں تبدیلی آئے تو اس کو اپنی پرت تھام کرنا مشکل ہو گا
 
بیلنسی لگ رہی ہے پارٹی کو، وہ ایک بار سے چل پڑتے ہیں جھگڑے کا نتیجہ ہو جاتا ہے۔ شاہد خٹک کی مینجمنٹ کی کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ کچھ بھی کرتے تھے۔ اور وہاں پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کے درمیان میں تو ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی ہونے والی ہی ہوئی ۔

شاہد خٹک کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جانا تو اس نے خود ایسا کر لیا تھا جیسا یہی نتیجہ ہوا گیا اور اب وہ اپنی پوری قوت کی مہم چلائی رہے ہیں جس سے اس کے ساتھ جانے والوں کو بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو نکلانے کی پوری مدد کر رہے ہیں۔
 
واپس
Top