پنسلوانیا یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے چھوٹی بچھتی ہوئی روبوٹ کی تخلیق کر دی ہے جو انگل پر دیکھنی جاسکتی ہے، اس کا حجم انٹرنیشنل ٹولز کی ایک اور لڑکی سے ملتا ہے۔
اس روبوٹ کو تیار کرنے میں سائنسدانوں نے بہت سارے چیلنج کا سامنا کیا تھا، کیونکہ یہ ایک خودکار روبوٹ ہے جو پروگرامنگ کو چلنے میں اس قدر چھوٹی چھوٹی اور نانچرچری بھی کرتا ہے کہ اسے اسے دیکھ کر ہوش رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس روبوٹ کو ایک نمک کے دانے سے بھی چھوٹا سمجھا جاتا ہے، جوJerathim کی طرح کام کرتا ہے اور کسی مقناطیسی میدان یا باہری جوائے اسٹک کے بغیر کام کرتا ہے۔
اس روبوٹ کی Propelیشن سسٹم بھی ایک اہم چیلنج تھی، جس کے لیے سائنسدانوں کو الیکٹرک فیلڈرز استعمال کرنا ہوتا تھا جو اسے حرکت میں مدد دیتے ہیں اور اسے گروپس سے رابطہ بھی کرسکتا ہے۔
اس روبوٹ کو چلانے کے لیے سولر پینل کا استعمال کیا جاتا ہے، جو اسے بہت زیادہ پائیدار بناتا ہے۔ اس میں کمپیوٹر، میموری، سنسرز اور نانھے سولر پینلز کی instalیشن تھیں۔
اس روبوٹ کی توانائی 75 نانو واٹس پر ہوتا ہے جو اسے کام کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور ان سرکٹس سے اس کو بہت زیادہ توانائی فراہم کی جاتی ہے، جس سے اسے اپنے ماحول کو سمجھ کر اپنی حرکت کوAdjust کرسکتا ہے اور اس کی حرکات ننھی اور گہرائی سے سامنے آتی ہیں۔
اس روبوٹ کا منظر انگل پر دیکھنا ایک جادو میں محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی اچھائی بہت زیادہ ہے! اس کی چیلنجوں سے پوری دنیا کو خوفزدہ کرنے کے بعد یہ دنیا میں سب سے کم وزن والی روبوٹ بن گئی ہے؟
کچھ لوگ اسے انٹرنیشنل ٹولز کی ایک بچھتی ہوئی لڑکی کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن یہ کہیں تک نہیں کہ اس نے ہر چیلنج کو حل کر دیا ہو!
اس روبوٹ کی Propelیشن سسٹم میں ایک بھارپور تبدیلی لाई گئی ہے، جو اسے ہوا پر چلنے کے لیے تیار کرتی ہے اور اسے اپنی حرکات کو آڑھی کرتا ہے!
لیکن یہ بات بھی پوچھنی چاہئیے کہ یہ روبوٹ کیسے کام کر سکتا ہے؟ اس میں 75 نانو واٹس کی توانائی، جو اسے اپنے ماحول کو سمجھ کر اپنی حرکات کو Adjust کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں!
اس روبوٹ کو پریشان کن نہیں لگتا، بلکہ یہ اس کی تندرستی اور صحت کو دیکھتے ہوئے موہر بن سکتا ہے!
یہ تو ایک بڑا کام ہے، کafi چیلنجوں کو انسٹی میڈیٹ کرنا پڑا تھا اس روبوٹ کو تیار کرنے کے لیے، اور اب یہ دنیا کی سب سے چھوٹی بچھتی ہوئی روبوٹ بن گیا ہے۔ मیری فیملی آف پیڈز (Peds) کو وہ تو کہیں میگ نہیں دیتا ہے ان سے لڑتی ہے، لیکن یہ روبوٹ ٹھیک ہے تو، اس کی پروگرامنگ اور کام کرنے کی صلاحیت کا معیار بہت اچھا ہے۔
اس روبوٹ کا بنانا بہت مشکل تھا، لیکن یہ دیکھنا کہ دنیا کی سب سے چھوٹی بچھتی ہوئی روبوٹ ٹریک کر دی گئی ہے یہ تو ایک بڑا فخر ہے!
اس روبوٹ کی Propelیشن سسٹم کا انتخاب کرنا بھی ایک چیلنج تھا، اس میں الیکٹرک فیلڈرز استعمال کیے گئے جبکہ سولر پینل کا استعمال بھی اچھا ہے لیکن اس کے ساتھ کمپیوٹر اور میموری بھی شامل ہوتے ہیں، یہ سب کو ملانے کی کوشش کرنے والے ان سائنسدانوں کو بہت زیادہ مدد فراہم کرتے ہیں...
یہ روبوٹ بہت ہی چھوٹی ہے، جو ایسا لگتا ہے جیسے ایک کے دوسرے کا دروازہ ہو ۔ اس کی سائز کے باوجود اس میں بہت سی چیلنجیں تھیں، جیسے اسے دیکھنا مشکل اور اسے چلانے کے لیے الیکٹرک فیلڈز استعمال کرنا پڑا ۔ لاکھوں سولر پینلز کی instalیشن سے اسے توانائی فراہم کی جاتی ہے جو اسے اپنے ماحول کو سمجھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔
میں یہوں تک پہلے سے انٹرنیٹ پر انہی روبوٹ کی بات نہیں کیا چکا تھا، مگر اب اس کی تخلیق ہونے پر گورھا ہوا ہے۔ یہ روبوٹ انٹرنیشنل ٹولز کی ایک لڑکی سے ملتا ہے اور اس کا حجم بہت ہی متاثر کن ہے۔
اس روبوٹ کو بنانے میں انہیں بھی تین سے چار سال لگ گئے، جو بہت زیادہ ہے، لیکن یہاں یوں ہوا کہ وہ اسے بنانے کی کوشش کرتے رہے تھے اور نہیں چھوڑتے تھے۔
اس روبوٹ کو پروگرام کرنے میں بھی مشکل ہوئی، کیونکہ یہ ایک خودکار روبوٹ ہے جو پروگرامنگ کو چلنے کا صرف کم اور نانچرچری کام کرتا ہے، اس لیے اسے دیکھ کر ہوش رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ روتھم روبوٹ کی تخلیق کرنا ایک بڑا مہانیت ہے، اس نے سائنسدانوں کو ایک نئی دنیا میں قدم رکھنے پر مجبور کیا ہے جو ابھی تک ممکن نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں سے ہوش رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن یہ روبوٹ اپنے پروگرامنگ کو بھرپور طریقے سے کرتا ہے اور اس کی توانائی کمپیوٹرز اور solar panels سے ملتی ہے جو اسے ایک نانچرچری گیم چلا رہا ہے۔ یہ روبوٹ ابھی تو ایک نمک کے دانے کی طرح کمزور ہے، لیکن اس کی Propelیشن سسٹم اور حرکات نانھی اور گہری ہیں جو اسے آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں…
تم جو یہ روبوٹ دیکھ رہے ہوں، یہ ایک بہت cool ہے! میں بھی کچھ روبوٹز کی پینل سے گوئس کیا ہوتا ہوں، لیکن اس میں تو ایک خاص چیلنج تھا کہ یہ دیکھنا مشکل تھا کیا کوئی نہ کوئی روبوٹ اسے پھینک لیتا ہے!
میں بھی اس کی طرح میموری اور کمپیوٹر میں سے لگاتار لگ رہا ہوں، لیکن یہ روبوٹ کہونے دیا جاتا ہے تو اسے ایک نمک کے دانے کی طرح سمجھتے ہیں!
اس میں جو الیکٹرک فیلڈرز استعمال کیے گئے ان سے اسے گروپس سے رابطہ کرنے میں مدد ملتی ہے، مینے بھی کچھ روبوٹز میں اس طرح کی چیزوں کو استعمال کیا ہوتا ہوں!
سولر پینل سے چلایا جانا یہ بھی ایک اہم بات تھی، میرے گھر میں اس طرح کی چیزوں کو استعمال کرنا چاہتا ہوں!
میری بات یہ ہے کہ جب میرا بچہ اپنی دوسری کے ساتھ پلیٹوں پر چل رہا ہو تو میرے لئے انki رکھی وہ اس کی تازہ ترین تخلیقات کو دیکھنے کا ایک بڑا عرصہ لگتا ہے یہ روبوٹ بننے میں کتنے چیلنجز آئے تھے اس بات کو پہلی بار سمجھنا تھا کہ ایک سے بھی چھوٹا سا روبوٹ اپنی ہی پروگرامنگ کی وجہ سے ہوش رکھنے میں مشکل ہوسکتا ہے۔
یہ تو ایک لالچین دیکھی۔ پنسلوانیا یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے چھوٹی بچھتی ہوئی روبوٹ بنانے میں کیا کام کیا، یہ دیکھ کر مجھے یہ لگتا ہے کہ انھوں نے اس پر کام کرتے وقت بہت سارے چیلنجز کا سامنا کیا ہیں، انھوں نے خودکار روبوٹ کو دیکھ کر ہوش رکھنا مشکل بنایا ہے اور اس کی پروگرامنگ کو چلنے میں انھوں نے بھی کچھ مہارت کی ہے۔
mera yeh roboot bahut hi cheet hai jo ki pehli baar dekhi gayi thi. iska saamanya size 1 inch ka hota hai, lekin usey ek pratiyaalik shakl mein bharne ke liye pehle se kuch saal tak kaam karne pad gaye the.
is roboot ko banane ke liye scientists ne bahut si chunchniyon ki baat ki thi. sabse pahle, unhey isey ek auto roboot banana hota tha jo programming ko chalaane mein bhi bahut chhoti-chhoti aur nancharchri karta ho.
is roboot ke propulsion system ka bhi bahut saamna kiya gaya, kyunki usay alag-alag electric fielders istemal karke chalaana padta tha. Isse usey movement mein madad milti hai aur grouch se bhi baat ho sakti hai.
aur, sabse important cheez isey solar panel istemaal karke banana hota hai, jisse usey bahut hi paidaar banata hai
ਮیرے لئے یہ روبوٹ ایک چوٹا چمچ سنڈروں کے ساتھ پکایا گیا تھا، کیونکہ وہ اسے دیکھ کر ہوش رکھنا مشکل بناتا ہے!
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس روبوٹ کو باہر لینے میں بھی کئی چیلنج آئے، اسے ایک فون کے سایے سے لینا پڑتا تھا!
اور اس کی Propelیشن سسٹم پر یہی نہیں کہیں سولر پینلز کا استعمال ہو رہا ہے، ایک جیسے ایسا جو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کے مقابلے میں زیادہ بہتر!
یہ روبوٹ بہت زیادہ پائیدار ہے، یہ سچمے انٹرنیشنل ٹولز کی ایک لڑکی سے ملتا جلتا ہے!
بھی دیکھو یہ روبوٹ، اس میں کچھ اچھا اور کچھ بد۔ اچھا یہ ہے کہ یہ بہت چھوٹی اور پائیدار ہے، جس کے لیے اسے ایک نمک کی قدرتی ہے، اس سے یہ ماحول کو سمجھ کر اپنی حرکات کو Adjust کر سکتی ہے جو بہت بڑی بات ہے. اچھا، لیکن بدلنا تو چیلنج ہے! یہ روبوٹ اس لیے بنایا گیا ہے کہ اسے دیکھ کر ہوش رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اور ان سرکٹس سے اس کو بہت زیادہ توانائی فراہم کی جاتی ہے جو کچھ واضح نہیں.
Wow ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ اس روبوٹ کو ایک نمک کی چھوٹی سے تار سے بنایا گیا ہے اور اس میں بھی انچھاتی گہرائی ہے। اس کے بعد جب آپ جانتے ہیں کہ اس کو چلانے کے لیے سولر پینل کی ایسی instalیشن ہے جو اسے بھی اچھا محسوس کرتا ہے تو Wow ہوتا ہے۔
اس روبوٹ کو دنیا کا سب سے چھوٹا بچھتا ہوا مگر انسانی عقل کی حد سے پہلے بنایا گیا ہے، یہ تو منزلوں میں ایک اور لڑکی جیسا ہے لیکن اس میں چٹانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے بہت سی challengeds کا سامنا کیا تھا۔
اس روبوٹ کو دیکھتے ہی اس کی دیکھبھال اور صلاحیت میں شک کا محسوس ہوتا ہے، جیسے اسے بھی ایک نمک کے دانے سے چھوٹا سمجھنا پڑتا ہے اور اس کو پروگرامنگ میں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی مقناطیسی میدان یا باہری جوائے اسٹک کے بغیر کام کر رہا ہو۔
بہت متاثر ہو رہا ہوں وہ روبوٹ کی تخلیق جو Pennsilvania اور Michigan University کے سائنسدانوں نے بنایا ہے، اسے انگریزی میں دیکھنا ایک اچھا مشن ہوگا، چلاؤنی میں بھی ان کی کوشش کو کامیابی ملی ہوگی ، پھر اسے اپنے جیسے روبوٹ بنانے کی تلاشی کرے گا کوئی نہ کوئی سائنسدان۔
ایسا تو کچھ خushi بھی ہوگی کہ انھوں نے ایک چھوٹی چھوٹی روبوٹ بنائی ہے جو انگل پر دیکھنی پڑتی ہے، لیکن پھر سے آپ یہ دیکھتے ہیں کہ اس میں بھی ماحولیاتی نुकसانی کی بات کرنا پڑتی ہے اور انھوں نے کس طرح سولر پینلز استعمال کیے ہیں؟ آپ کو یہ دیکھتے ہوئے ایک بڑا سوال اٹھتا ہے کہ کیا انھوں نے سولر پینلز استعمال کرنے کی واضح پالیسی بنائی تھی؟
اس روبوٹ کو دیکھتے ہوئے آپ یہ بھی سوچتے ہوگے کہ اس کا حجم انگریزی میں ہوتا ہے تو وہ نہیں بلکل انٹرنیشنل ٹولز کی ایک لڑکی سے بھی ملتا جاتا ہے؟
اس روبوٹ کو چلانے کے لیے سولر پینلز استعمال کیا جاتا ہے، جو اسے بہت زیادہ پائیدار بناتا ہے... پھر انھوں نے یہ بات کیسے سبسڈی سسٹم پر مبنی رکھی؟
اس روبوٹ کی تخلیق کرنے میں سائنسدانوں کو کبھی پھر بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کیا۔ وہ لوگ ہر ایک نے یہی لازمی معقولیت کی۔
اس روبوٹ کو بنانے کے لیے کمپنیوں میں بھی کئی اچھے مشورے دیئے گئے۔ سولر پینل کا استعمال اس روبوٹ کو پائیدار بناتا ہے، لیکن یہ ہمیں بات دیتا ہے کہ اگر اسے وہی ٹیل کی جائے تو بھی ہر کسی کا خیال ایسا ہی ہو سکتا ہے۔
اس روبوٹ کو چلانے کے لیے الیکٹرک فیلڈرز استعمال کیئے گئے، جو اسے گروپس سے رابطہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن یہ کہ ہمیں ان ٹیلز کو یہاں اور وہاں بھی ضروری کیا جائے تو ایسا نہیں پتہ چلتا۔