ایپ اسٹورز میں عریاں تصاویر بنانے والی ایپس کے چھپے ہونے کا انکشاف

شاہین

Well-known member
برطانیہ اور امریکا میں کئی ایسے مواقع ہیں جہاں یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں، لیکن آج کی ایپز ان تصاویر کو مفت اور بغیر کپڑوں کی تصویریں بنانے کی صلاحیت دیتی ہیں، جو معاشی طور پر منافع بخش بھی ثابت رہی ہیں۔

اس بات سے کوئی Surprise نہیں کہ اے آئی نے کس طرح صنعتوں میں تبدیلی لائی ہے، لیکن اس کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ان کے غلط استعمال پر بھی توجہ دینی پڑتی ہے۔

دسمبر میں ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کر رہا ہے، لیکن بعد میں کمپنی نے اس کی حفاظتی حدود بہتر بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس معاملے کے ساتھ ساتھ ایلون مسک کے ایکس اے آئی کی جانب سے کم از کم چار ڈائریکٹری نے چیٹ بوٹس کو استعمال کرنے پر ریاستہائے متحدہ میں پابندی لگا دی تھی۔

اب ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جو کہ ”نیوڈیفائی“ اور “انڈریس“ کے الفاظ کو استعمال کرنے سے سامنے آ رہی ہیں، جس میں ایسے ایپس کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو صارف کی اپ لوڈ کردہ تصاویر سے مکمل یا جزوی طور پر بغیر کپڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرتی ہیں۔

ایسی ایپس کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ کے مطابق، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک کی جانب سے صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں، جو یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان ایپس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر کم از کم 55 اور ایپل کے ایپ اسٹور پر 47 ایپس موجود ہیں، جس میں سے زیادہ تر یوٹیوب پر اپنی تصاویر بنانے والے صارفین کی تصاویر کو عریاں دکھانے کی سہولت مفت فراہم کرتی ہیں۔

یہ ایپس اب تک دنیا بھر میں 705 ملین بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہیں، جو کہ 117 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کر چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ڈویلپرز مالی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔
 
🤣😂 اے ایچ پی سے کھیلو... [gif: ahppy meme of a man making funny faces](https://i.imgur.com/HhZLXfY.gif)
 
یہ سب کچھ ٹیک کی طرف سے جتنی چل رہی ہے وہ یقین نہیں کہ اس میں بھی کوئی سمجھ ہو گی۔ یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں اور اب ایپس ان کے لئے عریاں تصاویر بنانے کی سہولت دیتے ہیں؟ یہ بھی اکیلے لوگوں کی نا inteligence کی واضح مثال ہے۔
 
اس وقت ٹیکنالوجی کی طرف سے ہمیشہ تو آگ لگتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب لوگ کپڑوں کی ضرورت نہیں چاہتے ہیں 😂
 
یہ ایپس کہتے ہیں لوگ اپنی تصاویر کے ساتھ کچھ کرنے کا محسوس کرتے ہیں اور اس لیے انہوں نے اپنی اپ اپلیکیشنز بنائی ہیں... یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں اور اب وہ اپنے آپ کو عریاں دکھانے کے لئے ان کی مدد کرتے ہیں... یہ بھی ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں لوگ اپنی اپ اپلیکیشنز کو دیکھ کر توجہ دلائیں گے۔
 
میں بتاؤں یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے ہیں تو کیوں نہیں، اس کا عجیب نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اب یہ بات ہمیں بتائی جا رہی ہے کہ کس طرح ایپس ان تصاویر کو عریاں بنانے کی سہولت دیتے ہیں تو اس سے میں لگتا ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو بھی ایسے سے اپ لوڈ کرنا چاہئیں جو کہ پبلک ہوجاتے ہیں، تو یہ کیسے؟
 
یہ تو اچانک وائرل ہو گئے ہیں، ان نئی ایپس کے ساتھ ساتھ یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتی رہتے ہیں اور اب بھی مفت میں عریاں تصاویر دکھانے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، یہ کیسے؟ اس کے ساتھ ساتھ ان چیٹ بوٹس کو استعمال کرنے پر پابندی لگائی جاتی ہے جو صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کرتی ہیں، تو کیا اس سے معاشی منافع بھی اٹھتا ہے؟ یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ اپنی اپنے حیرت کی حالت میں لپک گئے ہوں، لیکن اس سے پہلے بھی یہ بات معلوم تھی کہ ان اچانک تبدیلیوں کو کیسے اپنایا جائے، ابھی تو کمپنی نے اس کی حفاظتی حدود بہتر بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب وہ یہ دیکھ رہی ہیں کہ ان्हوں نے اچانک ایسے ایپس کی نشاندہی کر دی ہے جو صارفین کی تصاویر کو عریاں بناتے ہیں، یہ تھوڑی سے غلطی ہے نہ?!
 
ایسے ٹیکنالوجیز میں جہاں لوگ اپنی تصاویر بناتے ہیں تو وہیں ایک نئی پالیسی لگی جیسے کہ کوئی بھارosa۔

عجیب بات یہ ہے کہ لوگ اپنی تصاویر بناتے ہوئے معاشی فائدہ اٹھانے کے لئے جتنا زیادہ سے زیادہ مفت ہیں یوں زیادہ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جو کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی تصاویر کی معاشی فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے جسم کے ساتھ کپڑا پہنا لیتے ہیں۔
 
یہ ایسا محض یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں، لیکن اب اس سے زیادہ یہاں کی کمپنیوں نے اپنے اِسٹریٹجیز کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک پر لگائی گئی توجہ اور اب یہاں کی ایپس نے اپنی جانب سے بھی تصاویر کو عریاں کرنے کی صلاحیت دتی ہے، جو معاشی طور پر منافع بخش رہ رہی ہے۔

جس کے بعد اب یوٹیوب پر لوگ اپنی تصاویر بناتے رہتے ہیں اور ایسے میڈیا کو دیکھنا ہوتا ہے جس سے ان کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے، جو غالباً معاشی طور پر منافع بخش ثابت رہتے ہیں۔
 
اس نئی ایپریشن کی سے زیادہ ایسے مواقع ہیں جو لاکھوں لوگوں کے مقبولیت کو ٹھوس جگہوں پر ہی رکھ سکتا ہے، لیکن اس کی ایسے صارفین بھی ہیں جو اپنے یوٹیوب پر تصاویر بنانے کا فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں، اور اب انصاف کا ایپرشن نئی پچھلی جانب سے آ رہا ہے، جس میں لوگ اپنی تصاویر بغیر کپڑوں کی دکھانے کے لئے اسٹائل بناتے رہتے ہیں۔

میں سوچتا ہے کہ یہ ایسا محض بھوت فیکٹری نہیں ہے، اور اس کی تیز رفتار ترقی سے لوگوں کے لئے ایک خطرہ بھی بن رہا ہے، اور یہ لوگ ایسے اپنے تصاویر کو منہ جھکایا کر رہتے ہیں۔
 
واپس
Top