عراق کی ایئر چیف نے جے ایف-17 تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر طیاروں پر اپنی دلچسپی ظاہر کی، ان بہترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک جو پاکستان کے محض فوجی تعاون کی جانب سے اس وقت تک نہیں ملا تھی۔
دورے کے دوران، عراقی ایئر چیف نے ایک بار پھر پاک فضائیہ کی ان کامیاب ٹیکنالوجیز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں دلچسپی ظاہر کرنا ایک حقیقی اور منصفانہ عمل ہے۔
دوسری طرف، پاک فضائیہ نے عراقی افواج کو تربیت اور صلاحیت سازی میں بھی تعاون کیا ہے اور دونوں کمانڈرز نے مشترکہ مشق اور تربیتی پروگرامز کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان میں جے ایف-17 تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی موجودگی عراقی افواج کو بھی نئے منصوبوں کا ماحول فراہم کر سکتی ہے، جو ان بہترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہیں جس نے پاکستان کے علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
دونوں ممالک نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر عزم ظاہر کیا ہے، اور ان تعاملات سے دونوں افواج کو بھی ایک دوسرے کے خلاف مزید قوی ہونے کی اجازت ملتی ہے۔
عرب دنیا میں ایسی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں پر فخر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان اور عراق دونوں افواج کو ایک دوسرے سے مل کر بڑھاتے ہیں، اور ان تعاملات سے علاقائی تحفظ اور امن کے منصوبے بھی یقینی بن جاتے ہیں۔
سوال کی گئی ایسی جگہ ہے جہاں دو ملکوں میں تعاون اور ترقی کے شاندار ماحول کو دیکھنا ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے
پاکستان کی فوجی ایئر فورس کو یہ اعزاز ملتا ہے کہ وہ عراقی افواج سے جیسے ہی تعاون کر رہی ہے، جو ایک حقیقی اور منصفانہ عمل ہے۔ اس میں پاکستان کی فوج کا دھائی دہائیوں سے اپنے علاقائی استحکام پر کام کرنا شامل ہے۔
اجرار کی گئی باتیں سے بات چیت کو دیکھتے ہوئے، دونوں ملکوں میں ایسی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں جو کہ پاکستان اور عراق دونوں افواج کو ایک دوسرے سے مل کر بڑھاتے ہیں، اور ان تعاملات سے علاقائی تحفظ اور امن کے منصوبے یقینی بن جاتے ہیں۔
ایسا نہیں ہوگا کہ عراق کی ایئر چیف کو ان ٹیکنالوجیز پر دلچسپی نہیں، یہ پاکستان اور عراق کے درمیان تعاون کی نئی چھاوٹ ہے!
دونوں افواج کے لئے یہ ایک بڑا قدم ہے، اور یہ سےRegion میں Peace and Stability ki possibility bhi badhti hai. Pakistan aur Iraq ke beech jo sahyog kiya jaa raha hai, vah ek bahut hi achha niti hai.
Iraqی ایئر چیف کی Pakistani Air Force ki kamyabi par tulna karna ek mazboot tehsil hai, aur dono hi afwaj ko ek dusre ke saath mazboot banane ka mauka mil raha hai!
پاکستان کوIraqی افواج کی ان مہم رچنے والی ٹیکنالوجیز کی طرف ایک نظر دیکھنی چاہئیے۔ یہ ٹیکنالوجیز پاکستان کے علاقائی استحکام کے لیے بہت اہم ہیں، اور عراقی افواج کی طرف سے ان کا پیش کش پاکستان کو ایک نئا منصوبہ ملا کر رہا ہے
بھی ہوا ہے اس خبر پر، عراق کی ایئر چیف نے پاکستان کی فضائی افواج کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان ٹیکنالوجیز میں سے ایک جے ایف-17 تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر کو بھی انھوں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان اور عراق دونوں افواج نے مشترکہ تربیت کے پروگرامز کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جو defence کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اس سے عرب دنیا میں ایسی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کی فخر ہوتی ہے جو دونوں افواج کو مل کر بڑھاتی ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ عراقی ایئر چیف کو پہچاننا نہیں ہوگا اگر وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کی فوج کو دیکھا ہے اور ان کی ٹیکنالوجیز میں دلچسپی ظاہر کی ہے. جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقی اور منصفانہ عمل ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کی فوج نے عراقی افواج کو تربیت دی ہے اور دونوں کمانڈرز نے تعاون کیا ہے.
مگر، یہی نہیں، اس میں ایک بھی بات ہے جس پر فخر کرنا چاہئے اور وہ وہ ہے کہ پاکستان اور عراق دونوں افواج نے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کی وعدہ دی ہے.
جیسے کہ میں انڈسٹریال رپورٹس پر بھی دیکھتا ہوں کہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ جے ایف -17 تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر طیاروں کا عراق میں استعمال شروع ہونے کا کوئی معینہ نہیں ہے، لیکن اس بات پر فخر کرنا ہوگا کہ دونوں ممالک نے ایسے تعاملات میں شمولیت کی ہے جس سے علاقائی تحفظ اور امن کے منصوبے بھی یقینی بنتے ہیں.
عربی دنیا میں تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں پر فخر کرنا ایک بڑا کام ہے، đặcتھا پاکستان اور عراق دونوں افواج کو ملا کر ان کے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنایا جا رہا ہے... پھر بھی ، یہ ایک نئی دھارہ کے لئے حقدار ہیں جو ہمیں اس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے...
بہت دلچسپی دکھا رہے ہیںIraq کی ایئر چیف اور پاک فوج کے درمیان. میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعاون پاکستان کے علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنائے گا, اور دونوں افواج کو ایک دوسرے سے مزید قوی بناتا ہے. arab world میں یہ تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں بھی فخر کا مظاہر ہو رہی ہیں, اور ان تعاملات سے علاقائی تحفظ اور امن کے منصوبے یقینی بن جاتے ہیں.
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی فوج نے عراقی افواج کو ایسے ٹیکنالوجیز پیش کرنے میں تھوڑا.delay ہوا، لیکن اب وہ ان بہترین ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جو ان کے علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں...
یہ بہت اچھا نیوز ہے! عراق کی ایئر چیف نے پاکستان کی فضائی قوت کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کی، اور اب وہ جے ایف-17 تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر طیاروں پر دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں... یہ سب پاکستان کے علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کی طرف لے جاتا ہے!
ایسا نہیں کہ پاکستان کی فوج ایک ہی فوجوں کو تھنڈر فائٹر اور سپر مشاق ٹرینر بھیج سکتا ہو، ان سب فوجوں میں سے ایک اپنی فخر کرتا ہے تو دوسری کو کمزوری سمجھتا ہے
دونوں ملکوں نے ایسے منصوبوں کو تھامایا جو ان کے علاقائی استحکام اور دفاعی تعلقات کو مضبوط بنائے، لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان منصوبوں سے کیا فائدہ ہوا، اور کس طرح انھیں مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے
عرب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ملک اپنی قوتوں کو دوسرے ملک سے بھی اہل بنایے۔ وہ ملک جو اپنے افواج میں مہارت کو بڑھانے کے لیے دوسرے ملک کی طرف رونما ہوتا ہے، وہ ملک کس طرح ناخواندگی میں پڑتا ہے؟
پاکستان اور عراق کے بچھتے تعامل سے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ دفاعی تعلقات کو ایک دوسرے کی جانب سے سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اس پر فخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ تعامل ایک دوسرے کی قوتوں کو بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا مظاہر ہوتا ہے، جس سے ان دونوں ملکوں کو بھی ایک دوسرے کی جانب سے سمجھنا پڑتا ہے۔
عرب دنیا میں ایسے سلوک پر فخر کیا جا سکتا ہے جس سے دو دوسرے ملکوں کی افواج کے درمیان بھلے تعاملات پیدا ہوں، پاکستان اور عراق کی ایئر چیف کی جانب سے ایک دوسری کے ساتھ ملاپ پر تبصرہ کرنا ایک اچھا سائنس ہے