آدھا وزیر اعلیٰ اور آدھی ریاست | Express News

فلمساز

Well-known member
''پچھلے ہفتے ، غاصب و قابض بھارتی حکومت نے جموں میں ایک نئی دیر نہیں رکھنے والے نئے میڈیکل کالج اور اس کا نام وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ ہسپتال اِسے منسوخ کر دیا جبکہ 46 مسلمان لڑکے لڑکیوں نے میرٹ میں اپنی چھاپ لی اور وہاں کئی سیٹیں مختص کی گئی تھیں۔یہ منظر بھارتی مقتدر، بنیاد پرست اور متعصب پارٹی بی جے پی اور بھارتی ہندوؤں کو کس طرح چمک رہا ہے ۔ کئی سیٹیں مختص کرنے سے کہیں بھی وہاں کے مسلمان طلباء اور طالبات کو داخلہ نہ مل سکا تو انہیں دوسرے میڈیکل کالجوں کے دروازوں پر ڈھائی رکھ دیا گیا۔ اس صورت حال کی بھارتی حکومت اور بی جے پی نے ایسا کیا تاکہ وہاں کے ممتاز لڑکے لڑکیوں کو کبھی وہاں داخلہ نہ مل سکے اور ان کی بے کار زندگی جاری رہے ۔

تخفیف کی پہلی دیر اس وقت جموں میں کھلنے والی تھی ، جو کہ وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کا نام رکھی گی۔یہ کالج پچھلے سال ہی جموں میں کھولا گیا تھا ، جس میں 50 سیٹیں رکھی گئی تھیں اور وہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے طالباء و طالبات داخل ہونے کو مریت سے بہت زیادہ فرصت ملا رہی تھی، ایک سیٹ کوٹے پر بھی نہیں تھی۔

سولز کی دیر کچھ دنوں میں ہی منسوخ کر دی گئی جبکہ اس منظر اور صورت حال سے وہاں کے مسلمان طلباء اور طالبات نے ان پر بے چینی کا اظہار کیا۔ یہ منظر بھارتی مقتدر، بنیاد پرست اور متعصب پارٹی بی جے پی اور بھارت کی ہندوؤں کو کس طرح چمک رہا تھا۔

سپلی میکس کے بعد ایسے نئے منظر پر زور دیا گیا جو دوسری مٹھی پھیلنے والا ہو، جس سے وہاں کے مسلمان طلباء اور طالبات کو داخلہ حاصل نہ ہونے کی صورت حال پر گھبرا۔ وہاں کے تمام ممتاز لڑکے لڑکیوں کو سولز کے منظر سے باہر رکھ دیا گیا اور انہیں دوسری مٹھی پھیلنے والے نئے میڈیکل کالج وہاں بھی شامل کر دیا گیا، جس کے لیے ان کی تعلیم جاری رہے گئی اور ان کی زندگی نئی ہو गई۔

یہ منظر یہ بتاتا تھا کہ یہ مٹھی پھیلنے والی سولز کی دیر اس وقت جموں میں کھلنی والی تھی ، جو وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کا نام رکھی جائے گی۔ یہ کالج پچھلے سال ہی جموں میں کھولا گیا تھا ، جس میں 50 سیٹیں رکھی گئی تھیں اور وہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے طالباء و طالبات داخل ہونے کو مریت سے بہت زیادہ فرصت ملا رہی تھی، ایک سیٹ کوٹے پر بھی نہیں تھی۔

اس صورت حال اور منظر کا شکار ان تمام متمول لڑکے لڑکیوں کا ساتھ ہو گیا جو سولز کی دیر کے لیے اپنے حق سے باہر ہی رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں وہاں پر داخلہ نہ مل سکے اور اس صورت حال میں ان کا دوسرا راستہ بھی قائم ہو گیا۔

اس صورت میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مٹھی پھیلنے والی سولز کی دیر کو آپ نے اپنی ہی دیر کے طور پر وہاں شامل کر دیا، جس سے انہیں داخلہ حاصل نہ ہونے کی صورت حال پر گھبرائی۔ انہیں یہ بھی پتہ لگایا کہ وہ آدھے اور نصف رکن بن جاتے ہیں، اس طرح ان کے سیاسی اور سماجی درجے میں بھی گिरावٹ آئی۔
 
Wow 🤯۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں میں ایسے نئے منظر پر زور دیا گیا جو دوسری مٹھی پھیلنے والا ہو اور وہاں کے مسلمان طلباء اور طالبات کو داخلہ حاصل نہ ہونے کی صورت حال پر گھبرایا جائے۔
 
بھارتی حکومت کی وہ دیر جو سولز کا نام رکھی جائے گی وہ پچھلے سال ہی آپ نے کھول دی تھیں ، اس نے 50 سیٹیں رکھی تھیں وہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے طالباء و طالبات داخل ہونے کو مریت سے بہت زیادہ فرصت ملا رہی تھی ، یہ دیر اب انہیں داخلہ نہ دینا چاہتی ہے اور اس کے بجائے وہ آدھے اور نصف رکن بن جاتے ہیں۔
 
اس صورت حال میں یہاں تک نہیں پہنچا تھا کہ کس قدر کھل کر بی جے پی اور بھارتی ہندوؤں کی سولز کی دیر کو اپنی ہی دیر کے طور پر شامل کر لیا گیا ہے؟ اس میڈیکل کالج کے نام کو آپ نے وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس رکھ دیا، جو جیسے جیسے آپ اس کی دیر سے باہر ہیں، وہ آپ کے لیے بھی اچھا ہو گا۔
 
جبکہ مجھے یہ بات تو اتنی عجیب لگ رہی ہے کہ وہ نئا کالج 46 مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کو داخلہ نہ دے سکتا ہو جس میں یہ سب مریٹ کے لیے چھاپ کر بیٹھے تھے اور اس کی وجہ وہی ہوتی ہے کہ وہ اسی حکومت کی طرف سے منسوخ کردیا گیا۔ اور اب ان کو یہ نئا کالج ملا جاتا ہے جو اس 46 لوگوں کو اس میں داخلہ دینے کے ساتھ ساتھ اسی حکومت کے دائرہ اختیار تک بھی وapas لے رہا ہو۔
 
اس صورت حال کو دیکھتے ہی بھارتی حکومت کی منظر نہ صرف وہاں کے مسلمان طلباء اور طالبات کو چمک رہی ہے، بلکہ یہ انہیں زندگی سے باہر رکھنے کی بھی داستانی عکاسی کر رہی ہے
 
واپس
Top