اگلا وزیراعظم کون؟

گفتگوباز

Well-known member
بھارت نے جس طرح فوجی حملوں کا سامنا کیا، اسی طرح بنگلہ دیش کا سیاسی معرکہ بدل رہا ہے۔

تہائی ووٹرز میں سے نصف ووٹرز کا خیال ہے کہ طارق الرحمان بنگلہ دیش کا مستقبل کا وزیر اعظم بن سکتا ہے، اور یہ پیپلز الیکشن پلس سروے میں سامنے آیا ہے جس میں نجی کنسلٹنگ فارم ’انوویشن کنسلٹنگ‘ نے تیسرے راؤنڈ کے طور پر سرور کیا تھا۔

اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ طارق رحمان کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے کے امکانات زیادہ قرار دیا گیا، اور یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔

عوام مظاہروں میں نہ ہونے کی وجہ سے ووٹرز نے یہ بات کھیل دی کہ وہ جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی سے مہنتوں سے دوری ہو کر بی این پی کی طرف توجہ دی رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طارق رحمان کو ووٹز ملیں گئیں۔

آم کی شامیوں کا ارادہ بھی ہوتا تھا کہ وہ عوامی لیگ سے متعلق ہی یہ رائے پیش کریں لیکن اب وہ اپنے فوج کے اسٹینڈنگ کو پکڑے ہوئے ہیں۔

اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ 22.5 فیصد ووٹرز نے شفیق الرحمان کو وزیر اعظم کے طور پر جیتنے کا امکان زیادہ قرار دیا، اور ایک ہی 2.7 فیصد نے ناہد اسلام کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھا لیکن وہ ابھی فیصلہ نہ کر سکا تھا۔

اس سروے میں پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 22.2 فیصد ووٹرز ابھی ووٹز نہ دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی ایک اور ایسی ساتھیوں کی مدد لینے کی ترغیب تھی کہ وہ بی این پی کی حمایت کرنے کو کہنے کے بجائے طارق رحمان کا نام لیا رکھتے ہیں۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ فوری انتخابات میں بی این پی کی حمایت میں جو اضافہ ہوا، اس میں ووٹرز نے بھی اسی طرح کا اضافہ دیکھا ہے جس سے پچھلے سروے میں طارق رحمان کو چیریٹج ہونے کا امکان تھا۔

اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ بی این پی کی حمایت میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں طارق رحمان کو ووٹز ملیں گئیں، جس سے وہ اپنے فوجی رکنوں کی مدد لینے والے بھی اپنی قوت کا اعلان کر رہے تھے۔

اس سروے میں پتہ چلتا ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمائتیوں نے بی این پی کی طرف سے ووٹز دکھایں، اور ان کے 32.9 فیصد کو بھی اس کے ساتھی بننے کا خیال تھا لیکن فوج نے انہیں اپنی لچک میں نا اچھا سمجھ کر ان کی طرف سے ووٹز اور صلاحیت پر دباؤ ڈالا تھا، جو نتیجے میں وہ عوامی لیگ کے ساتھ بھی اس طرح سے ووٹز نہیں دکھا سکے لیکن انہیں اپنے فوجی رکنوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ وہ کس بات پر یقین رکھتے ہیں۔

اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ 22 فیصد ووٹرز نے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں آئینی اصلاحات کی پالیسی پر ریفرنڈم میں “ہاں” ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور صرف 22 فیصد اس سے لاعلم تھے۔

اس سروے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ طارق الرحمان کی حمایت میں ووٹز میں اضافہ ہوا لیکن یہاں تک کہ پچھلے سروے سے فرق بہت زیادہ تھا، اور پوری دیر کچھ نہیں ہو سکتی۔

اس سروے کے نتیجے میں طارق رحمان کی حمایت میں ووٹز میں اضافہ ہوا لیکن اسی طرح کا اس کے جس سے پچھلے سروے سے فرق تھا، اور یہ بات سامنے آئی کہ ووٹرز کو یہ نہیں مل سکتی کہ ان کی اسی طرح کی رائے وہ طارق رحمان کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں۔

اس سروے کے نتیجے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نتائج بنگلہ دیش میں طاقت اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک میں سیاسی لچک اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جو بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے قریب اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
 
ਭਾਰਤ ਦੇ ਫੌਜੀ ਹਮਲਿਆਂ ਨੂੰ دیکھ ਕੇ ਬੰਗਲਾਦੇਸ਼ ਵੀ ਪ੍ਰਤੀਕੁਲ ਪਹੁੰਚ ਗਿਆ ਹੈ।

ਬੰਗਲਾਦੇਸ਼ ਵਿੱਚ ਜਿਹੜਾ ਰਾਜਨੀਤਿਕ ਮਾਰਚ ਬਣ ਰਿਹਾ ਹੈ, ਉਸ ਦਾ ਲਗਪਗ 50% ਫੌਜੀ ਡਰਾਂਗ ਤੋਂ ਅਧੀਨ ਵੋਟਿੰਗ ਕਰ ਸਕਦੇ ਹਨ, ਲੈਕ ਯੂ ਐਮਡੀ ਫਾਊਂਡੇਸ਼ਨ ਦੁਆਰਾ ਅਧੀਨ ਪਿੰਟ 20% ਡੌਨਜ ਕੋਲ ਤੱਥ ਉਠਾਏ।

ਬੰਗਲਾਦੇਸ਼ ਵਿੱਚ ਆਈ ਐਨ ਪੀ ਦੀ ਮੁੜ ہੋਣੀ ہے,

ਅਤੇ

ਬੰਗਲਾਦੇਸ਼ ਵਿੱਚ ਪਹਿਲਾਂ ਭੀ

ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੇ ਡਰਾਂਗੋਂ ਬਣੇ ਕੁਝ 50% ਵੋਟਰز ہੋਏ,

یہ سਭیں حال ہی میں ہوئے ،

وہ لوگ جو اچھے لائسنس ਡراپ کرکے فوج کا سٹینڈنگ تھے ان کی یہ اسی طرح سے ناکام ہوئی ।
 
اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ طارق الرحمان کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے کا امکان زیادہ قرار دیا گیا تھا، اور یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔ لاکھوں لوگ عوامی مظاہروں میں نہ ہونے کی وجہ سے طارق رحمان کو ووٹز ملیں گئیں، اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام نے اپنے سیاسی معاملات میں تیزی سے تبدیلی کر رکھی ہے۔
 
جی ووٹرز کو بھی اس بات کو سمجھنے میں کچھ عرصہ لگتا ہے کہ طارق رحمان کو مستقل وزیر اعظم بننے کا امکانات زیادہ قرار دیا گیا ہے تو وہ بی این پی کی طرف جانا چاہتے ہیں، یہ ایک بڑا معمہ ہے جس سے ووٹرز کو اچانک پیغام ملتا ہے کہ ان کی اسی رائے کو وہ واضح طریقے سے ظاہر کرنا چاہتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں یہ نہیں مل سکتی کہ وہ ووٹرز کو اس طرح کی اسی رائے سے دیکھنے میں کچھ عرق ڈالتے ہیں، یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ عوام نے اپنی سیاسی وابستگیوں کو تبدیل کر دیا ہے اور وہ اب بی این پی کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ ایک بہت ہی خطرناک معاملہ ہے جو کہ ملک میں طاقت اور غیر استحکام کے درمیان فاصلوں کو واضح کر رہا ہے
 
جی وہاں سے میری نظر انٹرنیٹ پر پڑی ہوئی تھی، لگتا ہے عوامی لیگ کی صورتحال بہت دکھ کے سامنے آئی ہو گی اور وہاں سے میری ذہانت بھی اچھل گئی ہوگی، بنگلہ دیش میں فوج کی مدد سے طارق رحمان کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونا ایک عجیب بات ہے، لگتا ہے وہ فوج کے درمیان سے بھی اچھل گئے تھے تو یہ کیسا آئے گا، فوری انتخابات میں بی این پی کی حمایت میں اضافہ ہوا تو ووٹرز نے پچھلے سروے سے فرق دیکھنا جاری رکھا ہے، لگتا ہے فوری انتخابات کا نتیجہ کیسے آئے گا؟
 
ارے میرے دو سے! اس سیاسی معرکے میں جس طرح بھارت نے فوجی حملوں کا سامنا کیا، اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی طارق الرحمان کو مستقبل کا وزیر اعظم بننے کا امکان زیادہ قرار دیا گیا ہے!

جب تک ووٹرز نے مظاہروں کی طرف اشارہ کیا، تو انھوں نے طارق الرحمان کو ایسی صورتحال میں دیکھا جس سے وہ اپنے فوجی رکنوں کی مدد لینے والے بھی اپنی قوت کا اعلان کر رہے تھے!

لیکن اب جب ووٹرز نے عوامی لیگ سے دوری کھیل دی، تو انھوں نے طارق الرحمان کی طرف جانے کا فیصلہ کیا! اور اس نتیجے میں انھوں نے ایک نئی سیاسی صورتحال کا تجربہ کیا جس سے وہ طارق رحمان کی قوت کو دیکھتے تھے!

ہم سے پوچھیں کہ ملک میں Politics ki Kya Baat Hai? ہم سے انھیں بات کرنے پر مجبور ہونے کو نا پسند ہوتا ہے!
 
ٹارق الرحمان کو مستقبل کا وزیر اعظم بننے کے امکانات زیادہ قرار دیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد کی صورت حال بہت مختلف ہو گئی ہے۔ عوامی لیگ اور طارق الرحمان کے ساتھیوں نے ووٹز دیکھنے کی کوشش کی لیکن فوج نے انہیں اپنی لچک میں سمجھ کر ان کی طرف سے ووٹز اور صلاحیت پر دباؤ ڈالا تھا۔

اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ طارق رحمان کی حمایت میں ووٹز میں اضافہ ہوا لیکن اسی طرح کا اس کے جس سے پچھلے سروے سے فرق تھا، اور یہ بات سامنے آئی کہ ووٹرز کو یہ نہیں مل سکتی کہ ان کی اسی طرح کی رائے وہ طارق رحمان کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں۔

اس سوالات کو حل کرنے کی ضرورت ہے کہ عوامی لیگ اور فوج کے درمیان طاقت کا نئا توازن کیسے استحکام میں آیا لیکن ووٹرز کی رائے کی ایسی ساتھی ہوا کیوں نہیں تھی جو وہ طارق رحمان کو چیریٹج کرتے تھے۔
 
پارلیمانی انتخابات کا ایسا ماحول بن گیا ہے جہاں سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور عوام مظاہروں کی بجائے ووٹرز اپنے دل کے مطابق اور اپنے دوسرے کے خلاف ووٹز دیکھتے ہیں... 😐

اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ طارق الرحمان کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے کا امکان زیادہ قرار دیا گیا، اور ووٹرز نے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی سے دوری اور بی این پی کی طرف توجہ دی رہی ہے۔

اس سروے کے نتیجے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نتائج بنگلہ دیش میں طاقت اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک میں سیاسی لچک اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں... 🤔
 
بھارت نے جس طرح فوجی حملوں کا سامنا کیا، اسی طرح بنگلہ دیش کا سیاسی معرکہ بدل رہا ہے ،لیکن یہ بات ضرور رکھنی چاہئے کہ پوری دنیا میں ووٹرز کی رائے آسانی سے نہیں لگتی، ابھی بھی وہ لوگ جو شفیق الرحمان کی جانب ووٹز دکھانے والے تھے اور اس کا خلاف فراموش کر گئے، انھیں یہ سمجھنا چاہئے کہ طارق رحمان کے ساتھ بھی ووٹز نہیں ڈال سکتی، اور جو لوگ شفیق الرحمان کی جانب ووٹس دکھایے ابھی ان کی جانب ووٹز نہیں ڈالیں گی۔
 
اس سروے میں طارق رحمان کی حمایت کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ وہ اپنے مواقع پر فوج کی مدد لے رہے تھے، اور وہ اس لیے بہت زیادہ مقبول ہوگئے تھے۔

میں یہ سोचتا ہوں کہ عوامی لیگ نے ایسا کیے تھا کہ وہ اپنے سابق حمامتیوں کو فوج میں شامل کرنے پر مجبور کریں، اور اب وہ ان سے بچتے ہوئے ہیں۔

میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ عوام مظاہروں کی عدم موجودگی نے طارق رحمان کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، اور وہ اس لیے ان سے زیادہ مقبول ہوگئے ہیں۔
 
اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش میں فوری انتخابات کے نتیجے میں ایک نئی طاقت اٹھائی گئی ہے جو عوام کی رائے سے متصادم ہے اور اس نے اپنی فوج کے ساتھ ایک نئا توازن قائم کیا ہے۔ یہ سوچنا مشکل ہوگا کہ عوام کی رائے کس طرح بھیڑ کھیلتی ہے اور وہ طارق الرحمان کو وزیر اعظم بننے کی امید دلاتے ہیں، لیکن یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ عوام نے اپنی رائے کو فوج کے ساتھ ضائع کر دیا ہے جو اسی طرح کی رائے دکھانے میں کمزور ہوا ہے جسے وہ ابھی دیکھتے تھے۔
 
ان سب نئے نتائج پر غور کرتے وقت یہ سوچنا تھا کہ جس طاقت کو اب بھارت سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے وہی ایک ایسی طاقت ہو گی جو جیت گئی اور اب اس نے اپنے فوج کے اسٹینڈنگ کی مدد سے ووٹرز کو اپنا نام دیکھا ہے، حالانکہ عوام مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے اس نے ابھی بھی طارق الرحمان کے حریف ووٹز نہیں دیکھے ہیں۔
 
اس سروے میں یہ بات واضح ہے کہ طارق رحمان کو مستقبل کا وزیر اعظم بننے کا امکان بہت زیادہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس میں کچھ نئی باتوں کی رہنمائی ہے۔ عوامی لیگ سے متعلق شفیق الرحمان کو وزیر اعظم کے طور پر جیتنے کا امکان بھی زیادہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس میں بھی نئی باتوں کی رہنمائی ہے جیسے عوامی لیگ کے سابق حمائتیوں نے بی این پی کی طرف سے ووٹز دکھایا تھا۔
 
سروے کی بات سے بات چیت نہیں، لہٰذا اس میں پورے نتیجے کا مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ یہ سب یہی ہے کہ ووٹرز اپنی حقیقت کے سامنے دھمکے لگا رہے ہیں اور ان کی رائے کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امرिकہ کی طرف سے ایسے سروے جاری کرنا تو بھی نہیں کہ ان لوگوں میں یہ واضح سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی جو یہ بات دیکھتے ہیں کہ ووٹنگ کا مطلب کیا ہے اور اس کے بعد بھی ووٹر اپنی حقیقت کے سامنے اتر جائیں گے۔
 
واپس
Top