اگلا وزیراعظم کون؟

شاہین

Well-known member
تجارتی طور پر بھی یہ بات سمجھنے کو مشکل نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کے تقریباً نصف ووٹرز میں مگرمچ پڑ رہا ہے کہ اُس کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش کی قومی پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان ووٹرز کی طرف سے مستقبل میں ملک کے وزیر اعظم بننے کے امکانات کو زیادہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں میں سیاسی سٹریجیز، جماعتیں اور ان کی فوجی مدد بہت مختلف ہیں۔ لیکن وہ جس صورت حال کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ یقین نہیں دیتے کہ طارق رحمان کا یہ ووٹنگ میڈیا میں پھیلایا گیا خلیفہ کا حقداری ہو گا اور وہ ملک کی فوج کے ذریعہ قبضے سے محفوظ رہنے کے لیے بڑی حد تک فخر کرتے ہیں۔
اس سروے کا یہ مطلب ہے کہ ووٹرز کے ذہن میں وہی شخص اور جماعت کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جو ملک کے وزیر اعظم بن سکتا ہو، اس نتیجے میں طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ووٹرز کو جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے وہ اب دیگر جماعتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی بی این پی کو اپنی نئی سیاسی حمایت میں شامل ہو کر ووٹ دینے کی جانب دیکھتے ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کا ایک اور پہلا استدلال یہ ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے، اور ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز کی تعداد ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھا جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔
اس سروے سے یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے قریب ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اُن کی جگہ اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کا ایک اور پہلا استدلال یہ ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے، اور وہ جماعت یا وہ شخص اچھا لگتا ہے جس پر انہوں نے یہ اہمیت رکھی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز کا ایک اور پہلا استدلال یہ ہے کہ وہ لوگ ہیں جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے، اور وہ جماعت یا وہ شخص اچھا لگتا ہے جس پر انہوں نے یہ اہمیت رکھی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور اس کا یہ مطلب ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھا جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔
اس سروے سے یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے قریب ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اُن کی جگہ اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کا ایک اور پہلا استدلال یہ ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے، اور وہ جماعت یا وہ شخص اچھا لگتا ہے جس پر انہوں نے یہ اہمیت رکھی ہے۔
 
Wow 🤯! بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی صورت حال کا ویزیشن، ووٹرز کی طرف سے اسے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت بننے کی بات بہت دلچسپ ہے! ایسی صورتحال میں عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی بی این پی کی طرف اپنی حمایت بڑھا رہے ہیں! یہ بات بھی Interesting ہے کہ ووٹرز نے فوج کی مدد سے ملک میں قبضے سے محفوظ رہنے کے لیے فخر کیا ہے! Wow!
 
بنگلہ دیش میں وزیر اعظم بننے کے لیے طارق رحمان کا ووٹنگ میڈیا میں پھیلایا गया خلیفہ حقداری نہیں ہوگا؟ یہ بات تازہ سرورے سے سامنے آئی ہے۔

میں خیال کرتا ہوں کہ یہ بات واضح ہے کہ عوام بھی طارق رحمان کی طرف سے ملک کے وزیر اعظم بننے کا امکان زیادہ سمجھتے ہیں، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھی جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔

لیکن یہ بات بھی صریح ہے کہ عوام بھی طارق رحمان کی جماعت پر زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، اور وہ لوگ جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے، اب ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھی جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔

اس سرورے سے یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے، اور ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اُن کی جگہ اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔
 
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو ملک کے وزیر اعظم بننے کا امکان اب بہت زیادہ نظر آ رہا ہے، مگر اس بات کو واضح کرنا چاہिए کہ ووٹرز کی جانب سے انہیں یہ ووٹز کیے گئے ہیں؟ یا یہ کہ عوام نے انہیں اپنی نئی جماعت کی طرف مائل کرنے میں مدد دی ہے؟ مگر اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹرز کو سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثیت طارق رحمان کے پاس ہوئی ہے۔ مگر یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ عوام لیگ کے سابق حمایتی بھی بی این پی کی طرف اُٹھتے ہیں، جو سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوامی لیگ کی Leadership نے کیا ہے؟
 
پاکستان میں ایسے لوگ جو کہ بنگلہ دیش کی طرف سے ووٹرز کی جگہ پر آ رہے ہیں، ان کو یقین نہیں تھا کہ وہ ملک میں قبضہ میں پھوسن گئے ہوں گے لیکن اب وہ ایسا سمجھ رہے ہیں۔
اس سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طارق رحمان کی جماعت کو ملک کے وزیر اعظم بننے کا امکانات بڑھ گئے ہیں، اور عوامی لیگ کے سابق حمایتی بی این پی کی طرف سے بھی اپنی حمایت میں شامل ہو رہے ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کا ایک اور پہلا استدلال یہ ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے، اور وہ جماعت یا وہ شخص اچھا لگتا ہے جس پر انہوں نے یہ اہمیت رکھی ہے۔
 
بنگلہ دیش کے ووٹرز کی جانب سے طارق رحمان کو وزیر اعظم بننے کا امکان بڑھتا جاسکتا ہے کیونکہ اُسے مگرمچ پڑ رہی ہے کہ اُن کے صاحبزادے اور بی این پی کے چیئرمین ووٹرز کی طرف سے اس منصوبے میں زیادہ سمجھتے ہیں۔ یہ بات کافی حیران کن ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ووٹرز کو ایسے اچھے نے تھے جو اب اُن کی جگہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔
 
تارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ عوامی لیگ کے previous supporters بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان نے کیا ہے اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئی ہے
 
بنگلہ دیش میں طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثیت حاصل ہوئی ہے، یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی ان کی طرف سے ووٹ دینے لگتے ہیں اور جماعت اسلامی سے جھلک رہے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہتے ہیں۔
 
تمام لوگ ایسا کھیل دیکھ رہے ہیں کہ جو پیٹرن ہے اس کو بدلنا پورا نئا کھیل بن جاتا ہے! بنگلہ دیش میں حال ہی میں آئی ایس پی اور اب یہ طارق رحمان کی طرف سے ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کا حقداری ہونے کی بات سامنے آئی ہے!

سورے میں نہیں دیکھ پاتا کہ ملک کے ووٹرز کو اس کے لیے جو اہمیت رکھتے تھے اب وہی ہیں، یا ان کی جگہ اب ایسے لوگ ہیں جو پہلے نہیں رہے تھے! یہ صرف پیٹرن کا کھیل ہو گا؟
 
بی این پی کا طارق رحمان کے لیے ووٹز کی بڑی تعداد میں اچھا نتیجہ دیکھنے پر یہ بات تو ایک اور بھی ہو گئی ہے کہ وہ مگرمچ پڑ رہے ہیں کہ طارق رحمان ملک کا وزیر اعظم بن سکتے ہیں، لیکن ان کی جیت کو یہ بھی سمجھنا اچھا ہو گا کہ وہ عوامی لیگ کو چھوڑ کر بی این پی کی طرف جھلک رہے ہیں؟
 
بھلے اس سروے کے مطابق وٹرز میں طارق رحمان کی طرف سے وزیر اعظم بننے کا امکان زیادہ ہو گیا ہے۔ اور عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کی ایسے نئے سیاسی منصوبوں کی ضرورت ہے جو ووٹرز کو خوش کر سکیں اور انہیں اپنے امیدوارز کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
 
بنگلہ دیش کے ووٹرز میں مگرمچ پڑتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ طارق رحمان کو ملک کا وزیر اعظم بننے کا امکان زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ میں سोचتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، بلیٹ زون کے بارے میں وہ سب کچھ یہاں تک سمجھتے ہیں اور فوج کی مدد سے ان پر پابندی لگانے کی کوشش کی جائے گی۔ عوامی لیگ کی سٹریجیز بھی مختلف ہیں لیکن ووٹرز میں مگرمچ پڑتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس شخص اور جماعت کو جس پر ووٹرز سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں وہ ملک کے وزیر اعظم بننے کی سंभावनات میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
 
بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے کی تلاش میں طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی لیگ کا بھی انھیں سب سے زیادہ اہمیت رکھنا شروع کر دے گا۔ ووٹرز کی جگہ پر اب پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے، حالانکہ اب ان کی جگہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ملک میں siyasi عدم استحکام کی صورت حال سامنے آئی ہے، اور ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہے ہیں۔
 
😐 اُن کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثیت حاصل ہوئی ہے، مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ ووٹرز کی جگہ پر اب وہ لوگ ہیں جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تو ایک بات hai, مگر کیا اس میں بھی ووٹرز نہیں تھے جو کہ بی این پی کی طرف جھلک رہے ہیں؟ یہ تو دو-sided ہونا چاہیے، یا کیا کسی جماعت کو ایسا موقع حاصل ہوتا ہے جو ووٹرز نہیں دیتے? 🤔
 
یہ سب کچھ بہت خطرناک ہے، طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثیت حاصل کرنے کی یہ بات کو سمجھنے کے لیے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ ہو گیا ہے، عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو یہ جگہ پانے پر ایسی تاخفے کا بھی لاحق ہے کہ وہ نہیں چاہتے۔
 
بھلے بھی، ایسے میڈیا کی خبر کرو دے جو کہ ووٹرز کے دل کو پھاس لگا سکتا ہے۔ ان لوگوں کے ذہن میں جو یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں وہی اُس کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے تو وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھا جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔
 
تمام لوگوں کو پتہ چل گیا ہو گا کہ بنگلہ دیش میں politics drama تو مزے آتا ہے، لیکن وہ لوگ جو ایسے اہم ووٹرز کی جگہ پر تھے ان کی جانب سے یہ بات بہت کچھ چیلنج کر رہی ہے کہ طارق رحمان کی Leadership کا پھیلایا گیا خلیفہ حقداری ہو گا؟
کوئی نہ کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے اب دوسری جماعتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، مگر فریڈم کا بھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ لوگ جو پہلے اس میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے اب دوسری جماعتوں کی طرف مائل ہو جائیں؟
کیا یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ ووٹرز کا یہ اہل قیادت نہیں رہ سکتا، یا یہ ایک Political Drama ہوتا جہاں لوگ اپنی سیاسی دلچسپی کی وجہ سے ووٹ دیتے ہیں؟
 
جی تو یہ بات یقین نہیں ہوسکتی کہ طارق رحمان کو ووٹرز کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی جماعت کی حیثت حاصل کر لگی ہے، ایسا لگتا ہے کہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے، اور وہ ملک کے ووٹرز کے دل میں ایسی جگہ پانے کو ہمیشہ تھا جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی۔
اس سروے سے یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے قریب ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ایسے ووٹرز جو نہیں تھے اُن کی جگہ اب بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سے جھلک رہی ہے۔
اس لئے یہ بات بھی یقینی نہیں ہوسکتی کہ طارق رحمان کو ملک کے وزیر اعظم بننے کا موقع ملا گya، اور یہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا کہ عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو ووٹرز کی طرف سے کس طرح اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
 
بنگلہ دیش میں طارق رحمان کا مستقبل ملک کے وزیر اعظم بننے کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ عوام نے اسے زیادہ اہمیت دی ہے جس کی پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کا مظاہرہ کیا تھا اور اب وہ اس کے پاس ڈیڑھ فیصد تک ووٹرز کے دستے ہیں جو پہلے عوامی لیگ کی حمایت کر رہے تھے۔
 
تمام لوگ یہ سمجھنے کے قابل ہیں کہ بنگلہ دیش میں طارق رحمان کو ملک کا وزیر اعظم بننے کا امکانات کیوں زیادہ ہے؟ یہ صرف ووٹرز کے دل میں ایسا اہمیت رکھنا ہی نہیں ہوگا جو عوامی لیگ اور اس کی Leadership کو حاصل تھی، پھر بھی وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طارق رحمان اور ان کی جماعت نے کیا ہے؟ جبکہ عوامی لیگ کے سابق حمایتی اب بھی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ ووٹرز نے یہ اہمیت رکھی ہے، ایسا ہی وہ لوگ جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیز پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اب بھی ان کی جگہ بی این پی کی طرف اُٹھنے والے ووٹرز کا ایک ڈیڑھ فیصد تک پہنچ گئی ہے!
 
واپس
Top