ایلون مسک کی انٹرنیٹ کمپنی اسپیس ایکس کے خلاف ایران نے بڑھتی ہوئی مظاہروں کی شدت اور امریکی حملوں کی دھمکیوں کے دوران سخت کاروائی کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران نے ملک بھر میں ایلون مسک کی انٹرنیٹ کمپنی اسٹار لنک (Starlink) کی سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز کو اچھی تعداد میں ضبط کرلیا ہے۔
اسٹار لنک ڈیوائسز خصوصی طور پر سیٹلائیٹ براڈ بینڈ کنکشن فراہم کرتی ہیں جو روایتی انٹرنیٹ نیٹ ورک سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور حکومت کی سخت انٹرنیٹ بندش کے باوجود معلومات تک رسائی ممکن بناتی ہیں۔
جب ایران میں مظاہروں نے شدت اختیار کی تو government نے انٹرنیٹ کی بندش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بیرون ملک سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے احکامات مل رہے تھے، جس پر یہ اقدام ناگزیر تھا۔
جب ایران میں انٹرنیٹ بند رہا تو ایلون مسک نے اپنی کمپنی اسٹار لنک کے سٹیلائٹس کی مدد سے براہ راست انٹرنیٹ کی فراہمی مبینہ طور پر مفت شروع کی تاکہ مظاہروں کو ہوا ملے۔
جس پر ایران کی ایجنسیز فعال ہوئیں اور اسٹار لنک سے جڑے آلات کے خلاف گھر گھر چھاپے مارے گئے، اور ڈیوائسز کو ضطب کرلیا گیا۔
ان کارروائیوں میں نہ صرف اسٹار لنک ٹرمینلز بلکہ دوسرے سیٹلائیٹ ڈشز اور مواصلاتی آلات کو بھی ضبط کیا گیا جو حکومت کے نزدیک غیر قانونی شمار کیے جاتے ہیں۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹار لنک جیسے آلات انسدادِ شورش اور معلوماتی جنگ کے لیے استعمال ہو رہے تھے، جو یہ بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسٹار لنک کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اسے ملک میں لانا، استعمال کرنا یا بیچنا بھی ممنوع ہے۔
جس کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، حتیٰ کہ کچھ رپورٹس میں اس کی حد قید یا جاسوسی الزامات تک بتائی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران نے ملک بھر میں ایلون مسک کی انٹرنیٹ کمپنی اسٹار لنک (Starlink) کی سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز کو اچھی تعداد میں ضبط کرلیا ہے۔
اسٹار لنک ڈیوائسز خصوصی طور پر سیٹلائیٹ براڈ بینڈ کنکشن فراہم کرتی ہیں جو روایتی انٹرنیٹ نیٹ ورک سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور حکومت کی سخت انٹرنیٹ بندش کے باوجود معلومات تک رسائی ممکن بناتی ہیں۔
جب ایران میں مظاہروں نے شدت اختیار کی تو government نے انٹرنیٹ کی بندش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بیرون ملک سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے احکامات مل رہے تھے، جس پر یہ اقدام ناگزیر تھا۔
جب ایران میں انٹرنیٹ بند رہا تو ایلون مسک نے اپنی کمپنی اسٹار لنک کے سٹیلائٹس کی مدد سے براہ راست انٹرنیٹ کی فراہمی مبینہ طور پر مفت شروع کی تاکہ مظاہروں کو ہوا ملے۔
جس پر ایران کی ایجنسیز فعال ہوئیں اور اسٹار لنک سے جڑے آلات کے خلاف گھر گھر چھاپے مارے گئے، اور ڈیوائسز کو ضطب کرلیا گیا۔
ان کارروائیوں میں نہ صرف اسٹار لنک ٹرمینلز بلکہ دوسرے سیٹلائیٹ ڈشز اور مواصلاتی آلات کو بھی ضبط کیا گیا جو حکومت کے نزدیک غیر قانونی شمار کیے جاتے ہیں۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹار لنک جیسے آلات انسدادِ شورش اور معلوماتی جنگ کے لیے استعمال ہو رہے تھے، جو یہ بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسٹار لنک کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اسے ملک میں لانا، استعمال کرنا یا بیچنا بھی ممنوع ہے۔
جس کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، حتیٰ کہ کچھ رپورٹس میں اس کی حد قید یا جاسوسی الزامات تک بتائی گئی ہیں۔