ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا شہباز شریف حکومت کی معترف

خطاط

Well-known member
وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات میں مینیجنگ ڈائریکٹر کراسٹلینا جارجیوا نے اپنا اظہار، آئی ایم ایف کے مطابق، کیا ہے۔ وہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیوس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات کو قابل تعرفہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی دولت سے عزت کرتی ہیں، وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی اصلاحات پر بھرپور تعاطف کا مظاہرہ کیا ہے جس کو آئی ایم ایف نے قابلِ تعریف قرار دیا ہے، شہباز شریف کی حکومت نے وہی اصلاحات استعمال کی ہیں جو اس وقت بھرپور مقبولیت حاصل ہوئی ہیں۔

جارجیوا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کبھی بھی کوئی کام نہیں جس کے لئے وہ پکڑتے ہوئے تو اسے مکمل کر کے چھوڑ دیتے ہیں، ان کی حکومت اور اپنے معاشی اصلاحات میں بھرپور استحکام رکھا جارہا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر جارجیوا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپنے ساتھ ملاقات میں بھرپور تعاطف کا اظہار کیا اور انہیں اپنی دولت سے عزت کرتی ہوں، وہ انہیں ایک قابلِ ترجیح شخصیت کے طور پر دیکھتی ہیں، جس کی معاشی اصلاحات کو آئی ایم ایف نے اپنی مانیٹرنگ میں شامل کر لیا ہے۔
 
اس Economic forum ko dekhte hua, Minister Shabaz Sharif ki reforms mein kuch naya hai? Yeh to sab kuch sirf PR ka hissa ho raha hai. Woh apni dosti se apne khud ka alama karte hain, lekin abhi bhi aapko koi solution nahi mil rahi? Yeh reforms aur bhi jyada kafi honi chahiye.
 
شہباز شریف کی معاشی اصلاحات میں کوئی بدلاؤ نہیں آ رہا، وہی reforms جس سے انہوں نے پہلے کیا تھا اب وہی دہرائیں گے۔ وزیراعظم کو کبھی بھی کسی کام میں لگن نہیں ہوتی، انہیں پورا کام اچھا دیکھ کر چھوڑ دیں گے اور ان کی حکومت کے ساتھ استحکام رکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ ٹیکسٹ بلاکس میں نظر آتا ہے تو نہیں، وہ اپنی دولت کی عزت کر رہے ہیں اور انہیں ایک قابلِ ترجیح شخصیت کے طور پر دیکھتی ہے۔
 
میں کبھی بھی وزیراعظم شہباز شریف کی وہ عظیم معاشی اصلاحات کو نہیں دیکھا ہوں جس پر انھوں نے اپنی دولت سے عزت کرتی ہوئی۔ وہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ظاہر کرتے ہیں کہ وزیراعظم کی اس معاشی اصلاحات کو دنیا بھر میں اپنی دولت سے عزت کرتی ہوئی ایک قابلِ ترجیح شخصیت کی طرح دیکھتی ہیں۔ وہ جسے ہم کھانے کے لیے پکڑتے ہیں ان میں تو شاندار فتوحات بھی لاتے ہیں، لیکن ان معاشی اصلاحات پر نظر سے دیکھا جائے تو وہ جیسے جیسے دنوں کے ساتھ باقی رہتی ہیں۔
 
😡 ان مینیجنگ ڈائریکٹرز کو جو وزیراعظم کی معاشی اصلاحات پر کھل کر کام دیتے ہیں، وہ ٹاکس بہنے والے تھوڑے سے لوگ ہی ہوتے ہیں، ان کی رائے پر کبھی کوئیseriousthought نہیں دیتا۔ مگر وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات میں اس کرتوت سے منسلک ہونے والے آپ کو بھی انہیں نظر نہیں آتی، وہ اپنی دولت سے عزت کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے معاشی منصوبوں پر آمیدوار ہیں یا وہ بھی ایسیCondition میں ہیں جس سے انہیں مزید مہنگا بھی کرنا پڑتا؟ 🤔
 
یہاں تک کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عالمی اقتصادی فورم پر اپنا اظہار کیے اور انہیں ایک قابلِ ترجیح شخصیت کے طور پر دیکھتا ہو، تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ اپنی معاشی اصلاحات میں کوئی مٹھائی بھرے ہیں؟ انہوں نے اس پر پورے دنیا کی نظر ڈالی اور اب وہ دوسروں سے پکڑتے ہوئے پورا کام مکمل کرتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی دولت کے ساتھ عزت کی بھی... اور اب وہ لوگوں کو بھی مایوس کرنے لگے ہیں، یہ معاشی اصلاحات ایسے ہیں جو تمام دنیا کو پچھوڑ کر دیتی ہے... 😐
 
شئونگ سے پہلے کیا ہوتا؟ وزیراعظم کی معاشی اصلاحات اور ان کے استحکام کو دیکھتے ہیں تو یہ سوچنا ہوتا ہے کہ ان کی دولت و ثروت کیوں ہوئی? نہیں، یہ صرف اس بات پر تنقید کرنا نہیں ہے، بلکہ بھرپور تعاطف اور عزت کا اظہار کرنا چاہئے۔

سچائی سے دیکھیں تو وزیراعظم کی حکومت نے ایسی اصلاحات لائے ہیں جو ملک کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہیں، انہوں نے خود کو معاشی اصلاحات میں ایسا چاننے کی کوشش کی ہے جو ملک کے لیے بہتر بنائے۔

لیکن یہ سوال ابھی بھی باقی رہا ہے کہ معاشی اصلاحات میں پہنچنے سے قبل، ان کا کیا آسٹھ ہوتا تھا؟
 
اس وقت کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، لیکن یہ حقیقت تھی کہ وہ اپنے ساتھ کچھ مینیجنگ ڈائریکٹرز جیسا کروسلینا جارجیوا کو بھی آتے ہوئے، جو ان کی معاشی اصلاحات کو قابل تعرفہ قرار دیتے ہوئے انہیں ساتھ ملاتی ہیں! #اعلیہ_علاقات #عرب_صاحب_مالیہ
 
ان معashi reformaton mein pehle bhi tum logon ne baat ki thi, ab Crosslinia ka bhi kya keh rahi hai? kyun keh rahi hai ki shahbaz shریف ki government aik stable aur successful ho rahi hai. lekin mujhe lagta hai yeh sirf media ko apni side par rakhne ka ek tareeka hai, koi reality mat bani?
 
شہباز شریف کی حکومت کے معاشی اصلاحات پر ٹیککے پھولنے کی وہیں بھی. یہ سب معاملے کے منظر نامے سے نکلتے ہیں کیونکہ وہیں ہی صلاحیتوں کو پورا کرنے کی جا سکتی ہے. ہر ایسے مظاہرے سے قبل، یہ سوچنا چاہئے کہ ان معاملات میں کیا ناکام رہیں گے اور کتنے فائدے ہو سکیں گے.
 
شہباز شریف کی معاشی اصلاحات کو یہ کہنا کہ وہ اپنی دولت سے عزت کرتے ہیں، کبھی بھی یہ بات نہیں ہو سکتی. وہ اور ان کی حکومت کا پہلا قدم کیا ہو سکتا ہے، کچھ میڈیا لوگ انہیں توحید کا راز بناتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں ہیں، ان کا مقصد پاکستان کی معاشیSituation کو بہتر بنانا ہوگا۔
 
یہ کام بھی کیا گیا تو پھر کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، یوں ہی سارے معاشی معاملات میں ملاپ ہے اور وہی سارے معاشی معاملات میں حل ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کا کوئی معاملہ نہیں تو کبھی بھی یہ کہنا بالکل اچھا نہیں، چاہے وہ کس قسم کا معاملہ ہو جس پر وہ کام کر رہے ہوں۔

آئی ایم ایف کو تو کیسے یہ معلوم ہوا کہ شہباز شریف کی حکومت کا کوئی معاملہ نہیں؟ اور وہ انہیں ایک قابلِ ترجیح شخصیت کے طور پر دیکھتی ہے? میں یہاں سے جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو اس قسم کی بات کر رہے ہیں، ان کو اپنی معیشت میں بھی ایسی ملاپ دیکھنا اچھا نہیں۔
 
شہباز شریف کی معاشی اصلاحات میں بھی اس وقت کچھ دلچسپی نہیں رکھتی ان کی طرح اس وقت کے دوسرے سیاسی قائد ڈالر ایک ٹیکسٹ سے زیادہ آپ کا معاشی منصوبہ بھی زیادہ دلچسپی دیتا ہے، شہباز شریف کی حکومت کو ملک کے معاشی بحران سے نجات دی جاتی ہے ، لیکن ابھی تک اس کا منصوبہ اس سے بھی ممتاز نہیں ہوا ہے
 
میں تو یہ کہتا ہوں کہ وزیراعظم کی معاشی اصلاحات میں کوئی بھی تبدیلی آج تک میرے لئے مفید نہیں دکھی، ان میں زیادہ تر بھرپور مقبولیت حاصل کی جارہی ہے، نہ کہ یہ معاشی اصلاحات اس وقت تک میرے لئے مفید ہوگیں جب وہ کچھ واقعات میں تبدیل ہوں گے۔
 
شہباز شریف کے لئے یوں تو واضح ہے کہ اس کی معاشی اصلاحات کو دیکھتے ہی کچھ لوگ متعاطف ہوتے ہیں۔ لیکن اِس بات کو یقینی بنانے والا، ان کی حکومت میں وہی اصلاحات استعمال ہوئی ہیں جو اب تک بھرپور مقبولیت حاصل رکھی ہیں۔

اس طرح کے حالات میں اگر ہم پاکستان کی معاشی ترقی پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی دولت سے عزت کرنا چاہئے اور اس کی معاشی اصلاحات کو دیکھتے ہوئے، ہم انہیں قابل تعرفہ قرار دے سکتے ہیں۔

عوام کے لئے ہماری دولت ایک معاشرتی پیداوار کی بات ہے، اسی لیے یہ اچھا ہے کہ انہیں دیکھتے ہوئے اس کو واضح ہو جائے۔
 
شہباز شریف کی حکومت کے معاشی reforms کو منفی قرار دینا تو یہ تو نہیں ہے، لیکن اس پر مثبت دھن سے بات کرنا بھی نہیں ہے۔ ان کی دولت و ثارثہ کے بارے میں بھی یہ بات تو صاف ہے، لیکن اس پر ایک مثبت روایت کو شروع کرنا ضروری ہے جو دوسرے ممالک سے ملنے والے کچھ مفید تجربات اور مشورے بھی شامل کریں۔
 
شہباز شریف کے لئے معاشی اصلاحات سے لطف اندوز ہونے والوں کو اب بھی خوشی ہوتی ہے۔ ان کی دولت کتنی ہو ، وہ اپنی دولت سے عزت کرتی ہیں، لیکن اس کی دولت سے پورے پاکستان کو بھی لطف اندوز ہونا چاہئے؟
 
میں توجہ رکھتا ہوں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات پر وزیر معاشیات کراسٹلینا جارجیوا نے کیا اظہار؟ وہ کیسے یقینی بناتے ہیں کہ ان معاشی اصلاحات کو عالمی سطح پر قابل تعرفہ قرار دیا گیا ہے؟
 
واپس
Top