آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات | Express News

ای سپورٹس پرو

Well-known member
آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات

گنے کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے کپاس کے کاشتکاروں کو ایک نئا وزرت دیکھنا پڑ رہا ہے۔
آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہر کرنے والے کاٹن جننگ سیکٹر نے بتایا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہے۔
گنے کی قیمت میں 25 فیصد کی اضافے سے شوگرملز مالکان کو بھی نقصان ہوتا جا رہا ہے اور انہوں نے بتایا کہ اگر کپاس کی کاشت میں مزید کمی ہوگئی تو شوگرملز کے مالکان کو بھی نقصان ہونے کا امکان ہے۔
کاٹن جنرل سیکٹر نے بتایا کہ ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ چالیس لاکھ گانٹھ سے کم ہو کر صرف پچاس لاکھ گانٹھ تک محدود ہوئی ہے۔
شوگر ملوں کے قیام سے نئی دuniya میں بھی کپاس کی کاشت اور پیداوار میں ایک وزرت پیدا ہوئی ہے لیکن اس سے ملک میں کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
کاٹن جنرل سیکٹر نے بتایا کہ انھوں نے اپنے روئی کے ذخائر فروخت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ناکام ہوئے۔
 
سنہ 2025 میں کپاس کی کاشت میں کمی سے گرانے کی قیمت اور شوگر ملوں کا نقصان ہوتا جا رہا ہے یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کہ ہمیشہ سے کھیل رہا ہے۔ اس وقت شوگر ملوں کو 25 فیصد کی گرانے کی قیمت میں نقصان ہوتا جا رہا ہے اور ان کے ملک میں مزید کمی کی طرف بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر شوگر ملوں کو نقصان پہنچتا رہے تو ایسی صورتحال آئے گی جس سے ملک میں ایک بھی گھر کپاس کی کاشت نہیں کر سکا۔

ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کپاس کی کاشت اور پیداوار پر ایک سبق ہے جو سیکٹرز کو اپنے کام میں نظر انداز نہ کرنا چاہیے اور ایسی صورتحال کو روکنے کے لیے اپنی جانب سے یہ سبق انھوں نہیں لیتے تو ملک کی پیداوار میں کمزوری دیکھنا پڑے گا اور اس سے شوگر ملوں کے لیے بھی نقصان ہوگا।
 
گنے کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے تو یہ بہت چیلنجنگ ہو گا، اس طرح کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا امکان زیادہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن اسی وقت شوگرملز کے مالکان کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اس سے ملک کی ایک وزرت نکل دی ہوئی ہے جس پر یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ ظاہر ہو گیا ہے یا اس سے ملک کو نقصان پہنچنا پڑ گا...
 
فیکسڈ Rice کی کی قیمت پہ لگی تھی، اب وہ بھی اچھی طرح زیادہ ہو گئی ہے. یہ تو اچھا بھی ہے کہ Rice کی پیداوار میں کمی نہ ہونے والی ہے، لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے جیسا کہ ابھی تو شوگر Mills تھرے سے بھی کم ہو گئے ہیں. پوری ملک میں کوئی نہ کوئی Rice کا ٹرین ملاتا ہے، ایسے حالات میں ان کے لئے بھی یہ کمی مشکل سے نکلتی ہے.
 
کپاس کی قیمت ہمدردی سے نہیں مل رہی ہے ، ایسے میں شوگرملز مالکان کو بھی نقصان ہوگا اور ان کے مالik کپاس کے کاشتکاروں سے بھی معائنہ کرنا پڑے گا ، جس سے اس کی کاشت میں مزید کمی ہوسکتی ہے، ہمیں اس صورت حال کو روکنے کے لئے کسی بھی طرح کی کوشش کرنی چاہئے 😩
 
کپاس کی کاشت میں ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی شوگرملز کی طرح اپنی پیداوار کو توجہ دینے والے نہیں رہے ۔ انھوں نے ابھی تو اپنے روئی کے ذخائر فروخت کرنے کی کوشش کی پریشانی اور اب بھی کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ ہو رہا ہے ۔

آج کل جسے شوگرملز لاکے چلائی دیتی تھی وہ پچھلے دن سے نہیں ہوتے اور کپاس کے کاشتکاروں کو ہمیشہ دیر سے بھی فریوز کی رات کی اڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

ماڈل کپاس لاکے شوگرملز چلاں تھیں تو اب بھی وہی قیمتوں پر دھونے والی ہیں۔ جس سے یہ نتیجہ اٹھتا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں زیادہ اضافہ تو نہیں ہو رہا اور اس کے کاشتکار اپنی کاشت پر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔
 
ملا کپاس کے کاشتکاروں کی یہ صورتحال تو بھی تو چٹا کہلاتا ہے... Giáڈے میں 25 فیصد اضافے سے شوگرملز کو نقصان اچھا نہیں ہوگا? پتا لگی بھی کہ ملک کی کپاس کی پیداوار ایک لاکھ چالیس لاکھ گانٹھ سے کم ہو کر صرف پچاس لاکھ گانٹھ تک محدود ہوئی ہے... اس طرح سے شوگرملز کے مالکان کو نقصان اور بھی ناں آئگا تو کپاس کے کاشتکاروں کے لیے کیوں ان پر زور دیا جائے؟ ہر سال کپاس کی کاشت میں کمی کا خدشہ پیدا ہوتا رہتا ہے، لہٰذا اس پر توجہ دی جاے تو بھی نہیں...
 
کپاس کی کاشت میں اضافہ تو ہو گیا ہے، لیکن انھیں اچھی سے کاٹنا پڑتا ہے اور اچھے ملازمت والے کاشتکاروں کو رکھنا پڑتا ہے، فیکٹریس میں بھی کام کرنے والے لوگ اپنی جگہ سے باہر ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح شوگر ملز کے مالکان کو بھی نقصان ہو رہا ہے، گنے کی قیمت میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن انھیں اس سے بچنے کے لئے کوئی یोजनہ بنانے کی ضرورت ہے
 
اس سال کپاس کی کاشت میں کمی کا خدشہ بڑھ رہا ہے ، گھر بھی اچھا تو چلے گا لیکن ملک میں یہ بات کبھی تو نہیں پتہ چلا کے ہم کپاس کس کی کاشت کر رہے ہیں؟ 25 فیصد کی اضافے سے شوگرملز کا مالک بھی نقصان ہوتا جا رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ شوگر ملوں نے ملک میں ایسا پھیلائا ہے کہ اب بھی کپاس کی کاشت اور پیداوار میں ایک وزرت پیدا ہوئی ہے ؟
 
اس سال پھلتوں کی کीमतوں میں بہت واضح تبدیلیاں دیکھ رہی ہیں اور یہ راز کپاس کاشت کے لئے بھی ایسا ہی ہے، کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں... گنے کی قیمت میں اضافے سے شوگرملز مالکان کو بھی نقصان ہو رہا ہے، یہ سب سے چیلنجنگ بات ہے...
 
یہ تو ایک بڑاproblem ہے! میں سोचتا ہے کہ شوگرملز کی مالکان کو ایک اور روئی ملنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا؟ انھیں اپنی روئی فروخت کرنے کی ضرورت ہوگئی تو وہ ناکام ہونے کے باوجود جبکہ کپاس کی کاشت میں مزید کمی ہوگی تو انھیں کمار ہی فائدہ پہنچے گا! میں اس پر thinking karta hoon ki کپاس کی کاشت میں اضافہ ہونا چاہئے یا نہیں؟ 🤔
 
اس سال کپاس کی کاشت میں تو بھی نقصان ہوگا 🤦‍♂️, جنون گنے کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شوگرملز مالکان کو بھی نقصان ہوتا جا رہا ہے। پہلے سے کپاس کی پیداوار میں کمی آ رہی تھی اور اب یہ تو مزید تیز ہو گئی ہے۔ ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ چالیس لاکھ گانٹھ سے کم ہو کر صرف پچاس لاکھ گانٹھ تک محدود ہوئی ہے، یہ تو کیا بہت ہی منفی ہے۔
 
کیا یہ دیکھو کپاس کی کاشت میں ایسا مزاقی ہوا ہو سکتا ہے جیسا کہ ملک میں شوگرملز کو مل کر بنایا گیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہر ہو رہے ہیں تو جب ملک میں شوگرملز کے قیام سے یہ بات نہیں تھی کہ ملک میں شوگرملز بننے کی کوئی کمزور پہچان ہے؟
 
مفید نہیں لگ رہا کہ 2026 میں کپاس کی قلت کو کب حل کیا جائے گا؟ شوگر ملوں کی قائمیت سے دنیا بھر میں کپاس کی کاشت اور پیداوار میں ایک نئی وزرت پیدا ہوئی ہے لیکن یہی پھلنے والے پھول کو روکنے والا سائنا ہے؟ ملک کی کپاس کی پیداوار صرف 50 لاکھ گانٹھ تک محدود ہونے پر بھی یہ سوچنا مشکل نہیں ہوگا کہ ملک میں کپاس کی قلت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
 
یہ بہت Problem ہے کہ شوگرملز اور کپاس کے کاشتکاروں پر ایک نئا وزرت دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اس میں توہین تیز کرنے والی پالیسیوں کی ضرورت ہے؟ آج گنے کی قیمت میں اضافہ ہونے سے شوگرملز کے مالکان کو بھی نقصان ہوتا جا رہا ہے تو یہ بھی ایک Fair Deal نہیں ہے! اور کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہونے سے ملک کی food security پر واضح خطرہ ہو رہا ہے۔
 
اس سال کپاس کی کاشت میں ایک وزرت تو پڑ گئی ہو لیکن اس سے ملک میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہوتا جا رہا ہے، گنا کی قیمت میں اضافہ سے شوگرملز مالکان کو بھی نقصان ہو رہا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ کپاس کی کاشت میں کمی اور ان لوگوں کو نقصان ہوتا جا رہا ہے جو اپنے روئی کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔
 
کیا یہ تو ایک عجیب بات ہے? کپاس کی قیمت اس قدر تیز ہوگئی ہے کہ کاشتکاروں کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کپاس کی کاشت میں ایک نئی دuniya کا پہلا دور شروع ہو رہا ہے جہاں شوگر ملوں کا قیام نے بھی اپنا اثر چھوڑ دیا ہے۔ لگتا ہے کہ ملک میں کپاس کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن شوگر ملوں کے مالکان کو بھی نقصان ہوتا جا رہا ہے، یہ تو ایک نئی چیلنج ہے جو کاشتکاروں کو چیلنج کرتا ہے۔
 
کپاس کی کاشت میں مزید کمی کا خیال تو غلط نہیں لیکن اس کو حل کرنے کی پلیٹ فارم تھوڑی سے زیادہ ہرہ رہی ہے۔ سارے کھیل پکے ہوئے ہیں اور اس کی نتیجہ میں شوگرملز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا تو وہ ان لوگوں کو کیسے نجات دیئے گا جو پانی سے بھرپور ملازمت کے ساتھ اپنے خاندان کی جینس کو یقینی بناتے ہیں?
 
لگتا ہے کہ شوگر ملز کی قیادت میں ملک کا یہ سلسلہ جاری ہو رہا ہے، نئے سال میں بھی کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہر ہو گئے ہیں اور اس سے شوگرملز کے مالکان کو بھی نقصان ہونے کا امکان ہے، تو کیا ملک میں ان کے ذخائر میں بھی کمی دیکھنا پڑ رہی ہے؟
 
اس کی بات تو بالکل چلچل آ رہی ہے … ginne ki kaise mehgi hui hai, aik naya vizarat dikh raha hai... aur ab bhi kisse bhi kaam peh chuka hai... agar shugar milo ko khilvate hue unhein apni gaddariyan karke baitha hai to bura maza aayega... aur ab kappos ki khasat mehnati hai toh yeh kaisi batai jaayegi?
 
واپس
Top