ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی یاد میں
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield ایک ایسا مقنن تھا جس کا تعلق صحافیوں اور میڈیا کے شعبہ سے تھا ان کی شخصیت وہی ہوئی جو ایک مجلسی فرد کی تھی جیسے اس نے خود کو تنہا رکھنے کی بجائے دوستوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ ان کی متحرک اور فعال شخصیت کا شوق، جنون اور خواہش انھیں ایک شاندار مقام پر لے گئی ۔ پاکستان میں میڈیا کی تعلیم کا ایک نام جس پر ان کے بڑے مخالف بھی ان کی حیثیت کو باور کرنے کے لیے تھے۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھن۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield ایک ایسا مقنن تھا جس کا تعلق صحافیوں اور میڈیا کے شعبہ سے تھا ان کی شخصیت وہی ہوئی جو ایک مجلسی فرد کی تھی جیسے اس نے خود کو تنہا رکھنے کی بجائے دوستوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ ان کی متحرک اور فعال شخصیت کا شوق، جنون اور خواہش انھیں ایک شاندار مقام پر لے گئی ۔ پاکستان میں میڈیا کی تعلیم کا ایک نام جس پر ان کے بڑے مخالف بھی ان کی حیثیت کو باور کرنے کے لیے تھے۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔
ڈاکٹر مغیث الدین Sheffield کے ساتھ میری تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی دوستی تھی جس نے انھیں ایک اچھے دنوں کا دوست بنایا تھا ،جس کو پچھلے رات کو یاد آیا ۔ وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ادارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے محقق،استاد، فکری اورScientific raahnoma تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی تھی جس نے دور تک دیکھن۔