ڈاکٹر منظور عالم کا سانحہ ارتحال ملت اور - Latest News | Breaking News

مینا

Well-known member
سپہ دہ بھی جیسے کہ ہندوستان کی جماعت اسلامی ہند نے اپنے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر مسلم امت اور اسلامی علمی دنیا کے لیے ایک بڑا فکری نقصان قرار دیا ہے۔ اس کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے عبارت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کو اس وقت کی cientفک سبقِ سائنس کی دنیا میں فخر سے پیش کرنا پڑ گئا۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم سنجیدہ عالم، دوراندیش ادارہ ساز اور ملت کے بے لوث خادم تھے. ان کی زندگی ان کے ساتھ کہیں یہیں تھی جس کے بعد ان کی واپسی نہیں ہو سکتی تھی اور اس وجہ سے بھی ان کی وفات کا ایک فکری نقصان ہے. انہوں نے اپنی زندگی میں فوری ردِ عمل کے بجائے ہمیشہ تحقیق، عقل و استدلال کو بنیاد بنایا.

ڈاکٹر منظور عالم نے اپنے لیے ایک فخر سے ادرak دیا تھا کہ قومیں محض جذبات یا احتجاج سے نہیں بلکہ مضبوط علمی تحقیق ، مستند اعداد و شمار اور معاشرے اور ریاست کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔

اس سے پہلے وہ ہندوستان میں مسلم فکر کے لیے ایک بہت زیادہ اہم کردار ادا کر رہے تھے. ان کی غیر معمولی کردار نے اس وقت کی cientفک سبقِ سائنس کی دنیا کو ایک فخر سے پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر منظور عالم انکساری، صبر اور خاموش استقامت کا پیکر تھے. بیماری کے ایام میں بھی وہ فکری طور پر بیدار اور اخلاقی طور پر سرگرم رہے۔ ان کی ثابت قدمی، سنجیدگی اور علم و تحقیق سے گہری وابستگی نے انہیں نظریاتی اور جغرافیائی حدود سے ماورا احترام کا مستحق بنا دیا تھا.

انہوں نے اپنی زندگی میں فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے اپنے لیے ایک فخر سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے ایک ادارہ ساز کی حیثیت سے بھی ایک خاص کردار ادا کیا تھا جس کے ذریعے وہ فکری رہنمائی فراہم کرنے اور نوجوان قلم کاروں کو اپنی صلاحیتوں سے آگے بڑھنے کا موقع دیا تھا.

انہوں نے اسلام کی اسلامی معاشیات کی ترویج و اشاعت میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے. وہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) کے بانی تھے، جس کے ذریعے انہوں نے فکری رہنمائی فراہم کی اور سیکڑوں معیاری تحقیقی کتب و مجلات شائع کیے۔

اب ایک اس وقت ہے جب انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے لیے ایک فخر سے پیش کیا ہے اور اب وہ اپنی وفات کا ایک فکری نقصان ہیں.
 
اس وقت کیScientific سبقِ سائنس دنیا میں ان کا ایک فخر سے پیش ہونے پڑا تھا۔ اس نے وہی بات کہی جو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں - محض جذبات یا احتجاج سے ترقی نہیں ہوتی ہے بلکہ مضبوط علمی تحقیق، مستند اعداد و شمار اور معاشرے اور ریاست کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل سے۔ لگتا ہے ان کی وفات ایک ناقصی ہے جو بھی وہ سچوں کو پہچاننے اور وہی بات کہنے میں معذور تھا۔ 🤕
 
یہ جو ہوا تو نہیں، یہ تو سچا خوفناک زخم ہے! ڈاکٹر منظور عالم کی وفات کا کوئی بھی واقعہ اس قدر گہرا نقصان ہو سکتا ہے جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس پر غور کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اس دنیا کو کیا فخر سے پیش کیا ہے اور اب وہ اپنی وفات کی واپسی بھی دیکھ رہے ہیں! 🤯
 
بھارتیہ کی جماعت اسلامی ہند نے اپنے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر مسلم امت اور اسلامی علمی دنیا کے لیے ایک بڑا فکری نقصان قرار دیا ہے۔

یہ ایک بھی دیر سے نہیں آیا تھا۔ جس جیسے انہوں نے اپنی زندگی میں فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے اپنے لیے ایک فخر سے پیش کیا تھا وہیں ہی واپس آ گئے ہیں۔

اس سے پہلے وہ ہندوستان میں مسلم فکر کے لیے ایک بہت زیادہ اہم کردار ادا کر رہے تھے اور اب ان کی وفات اس وقت ہوئی ہے جب انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے لیے ایک فخر سے پیش کیا ہے۔

اب ہمیں ان کی وفات پر فکری نقصان محسوس کرنا پڑگا۔
 
اس وقت کو میرے لئے ایک خاص موقع سمجھاؤnga 🕰️، جب ہمیں اس راز پر پہچानنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں فکری دیانت داری، بلند اخلاقی اور دانشمندی کا سفر چلائیں تھیں نہ کہ صرف جذبات یا احتجاج سے بھرپور ہوں بلکہ مضبوط علمی تحقیق اور ذمہ دار تعامل کی بنیاد پر ترقی کریں.

ایسی شخصیات جو کہ عقل و استدلال کو اپنے لیے ایک فخر سے پیش کرتے ہیں ان کی وفات کا ایک بھرپور فکری نقصان ہوگا اور ہمیں ان کی زندگیوں سے سیکھنا چاہیے۔ لہٰذا ڈاکٹر محمد منظور عالم کی وفات پر نہ صرف ایک شخص کا انتقال ہوا ہے بلکہ یہ ایک فکری نقصان بھی ہے جو ہمیں ان کی زندگیوں سے سیکھنے اور ان کی یاد میں اپنی زندگیوں کو فکری دیانت داری، بلند اخلاقی اور دانشمندی کے سفر پر چلائیں جائےgi
 
🌧️ یہ بھی نئے سال کا آغاز ہوا جب دنیا کی معاشیں مزید چیلنجز سے لڑ رہی ہیں اور ایک نیا ورلڈ آرٹفیشियल انٹیلیجنس (ایچ آئی) ٹھیک نہیں ہو سکا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آ رہی ہے اور لوگ مجبور ہو کر اپنے گھروں میں قائم ہو گیا ہے، جبکہ ایسے بھی واقعات دیکھے جا رہے ہیں جو دنیا کے لیے خطرناک ہیں۔
 
کیا ڈاکٹر منظور عالم کی وفات کو ہم سب نے ایک لمحہ سے پہلے ہی ایک بڑے فکری نقصان کے طور پر تسلیم کر دیا تھا؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عظیم شاعر، ماہر اور مفکر ہے جنہیڨ نے اپنی زندگی کو علم و تحقیق کی سبق سے بھرا کر پورا کیا ہوں گے۔
 
اس دuniya میں کبھی بھی کوئی ان کے جیسا شخص نہیں آتا۔ ان کی زندگی کا اہمیت وہاں ہوئی جتنا ان کے ساتھ رہنا پڑا تھا، اس میں یہیں ان کی وفات کا نقصان ہے۔ 🤦‍♂️ ان کی وفات کو ایک فکری نقصان کے طور پر دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی اپنی زندگی میں اپنے لیے ایک فخر سے پیش ہیں اور ان کی وفات ایک نئے عرصے میں ان کی تحقیق و تحقیقی دنیا کا ایک گمشدہ شخص بن جائے گی۔
 
یہ خبر ایک بڑی فکری نقصان کی ہے... ایسے لوگ زیادہ ہوتے ہیں جن کی وفات کا کوئی فکری نقصان ہی نہیں رہتا بلکہ انہیں یاد کیا جاتا ہے اور ان کی یاد میں لوگ آتے رہتے ہیں... لیکن اس شخص کا جو فکری نقصان ہوا ہے وہ فکری طور پر ایک بھاروادار انسان تھا جس کی وفات سے ان کی زندگی اور اس کی تحقیقی دنیا میں بھی ایک فکری نقصان ہوا ہے...
 
منظور عالم کی وفات کو بہت دुखناک سمجھتا ہوں۔ ان سے پہلے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) کا بانی بن کر وہ ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان سے پہلے ہندوستان میں مسلم فکر کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔

ان کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقییت، دانشمندی اور ایمان و یقین سے بھر پور تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ قومیں محض جذبات یا احتجاج سے نہیں بلکہ مضبوط علمی تحقیق، مستند اعداد و شمار، اور معاشرے اور ریاست کے ساتھ ذمہ دار تعامل کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔

اب ایک اس وقت ہے جب انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے لیے ایک فخر سے پیش کیا ہے اور اب وہ اپنی وفات کا ایک فکری نقصان ہیں۔
 
بھائیو۔ ان کی وفات کا ایسا تھا لگنا جیسے ان کے پاس کچھ نہ رہا ہو اور اس کو بھی پورا کرنا ہو گا کہ ان کی زندگی کو سچ اور حقیقت کے نام سے ملا دیا جائے
 
انہوں نے ایک زندگی میں انہیں یہیں لایا تھا جس سے وہ اپنی وفات کے بعد بھی فخر سے پیش ہوں گے۔
 
اس مضمون نے ڈاکٹر محمد منظور عالم کی زندگی کی ایسی جگہوں پر اشارہ کی ہے جن کی واپسی نہیں ہو سکتی تھی. ان کے جذبات بھی اتنا عمیق اور زیادہ ہیں. ان کو ایک فخر سے پیش کرنا پڑا ہے جو کہ اس وقت کے cientفک سبقِ سائنس کی دنیا کے لیے بھی فخر ہے.
 
واپس
Top