ایران کی پارلیمنٹ نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے، جو ایک بدترین اقدامہ ہے، اس سے مہذب رہنماوں کو متاثر کرنا پڑے گا اور وہ جسمانی طور پر ان کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ اس سے یورپی ممالک کو بھی متاثر ہونے والا انتظار ہے، کیونکہ وہ اپنے فوجی افسران کو آٹھ اور چار میں سے کسی ایک کو ملک بھر کے تنخواہوں سے تعینات کرائیں گے۔
یہ یورپی یونین کی جانب سے ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ردعمل ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ کے اراکین نے اسے اپنی جان میں ایک چلائی ہوئی دھمکی قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کی طرف سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر سبز وردیاں پہنی تھیں اور نعرے لگائے تھے جس میں امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد اور یورپ شرم کرو کے ناشرے ہوئے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ وہی تھا جس کو 2019 میں امریکا نے ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، لیکن اسے یورپی یونین نے اپنے ساتھ لیے اور اس پر استحکام دیا۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا یہ فیصلہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ملک بھر میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور نہر بنانے پر غور کرے گی، لیکن اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا جائے گا۔
ایسے دھمکیوں کی پھر کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ دہشت گردی کو روکنے میں ناکام رہ گئے، بلکہ اس سے ایسے لوگوں کو متاثر کرنا پڑا جinhone اپنے ملکو کی حفاظت کے لئے کام کیا ہوتا دیکھا ، لاکین یہ بات کہ ایران اور اس کی جانب سے دھمکیوں کو ایک سیاسی پچھا دینا تھوڑا متعقل نہیں ہے
یہ سوچنا مشکل ہے کہ ایک دہشت گرد جوIranکاکھرےوالیایک خوفناک کارروائی کر رہا ہے، اس سے مہذب رہنماوں کو متاثر کرنا پڑے گا؟ ایسا کیا کر سکتا ہے؟ اور یہ کس کی فوجی افسر انھیں دھمکی دے رہے ہن، یورپی ممالک کو جب اچھی اچھی چنت کر رہے ہن؟
ایسا لگتا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کو یورپی ممالک نے دہشت گرد تنظیمی شکل دی ہوگی، جو ایک غلطی ہے۔Iran کے بھی یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ اس سے انکار کرنے کا فیصلہ کریگا اور اس سے متعلق کارروائیوں میں حصہ لیگی۔ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کو یہ واضح بھی ہوگا کہ آمریکی صدر کے ساتھ انکار کرنے والے شخص کی جانچ پڑتال کروائی جائے گی اور اس سے متعلق کامیابی کے لیے کوششوں پر عمل آئے گا.
یورپی ممالک کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ اپنے فوجی افسران کو ملک بھر میں تعینات کرائیں تو اس سے ایران کی سلامتی پر جھوٹا دباو پڑے گا اور اس سے متعلق منصوبے بنائے جانے کے لیے استحکام ہی ضروری ہے۔
اس ماجھ نے میرے لئے ایک ایسا پیغم تھا جس سے ملنے میں خوش ہوا ہوں.
ایسا لگتا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی فوجی افسران کو ملک بھر کے تنخواہوں سے تعینات کرنے کی اہمیت پر توجہ دی جانی چاہیے، ان کے لیے یہ ایک نئے عہد میں فائدہ مند ہوگا۔ اس سے ملکی سلامتی میں بھی اضافہ ہو گا اور وہ جسمانی طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوجائیں گے
ایساFeels کیا جاتا ہے جو یورپی ممالک نے ایران کی پارلیمنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے؟ یہ تو ایک کھل کر کہیں کی گئی بات ہے، اور اس سے ہمہ خंड میں tension aa rahi hai!
لگتا ہے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ وہی تھا جو अमریکا نے پہلے سے دیا تھا، لیکن اس پر یورپی یونین نے استحکام دیا ہے اور اب ان کی جانب سے مہم شुरو کی گئی ہے!
اس فیصلے سے ایران کو بھی متاثر ہونے والا انتظار ہے، اور وہ اس کے خلاف کیسے کامیاب کروگے؟ اور یورپی ممالک کی جانب سے کیا ہو گا؟ پتا نہیں!
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے ایران کو دھمکی دی ہو اور اس پر پابندی نہیں کی جا سکتی، انہوں نے اپنی جان میں ایک چلائی ہوئی دھمکی قرار دی ہے تو وہ کیسے منا کرن گے؟ اور یہ تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ अमریکا نے ایران کو سال 2019 میں دھمکی دی تھی اور اب یورپی یونین نے بھی ایسا ہی کیا ہے تو کیسے؟ میرا خیال ہے کہ اس پر کوئی ثبوت نہیں ہو گا اور ان کے بعد بھی ایران کو یہ دھمکی دی جائے گی، لہذا اس سے ان کی جانوں میں کچھ فائدہ نہیں ہوگا، ایسا اور ہی ہو گا!
ایسا کہنے کے بجائے کہ ایران نے اپنی پارلیمنٹ نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے، تو اس کا مطلب بھی ہوگا کہ ایسے فوجی افسران جو اپنی ملک بھر میں تنخواہ کے لیے کام کر رہے ہیں وہ ابھی اچھے رہنے والوں کے لیے بھی خطرہ بن جائیں گے। یورپی ممالک کو ان کے فوجی افسران کو ملک بھر میں سے کسی ایک کو تعینات کرائیں گے، وہ کیسے جوئے گا؟
اس کی یہ بھی ہوا تھی کہ ایران کو دہشت گردز کا خطاب دینے سے پہلے اسے اس بات پر چیک کرنا چاہئے کہ وہ انہیں کیسے سمجھتا ہے، اگر یورپی ممالک نے بھی اس طرح کی جاسوسی کارروائیوں کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کیا تو یہ ایک خطرناک صورتحال بن سکتا ہے
اس فیصلے سے یورپی ممالک کو بھی دباؤ اور اضطراب ہوگا، کہاں تک انہیں اپنی فوجی افسران کو اپنے ملک میں تعینات کرائے گئے ہیں تو یہ دھمکی کی طرح لگ رہی ہے، ایسا نہیں کہ ان کے بچوں کو فوج میں شامل کرنا پڑے گا…
عصمت اور امن کے نام پر یہ فیصلہ کھلकर کیے جانے والی کوششوں کی نشانی ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے، حالانکہ اس سے ملک کے تمام رہنماؤں پر پھیلنا پڑا ہے۔ یورپی ممالک کی ایسی پالیسی جس سے ان کو متاثر ہونے والا انتظار ہے وہ اس سے Iran کی پاسداران انقلاب کے ساتھ تنازعہ میں ڈوبنے کے لیے تھی، حالانکہ اس فیصلے نے ایران کو دہشت گردی کا دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں تنازعات نہیں، نہیں تو ایران کو ایسے لوگوں کی طرف سے تحریک میں شامل ہونا پڑتا جیسے جو اپنے ملک کے لئے دھارمک جدوجہد لڈتے ہیں، اس لیے پوری دنیا کو اس سے متاثر ہونے والا انتظار ہے کہ ملک کے تمام رہنماؤں میں امن اور صلح کی ایسی نوعیت پیدا ہو جس سے تمام ممالک کو متاثر ہونا پڑے۔
یہ دیکھنا بھی قابل معقدہ ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا یہ فیصلہ، جو پچیس سालوں میں نہیں ہوا تھا وہ اس بات کی نشانی ہے کہ اور اس طرح جس فیلڈ میں آپ دوسری طرف جانے والے شخص کو ساتھ لیتے ہیں یہ وہی سلسلہ ہے جو اس پالیسی کا حصہ ہے۔