ایران اور امریکا میں سفارتی رابطے منقطع، - Latest News | Breaking New

سیاح

Well-known member
ایران اور امریکا کے درمیان ایک نئی خطرناک فزے میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے بھرپور کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات کو شدت اختیار کر دیا ہے اور بین الاقوامی سلامتی کی ایک خطرناک درجہ تک پہنچا ہے۔

جاری محدود سفارتی روابط کھتم ہونے کے بعدIran میں جاری مظاہروں اور سیکورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تشویش کا باعث بنایا ہے، اس لیے انہوں نے Iran میں ممکنہ مداخلت کے اشارے دھواڑ دیے ہیں اور ایران پر مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، Iran میں جاری شدید عوامی احتجاج کے باعث انڈسٹریل اور ریلوے کارروائیوں پر ناکام رہنے کی صورتحال کے باعث بھی کشیدگی تیز ہوئی ہے، اس لیے متعدد ممالک نے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کو آگاہ کر کے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔

امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیش نظر Iran میں ایک خطرناک درجہ تک کشیدگی تھوٹ پہنچ گئی ہے، جس سے علاقے میں بھرپور خوف اور不安 پیدا ہوئی ہے۔ Iran کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی بھی براہِ راست بات چیت اب نہیں ہوتی رہی۔
 
ایران اور अमریکا کے درمیان یہ صورتحال کچھ نہ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے جیسا کہ ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ہوتا دیکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے میں واضح طور پر کمی کی جائے تو حالات بدل جاتے ہیں، اسی طرح Iran میں جاری مظاہروں کے باعث بھی لوگ اٹھتے ہیں۔

اس صورتحال سے ایک بات یقینی ہو گی کہ دونوں ممالک کی واضحPolicy میں تبدیلی آئے گی، حالانکہ اب تک کوئی معاملہ نہیں اچھا ہوا۔ اور اس طرح بھرپور کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، جس سے علاقے میں بھی خوف اور不安 پڑے گی۔
 
ایران اور امریکا کے درمیان اس خطرناک فزے میں پھنسنا ایک Dangerous sign hai 🚨، اس سے ایران کی صورتحال بھی تیزی سے بدلتے دیکھ رہی ہے اور ملک کے مختلف شعبوں میں توٹ پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر کی مداخلت کے خوف سے ایران کی حکومت بھی شدید تشویش میں دب گئی ہے اور اس لیے انہوں نے اپنی جانب سے بھی اہم کارروائیں شروع کر دی ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرفوں کو یہ سچائی پہنچنی چاہیے کہ آزاد ریاست اور عوام کی رائے ان سب کارروائیوں پر تأثير انداز نہیں ڈالتے ہیں، بلکہ عوام کے دائرے سے ہی حل یقینی طور پر مل سکتا ہے۔
 
یہ صورتحال تو ایک ایسا معاملہ ہے جس سے اس وقت تک یقین نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے دن تک یہ صورتحال استمرار پر رہے گا۔ اور پھر اچانک ہو کر ان دونوں ممالک کے درمیان یہ ایک معاملہ پیدا ہوتا جس کی نتیجہ میں ایک بڑی خطرناک کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ صورتحال اس سطح پر تھم گئی ہے جس پر کسی نہ کسی کی جانب سے بھی گھبراہٹ کے احساس کا انعقاد ہوسکتا ہے۔
 
اس صورتحال کو سمجھنا بہت مشکل ہے، دونوں جانب اپنے تعلقات میں دیرانہ بدلتگیوں کی طرف جائ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ کہا تھا کہ وہ Iran کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ بھی بات ہے کہ امریکا ایران سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کا مداخلت ہونے پر ایران کو کافی پریشانی ہوگی
 
ایسے جتنی حد تک ممکن ہو سکیں، دونوں ممالک کی ذمہ داریاں منقطع کر دیں گئی ہیں تو بھرپور تعجب نہیں ہوا کے ، ایسے میں انھیں یہ سچائی م ملن چکی ہے کہ انھوں نے اس صورتحال کو بھی تھوڑا تو ہٹایا ہے
 
ایسے سماعید صورتحال پر ناز کہتے ہیں، دونوں ملکوں کی فزے میں اضافے کا یہ ایک خطرناک پہلو ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگ اس کو بہت خطرناک سمجھتے ہیں۔ America اور Iran دونوں اپنی دوسری تیزاب کی طرف کھینچ گئے ہیں، حالانکہ وہ دونوں اپنی جانجوں کو بھی توازن میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال سے کچھ ملکوں کو خوف لگ رہا ہے اور وہ اپنی جانجوں کو ایسے حالات میں نہیں چھوڑنا چاہتے جہاں ان کے پاس کوئی سہارا نہ ہो।
 
واپس
Top