ایران اور امریکا کے درمیان ایک نئی خطرناک فزے میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے بھرپور کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات کو شدت اختیار کر دیا ہے اور بین الاقوامی سلامتی کی ایک خطرناک درجہ تک پہنچا ہے۔
جاری محدود سفارتی روابط کھتم ہونے کے بعدIran میں جاری مظاہروں اور سیکورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تشویش کا باعث بنایا ہے، اس لیے انہوں نے Iran میں ممکنہ مداخلت کے اشارے دھواڑ دیے ہیں اور ایران پر مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، Iran میں جاری شدید عوامی احتجاج کے باعث انڈسٹریل اور ریلوے کارروائیوں پر ناکام رہنے کی صورتحال کے باعث بھی کشیدگی تیز ہوئی ہے، اس لیے متعدد ممالک نے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کو آگاہ کر کے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔
امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیش نظر Iran میں ایک خطرناک درجہ تک کشیدگی تھوٹ پہنچ گئی ہے، جس سے علاقے میں بھرپور خوف اور不安 پیدا ہوئی ہے۔ Iran کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی بھی براہِ راست بات چیت اب نہیں ہوتی رہی۔
جاری محدود سفارتی روابط کھتم ہونے کے بعدIran میں جاری مظاہروں اور سیکورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تشویش کا باعث بنایا ہے، اس لیے انہوں نے Iran میں ممکنہ مداخلت کے اشارے دھواڑ دیے ہیں اور ایران پر مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، Iran میں جاری شدید عوامی احتجاج کے باعث انڈسٹریل اور ریلوے کارروائیوں پر ناکام رہنے کی صورتحال کے باعث بھی کشیدگی تیز ہوئی ہے، اس لیے متعدد ممالک نے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کو آگاہ کر کے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔
امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیش نظر Iran میں ایک خطرناک درجہ تک کشیدگی تھوٹ پہنچ گئی ہے، جس سے علاقے میں بھرپور خوف اور不安 پیدا ہوئی ہے۔ Iran کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی بھی براہِ راست بات چیت اب نہیں ہوتی رہی۔