ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی گراوٹ کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا: امریکی وزیرِ خزانہ

چمیلی محب

Well-known member
ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی گراوٹ کے پیچھے امریکا کا کردار ہاتھ تھا، جس پر امریکی وزیر خزانہ نے سینیٹ میں کھلے عام اعتراف کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی اور اس کے نتیجے میں مہنگائی بے قابو ہونے سے ملکی معاشیات پر بڑا دباؤ پڑا تھا۔

دسمبر میں ایک ایرانی بینک کے دیوالیہ ہونے اور ایران کے مرکزی بینک کو اضافی نوٹ چھاپنے پر مجبور ہونے نے کرنسی کی قدر میں شدید کمی دیکھی تھی، جس سے ملکی معاشیات پر ایک بڑا Impact ہوا۔ اس سے ملک کے شعبوں کے لیے بڑی تہذیب کی ضرورت تھی اور وہیں آئیں۔

امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کے آئل ایکسپورٹ کو تقریباً صفر تک محدود کر دیا تھا، جو اس وقت ایران میں موجود ڈالر کی قدر پر بڑاImpact ہوا۔

دولت کی جانب سے ایران کے آئل ایکسپورٹ کو روکنے کی پالیسی نے ملک پر بھی بڑا دباؤ پڑایا تھا اور اس کی وجہ سے دسمبر میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

موساد سے منسلک منظم گروپوں نے شہریوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے تھے اور عوامی غصے کو تشدد میں تبدیل کر دیا تھا۔ ان گروپوں میں سے زیادہ تر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک ہیں اور ان نے مظاہرین، سیکیورٹی فورسز، سرکاری عمارتوں اور مذہبی مقامات پر حملے کیے تھے۔
 
امریکا کا کردار ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی سے ملک پر ایسا دباؤ پڑا ہے جیسا کہ میرے خیال میں اس بات کا نتیجہ ہوگا کہ اب ہم ملک کو بھرپور طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کریں گے۔
 
یہ واضح ہے کہ امریکا ایران کو ایک پچھلا رخ دیا تھا، اس طرح ملکی معاشیات پر دباؤ اور عوامی غصے پیدا ہوئی ۔ ان میں سے کچھ لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایران میں ایسا بھی ہوا تھا، حالانکہ حکومت نہیں بتاتی کہ واشنگٹن کی یہ پالیسی ان کے لئے اس وقت قائم کردی گئی تھی۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ امریکی نینٹس نے ایران کو ایک خطرناک مقام پر ڈال دیا تھا، جس سے ملک میں دباؤ اور تشدد پیدا ہوا۔
 
ایک اچھا پہلا خطاب ایران کے لئے 😊 اس وقت ایران میں معاشیات کو ایک نئی سمت دی جائی سکتی ہے اور ملکی شعبوں کی تہذیب کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

دولت کی جانب سے ایران کے آئل ایکسپارٹ کو روکنے کی پالیسی نے ملک پر بڑا دباؤ پڑایا تھا اور اس کی وجہ سے دسمبر میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کے آئل ایکسپورٹ کو تقریباً صفر تک محدود کر دیا تھا، جو اس وقت ایران میں موجود ڈالر کی قدر پر بڑاImpact ہوا۔ اس سے ملک کو لاکھوں لاکھ کی ضرورت ہے اور وہیں آئے گا।

موساد سے منسلک منظم گروپوں نے شہریوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے تھے اور عوامی غصے کو تشدد میں تبدیل کر دیا تھا۔
 
ایران میں ڈالر کی قدر میں ایسی بڑی کمی نہیں آئی جس پر دنیا کو دباؤ پڑا ہوں۔ اس میں کافی وقوع وقت لگا اور ملک کی معاشیات پر بھی کچھ عرصے تک بھاری تھرمائٹر تھی، حالانکہ اس سے کچھ کا پابندی اور پریشانیوں میں گزارنا پڑا ہوں گے۔
 
اس کے بعد ڈالر کی قدر میں تو بڑی کمی ہوئی ہے، لیکن اس سے ملک کی معاشیات پر ایسا نتیجہ نہیں نکلا جو لوگ چاہتے تھے۔ آئندہ کچھ دنوں میں ہمیں دیکھنے کو پڑے گا کہ آسaman کی معیشتوں میں ایسے مسائل ہونے لگتے ہیں جن سے ملک کو نجات ملے گی۔
 
ایران میں ڈالر کی قدر میں گراؤٹ کا یہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑا ماجا ہوا ، لیکن کوئی بھی اس پر فخر نہیں کرتا کہ امریکی وزیر خزانہ نے جس طرح سینیٹ میں اپنا اعتراف کیا ہے۔ یہ بات سب کو یاد ہے کہ ایران میں ڈالر کی قدر میں گراؤٹ کا پہلا قدم واشنگٹن نے ہی ڈالہے۔
 
ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی نے ملک کو ایک بڑا ملاپ دیا... اس وقت ایران کے ہاتھ میں نہیں بلکہ امریکا کے ہاتھ میں بھی پانچ ڈالر سے کم ہونے کی بات کر رہے ہوں گے... اور یہ بھی ایک نئی معیشت کا آغاز کرتا ہے...
 
ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی کا واقعہ دیکھنے سے ایک بات یقینت ہے کہ ملکی معاشیات پر بڑا دباؤ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگ تنگ آئے ہیں، لاکھوں لوگوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ ایک بہت مضر صورتحال ہے، لیکن اس میں سے کیے جانے والے کسی بھی کردار کے بارے میں بات کرنا مشکل ہوگا، اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ملک کے شعبے جو تھرڈ ورلڈ ہیں ان کی مدد ملنے کی ضرورت ہے اور اگر اسے ممکن ہو تو وہیں آئے اور ملک کو بھگتاو کا مواقع دیں، لاکھوں لوگوں کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی مہنگی زندگی میں سے نکل کر ان کی زندگی کو اچھی بنائے۔
 
ایران میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی کا شکار ہونا ایک بڑا معاملہ ہے، لیکن یہ بات پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن نے اس کی طرف بھی نظر سے گزرا ہوا تھا اور امریکہ کو یہ سب کچھ ملک پر ایک بڑا دباؤ پڑنا کے لئے دیا ہے۔ Iran میں ڈالر کی قدر میں بڑی کمی اور اس کے نتیجے میں مہنگائی بے قابو ہونے سے ملک کو ایک بڑاproblem مل گیا ہے اور اب وہ آگے بھی چلنا پڑ رہا ہے۔
 
واپس
Top