امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں رجیم کی تبدیلی وینزویلا کے مقابلے میں "کہیں زیادہ پیچیدہ” ہے، اس پر انھوں نے سینیٹ کی سماعت میں قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ایسی رجیم کی بات کر رہے ہیں جو بہت طویل عرصے سے قائم ہے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے لیے احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہوگی"۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "کبھی بھی ایسی صورتحال پیدا ہونے پر اس کے لیے احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہوگی، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اگر سپریم لیڈر کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا"۔
امریکی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو بنیادی طور پر دفاعی قرار دیا اور بتایا کہ تقریباً 30،000 سے 40،000 امریکی فوجی آٹھ یا نو تنصیبات پر تعینات ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "یہ افواج ہزاروں ایرانی بغیر پائلٹ کے طیاروں اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی رسائی میں ہیں، جس سے امریکی فوجیوں اور علاقائی اتحادیوں پر ممکنہ حملوں سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے"۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "کبھی بھی ایسی صورتحال پیدا ہونے پر اس کے لیے احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہوگی، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اگر سپریم لیڈر کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا"۔
امریکی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو بنیادی طور پر دفاعی قرار دیا اور بتایا کہ تقریباً 30،000 سے 40،000 امریکی فوجی آٹھ یا نو تنصیبات پر تعینات ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "یہ افواج ہزاروں ایرانی بغیر پائلٹ کے طیاروں اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی رسائی میں ہیں، جس سے امریکی فوجیوں اور علاقائی اتحادیوں پر ممکنہ حملوں سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے"۔