امریکی پروفیسر نے ایران میں پڑھے ہوئے واقعات کا مذاق उڑایا اور دھارماں پر زبردست واضح ہاتھ لگائے، انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ہی ایران میں پھیلی ہوئی تباہی کے ذمہ دار ہیں، جبکہ ایرانی حکومت سے ان کو پہچاننا مشکل ہے۔
امریکی اسٹریٹجمی کا یہ ہاتھ پھیلایا گیا اور ایران میں بڑی تباہی کا باعث بننے والے یہ ایسے افراد ہیں جن کی ذمہ داری سے بچنا مشکل ہے۔ انھوں نے اس بات کو توثیق دیا کہ عوام کے سامنے ایرانی حکومت پر ظلم کر رہی ہے، جس کی واضھیت سے اب پورے دنیا میں ایران پر غلط فہمی پھیل گئی ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے مزید یہ کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی دوسری جانب بھی ایران میں جتنی زیادہ تباہی پھیلائی جا سکتی ہے وہی ہوتا ہے، جس سے ملک کے اندر سے ایرانی عوام کی زندگی کو بدतर بنایا جاتا ہے اور ایران میں رجیم چینج (ریاستی اقتدار) ہمیشہ کی طرح ہوا دے رہا ہے۔
امریکی اسٹریٹجمی کا یہ ہاتھ پھیلایا گیا اور ایران میں بڑی تباہی کا باعث بننے والے یہ ایسے افراد ہیں جن کی ذمہ داری سے بچنا مشکل ہے۔ انھوں نے اس بات کو توثیق دیا کہ عوام کے سامنے ایرانی حکومت پر ظلم کر رہی ہے، جس کی واضھیت سے اب پورے دنیا میں ایران پر غلط فہمی پھیل گئی ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے مزید یہ کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی دوسری جانب بھی ایران میں جتنی زیادہ تباہی پھیلائی جا سکتی ہے وہی ہوتا ہے، جس سے ملک کے اندر سے ایرانی عوام کی زندگی کو بدतर بنایا جاتا ہے اور ایران میں رجیم چینج (ریاستی اقتدار) ہمیشہ کی طرح ہوا دے رہا ہے۔