ایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: نیتن یاہو کی وارننگ

ہنس

Well-known member
اسرائیل کی بھرپور جواب دہی پر ایران کو آہستہ آہستہ پہنچائی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حملے پر ایسا جواب نہ دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

اسraelی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھرIran سے دھمکی دی ہے اور اس کی بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ Iran اس پر حملہ کرے تو وہ بھرپور ، طاقتور اور پوری قوت سے جواب دے گے۔

اسraelی وزیراعظم نے فلسطین سے متعلق بات کرتے ہوئے ہٹ دھرمی سے بیان دیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس پر یہ بات بھی پڑھی جائے گی کہ ہم غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دینے سے متعلق باتیں ہورہی ہیں تاہم ایسا نہ پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔

اسrael کی حکومت غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر بھی پالیسی لانے پر قائم ہے اور وہ اس کی پالیسی کو غزہ کی پٹی پر بھی لاگو کرے گا۔

اسraelی وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ کہنا تھا کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو داخل ہونے نہیں دیں گے۔

ایسے میں ایران پر ایک بڑا تنقید کی بات آ رہی ہے کہ وہ اسrael سے لڑ رہا ہو اور اس پر انہوں نے ایسا جواب دیا ہے جس سے ایران کے حوالے سے پریشانی پیدا ہوئی ہے۔

اسrael کی حکومت پر یہ بات بھی غور و فکر کے عزم سے اٹھتی ہے کہ اس پر ایران کا جواب نہیں دیتا، ایسا جیسا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
 
اسrael کی جانب سے Iran کو اٹھنا مشکل ہوگا ۔ وہیں انہوں نے فلسطین کے بارے میں بھی ایسا جواب دیا ہے جس سے ایران کے حوالے سے پریشانی پیدا ہوئی ہے۔

اسrael کی حکومت کو پATA نہیں ہے کہ اس پر Iran کا جواب کیسے دیا جائے گا۔ تاہم اگر وہ اپنی دھمکیوں سے کسی قدر اٹھنا چاہتے ہیں تو انہیں Iran پر ایک جھلدی کٹھ کے طور پر کام کرنا پڑے گا۔

اسrael کی حکومت کو اس پر ایران کا جواب نہ دینے کی صورت میں بھی ہمدردی نہیں ملेगی۔

اسے لگتا ہے کہ اسrael کی حکومت Iran سے لڑ رہی ہو اور وہ اس پر ایک بدلے جواب دیا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے کو دیکھنا مشکل ہوگا۔
 
ایس لگتا ہے کیں اسرائیل اور ایران میں شکار ہونے والی تنقید سے وہاں کے لوگ انعام لیتے ہیں اور ان کو یہ بھاڑ دیتی ہیں کہ اس پر انہوں نے ایسا جواب دیا ہے جس سے پریشانی پیدا ہوئی ہے؟

کچھ لگتا ہے کہ اسرائیل کی حکومت میں انٹرنیٹ کا نہیں ہوتا اور وہ اس پر بھارپور جواب دیتے ہیں تاہم وہاں کی عوام کو یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ ان کے عہد میں سے کون سے واقعات انہیں یہاں پہنچے ہیں۔
 
اسrael کی یہ بھرپور جواب دہی سے ایران کو ایک اچھا موقع ملا ہوگا، اس پر ایران کے حوالے سے نتیجہ معلوم نہیں ہو سکتا۔ ایران نے اسrael کے خلاف بے limits دھمکیاں دی ہیں اور ایسا جواب دیا ہے جس سے اسrael کو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس پر ایران میں بے خوف محسوس ہوگا اور وہ اچھی طرح سے تیار ہوا ہوا اسrael کو جواب دینے لگے گا۔ غزہ کی بات کرتے ہوئے اسرئیل نے ایک بڑا خطرات کا اظہار کیا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔

اسrael کی حکومت پر غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر پالیسی لانے پر کافی تنقید ہوئی ہے، اس نتیجے سے ان کی پالیسی کو ایک اچھا موقع ملا ہوگا جو اس پر ایسے جواب دہی کرنے لگے گا جس سے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک نئی پالیسی تیار ہو سکتی ہے۔

اس پر ایران میں بے خوف محسوس ہوگا اور وہ اسrael کو جواب دینے لگے گا۔ یہ سب ایک بڑی تنقید کی بات ہے۔ ہم نے ایران کو ہمیشہ ایسا جواب دیا ہے جس سے ایران پر پریشانی پیدا ہوئی ہے۔ اب وہ اپنے لئے ایک بڑا موقع مل گیا ہوگا اور وہ اس کو اچھی طرح سے استعمال کرے گا۔
 
"جب آپ کو نقص کی بات ہوتی ہے تو اس پر اپنی توجہ مرکوز کرینے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم، یہ بات غور و فکر کے ساتھ اٹھانی چاہئے"
 
اسrael کی دھمکیاں سے تنگ آ کر ایران اب وہاں ہمیں آ رہا ہے، یہ ایک بدتر صورتحال بن سکتا ہے۔

فلسطین کے قیام پر اسrael نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ان کی اجازت نہیں دیتا، لیکن آئندہ جیسا کبھی نہیں کیا گیا اور نہ ہوگا۔

غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر اسrael کی پالیسی ہمیشہ طاقت کی بات کرتی رہے گی، لہٰذا یہ بھی آگاہ رہنا چاہیے۔

اسrael سے Iran کے درمیان ایک بدلاؤ اٹھنے کی بات ہو گئی ہے، جو اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ یہ ایک خطرناک معاملہ بن سکتا ہے۔
 
ایسا تو اچھا ہو گا اگر انہیں ایران سے جھیٹک و جھنگ کھیلنا پڑے تو ایسا معاملہ طاقت کی بات ہے ، اس کے لیے کوئی بھی ملک جو چاہتا ہو کہ اس پر حملہ کرے تو وہ ہمیشہ ایسا جواب دے گا کہ وہ طاقتور اور پوری قوت سے جواب دے گا۔
 
اسrael کی بھرپور جواب دیئے جانے پر ابھی ایران کی سائن آچتی ہے، لاکین اس کا نتیجہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا جب تک ایران ایسا جواب نہ دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے 🤔

اسrael کی حکومت نے فلسطین پر بھی سایہ توڑنا شروع کر دیا ہے، اب وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے، اور ابھی تک اس پر بات کرتے وقت یہ بات آ رہی ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام پر ابھی تک بات چیت جاری ہے اور نتیجہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا 🤷‍♂️

اسrael کی حکومت نے غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر بھی پالیسی لانے کی بات کی ہے اور وہ اس کی پالیسی کو غزہ کی پٹی پر بھی لاگو کرے گا، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر ابھی تک بات چیت جاری ہے اور نتیجہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا 💥

اسrael کی حکومت کو لگتا ہے کہ وہ غزہ میں ترک اور قطری فوجیوں کو داخل نہیں کرائے گا، اس پر ایران پر ایک بڑا تنقید کی بات آ رہی ہے جس سے ایران کے حوالے سے پریشانی پیدا ہوئی ہے، ابھی تک ایران کا جواب نہیں دیتا، ایسا جیسا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا 💪
 
اسrael کی بھرپور جواب دہی پر ایران کو یہ بات تو لگتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ پریشانی آ چکی ہے۔ نیتن یاہو کی دھمکی پر ایران نے ایسا جواب دیا ہے جس سے اس کو ابھی تو ان کے سامنے ایک بڑا عرصہ دیکھنا پڑ گیا ہو گا۔

ایسے میں یہ بات اچھی نہیں ہوگی کہ اسrael کی حکومت نے اپنی دھمکی پر ایران کو ایک بھرپور جواب دیا، اور اب Iran کے سامنے ابھی تو ایک بڑا معرکہ دیکھنا پڑ گا۔ اس پر کیا ان کے پاس اس کی جگہ پینے کا کوئی طریقہ نہیں؟

ایسا ہوا تو اور ہوگا تو انہیں اسIsrael کی حکومت کی پھرنی ناک بھی آ گیی ہو گے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ اسrael کا یہ کہنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گے، ابھی تو سول جہت پر ہی بات چیت ہوئی تھی اور اب اس پر ایک بھرپور جواب دے رہا ہے۔ یہ کہنا تھا کہ وہ غزہ میں ترک یا قطری فوجیوں کو داخل نہیں کرائیں گے، ایسا لگتا ہے انہوں نے ایک نئی پالیسی کھوئی ہو اور اب وہ کسی بھی فوجی موجودگی کو غزہ میں رکھیں گے۔
 
اسrael کی دھمکیوں پر پوری دنیا کا بچا ہوا انصاف کا انتظار کر رہا ہے۔ لکिन، وہی سؤال ہے کہ اسrael کی حکومت اس پر تنقید کر رہی ہے یا نہیں? ابھی پہلے بھی اس پر ایسا جواب دیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہی رہتا جائے گا۔ اسrael کی حکومت کو اپنی پالیسیوں پر کامیابی حاصل کرنے میں اس سے ناجائز فائدہ ہوتا ہے۔

🤔
 
اسraelی وزیراعظم کی بات سے لگتا ہے کہ وہ اس پر ایران کو ایک بڑی دھمکی دی ہے اور اگر Iran اس پر حملہ کرے تو وہ طاقتور اور پوری قوت سے جواب دے گا۔

ایسا کیا ہو گا؟ ایران نے اسrael سے لڑ رہا ہے اور اب وہ ایک بھرپور جواب دیا ہے، لیکن کیا یہ اچھی بات ہے؟

اسrael کی حکومت کا اس بات پر زور ہے کہ وہ فلسطین سے متعلق بات کر رہے ہیں اور وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن اس پرIran کا جواب ہوا ہے اور اب وہ اس پر ایک بڑی دھمکی دی ہے۔

اسسے میں سوچتا ہوں کہ ایران کی بات سے لگتا ہے کہ وہ اسrael سے لڑ رہا ہے اور اب وہ ایک بھرپور جواب دیا ہے، لیکن کیا یہ اچھی بات ہے؟
 
اسrael کی بھرپور جواب دہی پرIran کو یہ آہستہ آہستہ پہنچائی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ کچھ عرصے میں معلوم نہیں ہو سکتا 🤔

اسrael کی حکومت غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر پالیسی لانے پر واضح ہے اور وہ اس کی پالیسی کو غزہ کی پٹی پر بھی لاگو کرے گا 🚨

اسraelی وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ انہوں نے Turk اور قطری فوجیوں کو Ghazah میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے ،یہ بھی ایک واضح بات ہے اور اس پر Iran پر پریشانی کی لہر ہوئی ہے 😬

اسrael کی حکومت پر غور و فکر سے اس پر ایران کا جواب نہ دینا تھوڑا سا عزم سے اٹھنا بہت اچھا ہوگا 🤞
 
ایسے میں اسrael پر ایک بڑی بھرپور جواب دہی ایران سے مل رہی ہے، اور یہ نتیجہ کبھی معلوم نہیں پائے گا جب تک وہ اس پر ایسی جواب نہ دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے 🤔

ایسraelی وزیراعظم نیتن یاہو کی اور ایران سے دھمکی دینا بہت ہی خطرناک لگتا ہے، اور اس پر یہ کہنا تھا کہ اگر وہ حملے پر ایسا جواب نہ دیں تو انہوں نے پوری قوت سے جواب دیا ہو گا। ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اسrael کی حکومت فلسطین سے متعلق بات کرتے ہوئے ہٹ دھرمی سے بیان دیا ہے اور غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دی گئی ہوگی 🤷‍♀️

اسrael کی حکومت پر یہ بات بھی غور و فکر کے عزم سے اٹھتی ہے کہ اس پر ایران کا جواب نہیں دیتا، ایسا جیسا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، یہ بات بھی دکھائی ڈالتی ہے کہ ایران اس پر حملہ کر رہا ہو اور اس پر ایسا جواب دیا ہوا ہے جس سے Iran میں پریشانی پیدا ہوئی ہے 😬
 
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا اگر دنیا کو ایک اور دھارمک جنگ کی طرف بھی پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں...

دونوں Seiten میں بھی اس بات پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ یہ تنازعہ کسی جانवर کی جڑیں نہ ہو، ابھی تک سایہ داری اور خوف کی جگہ میں ایسے سوال پیدا کرنا چاہئیں جن پر منظر عام پر بات ہو سکے...

دونوں طرفوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہونے کی کوشش کرنی چاہئی، یہ نتیجہ حقیقی سلامتی کی جانب لے جائے...

ہمیں یہ واضح کرنا چاہئی کہ ہر ایسے تنازعے میں اس بات پر توجہ دی جانی چاہئی جو آسٹریلیا اور آف کیریبین سے لے کر جنوبی امریکا تک بھی ہوتا رہا ہے...
 
اسrael کی بھرپور جواب دہی پر ایران کو آہستہ آہستہ پہنچائی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا 🤔

اسraelی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایسے حملے پر جواب دیا جسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ تو انہیں کچھ بھی نہیں ہو سکتا 💥

اسrael کی حکومت غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کے داخلے پر پالیسی لانے پر بھی تنگ آگئی ہے اور وہ اس کی پالیسی کو غزہ کی پٹی پر بھی لاگو کرے گی، یہ تو ایک دوسرے کا جواب ہو رہا ہے 🔄

لڑائی میں لگت متی بھی اور وہ حملے اسrael پر بھی تیز pace سے اٹھنے لگی ہیں، جس سے کبھی کبھر یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون ساتھ کیا کر رہا ہے 😂
 
اسraelی وزیراعظم کی بات سے تو یہ چالاکapan ہے کہ وہ اور ایران دونوں میں ایک بھرپور مہم شروع کر دیتے ہیں، لیکن اس پر غور کرنا ہے کہ یہاں سے پہلے Iran کی پریشانی کیسے پیدا ہوئی؟ اور اسrael کی حکومت نے ایسے جواب دیا جیسا کہ کبھی نہیں دیکھا گیا، یہ تو ان کے لئے ایک دھمکی کے طور پر کام کر رہا ہو گا۔ اور وہ اس پر ایران کو جواب دینے سے منع کر رہے ہیں، یہ تو ان کی ناک بھرنے کا ایک بہترین طریقہ ہو گا۔
 
اسrael کی بھرپور جواب دہی پر ایران کو پہنچائی جا رہی ہے، یہ تو ان کے لئے ایک عجیب کہلاؤ ہو گا!Iran کے ساتھ اس کے تعامل سے مڑتے ہوئے پوری دنیا پر غور و فکر آ رہی ہے۔ اسrael کی حکومت نے فلسطین سے متعلق باتوں پر بھی زور دیا ہے، اور یہ بات تو صاف دکھائی دے رہی ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گی۔ مگر ایران کا جواب تو بہت سوجھا لگ رہا ہے! اسrael کو ان کے جواب سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑega, اور یہاں تک کہ وہ غزہ کی پٹی پر بھی غیر ملکی فوجیوں کے داخلے کو لانے سے مایوس ہونے والے ہیں!
 
واپس
Top