متحدہ عرب امارات نے ایران پر کسی حملے کے لیے اپنی زمینی، فضائی یا سمندری حدود استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر کسی بھی فوجی جارحیت کے لیے لاجسٹک معاونت نہیں کریں گی اور اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور تنازعات حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایران پر حملے سے پہلے متحدہ عرب امارات نے ہزاروں بار اہل ایران کے لیے اپنی سرزمین پر سمجھوتے کی تجدید کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس وقت تک یہ معاملاً نافذ نہیں ہوا ہے جب تک ایران نے ان معاملات میں توازن حاصل نہیں کیا ہو سکا ہوگا۔
ایران پر حملے کی صورت میں متحدہ عرب امارات اپنی اہلیتیں بھی اپنی سرزمین پر استعمال کرنے سے انکار کر دیں گے اور اس صورت حال کو حل کے لیے ایک معاہدہ پر دستخط کیے جائیں گے۔
تھوڈا یہ سچ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر کسی حملے کے لیے اپنی حدود استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے، لیکن اس کی پीछے والی صورتحال ایسے توزہ اور بحران کا مظاہر ہوگا جس سے سارے لوگ دیکھن گے کہ یہ معاملات کیسے حل ہونگی۔ ایران کی طرف سے بھی اس صورتحال کو حل کرنے میں کچھ قدم بھی اٹھانے پڑ رہے ہوں گے؟
یہ بہت اچھی رائے ہے کہ متحدہ عرب امارات نے Iran پر حملے سے پہلے ایران کے لوگوں کے لیے اپنی سرزمین پر سمجھوتے کی تجدید کا مطالبہ کیا تھا اور اب بھی وہ ان معاملات میں توازن حاصل نہ کر سکیا ہوگا اس سے پتہ چalta ہے کہ Iran پر حملے سے پہلے وہ اپنی اہلیتیں بھی استعمال کرنے سے انکار کر دیں گے اور اب وہ ایک معاہدہ پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں جو ایران کو اس صورتحال کو حل کرنے میں مدد کر سکے
امارات کا یہ فیصلہ کبھی نہیں آ سکتا تھا۔ Iran پر حملے سے قبل ہزاروں بار اہل ایران کے لیے اس کی سرزمین پر سمجھوتے کی تجدید کا مطالبہ کیا گیا تھا، لेकنIran نے توازن حاصل نہیں کیا ہو سکا ہوگا۔ اب انھوں نے اتنے زیادہ وقت لیتے ہوئے اور ایسے معاملات میں توازن حاصل نہیں کیا، پھر بھی ملک کو کسی حملے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
امارات کی جانب سے ہونے والی یہ لاجسٹک معاونت Iran کی فوجی جارحیت کے لیے نہیں، بلکہ تنازعات حل کے لیے سفارتی ذرائع پر زور دیا گیا ہے جو ایک بھلائی رائے ہے۔ اس کی وضاحت Iran کی جانب سے لائی گئی ہے اور ملک نے اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امارات کی جانب سے انکار کرنا ایک اچھا رائے بن گئی ہے، اس میں کسی بھی دوسرے ملک کے استعمال کے لیے ترجیح دی جاتی ہے جو بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔ اس میں ایک معاہدہ پر دستخط کرنا بھی شامل ہے جس سےIran کو حل کرنے کے لیے وقت ملے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی لائسنس نہیں دی، یہ صرف ایک معاملہ سے نکلنا تھا، ایران کی جانب سے بھی اس پر بات چیت کروائی جا سکتی تھی، پھر بھی وہ توازن بنانے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اب متحدہ عرب امارات نے ایک اور لائسنس نہ دیا اور اس کے بعد کیا؟ کب تک یہ معاملات حل نہ ہونگی اور وہ اپنی اہلیتیں استعمال کرنے سے انکار کریں گی؟
ایسے میں متحدہ عرب امارات نے ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ تو عجیب ہے کیوں؟ کیا یہ کوئی تجربہ نواز اور وہاں کے لوگوں کی نوجوانی ہے، اور اس صورت حال میں انہوں نے توازن حاصل کیا ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی کیا تین ہزار سالوں سے اس معاملے میں ایسا نہیں رہا ہے؟ اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا ہے، لेकین یہ واضح ہے کہ ان کے پاس ان کی اہلیتیں بھی ہیں جو اس صورت میں استعمال کرنے سے انکار کر دی جائیں گی؟ ایسا کیا ممکن ہے؟
اس وقت تک میں نہیں سمجھ سکا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے معاشرے کو اس صورتحال کا جواب کیسے دیا ہو گا؟ یہ بھی چینی نہیں، وہاں لوگ انہیں دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ایسے میں نہ ہونے پر یہ بھی بات نہیں آئی کہ ایران کی طرف سے کی گئی توجہ اور لاءجسٹک معاونت کا یہ جواب کیسے دیا جائے گا؟
تہران کے بعد ہر جو ملک ایران سے بات چیت کرنا چاہتا ہو اس کا ایک ہی موڈل نہیں ہوتا، جس لیے اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ایران کی توجہ بھی ضروری ہے، اور ملکی معاملات میں سفارتی ذرائع کو یقین نہیں دیا جائے تو ٹھیس پہنچے گا، اس لیے اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ایران کو اپنی دلیلوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت پر زور دیا جائے گا تاکہ ایسا نتیجہ نہ ہو جو ایران کو نقصان پہنچائے
منہوں نے دیکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے؟ وہ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا گیا ہے، لگتا ہے یہ تو کچھ کامیاب رہا ہو گا... لیکن منہ نہیں بتایا کہ وہ ملک کی سہولت کس حد تک دے گا؟
منہنے بھی سوچا تھا کہ ایران پر حملے سے پہلے متحدہ عرب امارات نے ہزاروں بار اہل ایران کے لیے اپنی سرزمین پر سمجھوتے کی تجدید کیا تھا، لگتا ہے یہ تو ایک چال بھی تھی... لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
اب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، تو اس سے انھوں نے کیا ہدف یقینی بنایا ہو گا؟