متحدہ عرب امارات نے ایران پر کسی حملے کے لیے اپنی تمام حدود استعمال کرنے دے مگر اس میں ایک بھی ایسا کوئی جگہ نہیں ہے، یو اے ای کے مطابق ایران پر کسی حملے کی طرف سے اپنی سرزمین استعمال کرنے دے گا۔
انہوں نے امارات میں کسی بھی حملے کے لیے اپنا فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات بھی استعمال کرنے دے مگر اس کی کوئی حد ہے نہیں، یو اے ای نے ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے اپنی فوجی اور سمندری حدود استعمال کرنے دے گا۔
امارات کی حکومت نے انھیں بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کسی حملے کے لیے اپنا فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات استعمال کرنے دے گا، انھوں نے اس کی وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ ایران میں متحدہ عرب امارات کو ایسی حد تک ترجیح دی گئی ہے جس سے ان کے علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امارات کی حکومت نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں کسی حملے کے لیے اپنا فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات استعمال کرنے دے گا، یو اے ای نے ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے اپنی فوجی اور سمندری حدود استعمال کرنے دے گا۔
ایسے میں بھی لگتا ہے کہ یو اے ای کو بھی ایران سے پہلے کچھ اپنا ہوں، جیسا کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنے قریب کے مینڈیٹ پر بہت تنگ آگئے ہے، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی اور ایران کی سرحدوں کو ایک ایسا نقطہ قرار دیا ہے جو انھیں ہی اس بات کے لیے مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایران پر حملے سے پہلے اپنی اور ایران کی حدود استعمال کرنے دے گا
ایسا کہنا میں بھی اس کی تکلیف نہیں کی جا سکتی کہ متحدہ عرب امارات کو ایران پر ایسا حملہ کرنے کا وہم ہو گیا ہے اور وہ اپنی تمام حدود استعمال کرنے دے رہے ہیں مگر اس میں کوئی جگہ نہیں ہے؟ یہ وہم تو کبھی کبھر سچا ہو سکتا ہے لیکن اب تک اس پر کسی کی امانت دے کر نہیں رکھا گیا ہے۔ اگر یہ حقیقت میں صحت مند ہے تو انہیں اپنی حدود کا استعمال کرنا چاہئے مگر اگر یہ کٹار سچ نہیں تو اس پر کسی کی امانت نہیں دیتے تو بھی یہ ہی حقیقت ہو گی
امارات کو اپنی فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات استعمال کرنے کا حق ہے مگر اس کی حد پر پہنچنا نہیں چاہئے، یہ ایک بات ہے جو وہ اپنی جانب سے کرتے رہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس پر کسی کی امانت نہیں دی جائے، میں یہی محسوس کر رہا ہوں کہ اگر انہیں سچائی کو سمجھنا ہوتا تو وہ اس پر نظر انداز نہیں کرتے اور اپنے فوجی اور سمندری اقدامات کی حد تک پہنچتے رہتے
اس سے پہلے بھی امارات نے اس کی تاکید کی ہوگی کہ انہوں نے ایران کو ایسی ترجیح دی ہے جس سے ان کے علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن اب یہ سچائی بھی نہیں ہے اور وہ اپنی حدود کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کی ترجیح کو پورا کر سکتے ہیں؟ یہ تو ایک خطرناک situación ہے جس پر پوری دنیا کا دیکھ بھال رکھتی ہے
ایسا بھی بتاؤں کہ ملک کے کون سی علاقےIran پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ انہوں نے کبھی بھی ایسا کوئی جگہ نہیں دیکھی ہیں۔ ملک میں ہر ایک اپنی زندگی اور اپنا کام چلا رہتا ہے، یہ کہ ہم ایران پر حملے کے لیے کس جگہ استعمال کر سکتے ہیں نہیں یہ بات تو سمجھنی پڑتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یو اے ای کو ایران سے اس کی اشتہار کی حد پر رکھنا چاہیے، اب تک ملکی اور بین الاقوامی relations میں ایسا بات چیت نہیں ہوتی جس کے بعد انھیں حتمی فیصلے لینے پر مجبور ہون۔ ایران سے اس کی حدود پر رکھنا تو آسان ہوگا، بل्कہ یہ بھی بہتر ہوگا کہ انھیں اپنی اشتہاری اقدامات پر قابو پا لیجے
ہم سار کی ایسی صورت حال ہوئی ہے جس میں توڑ پھوڑ کو اپنا مقصد سمجھنے کے لئے ہمیں بھی ایسا ہی ذمہ دار بنایا جا رہا ہے! یو اے ای نے کہا ہے کہ وہ انہیں اپنی تمام حدود استعمال کرنے دے گا، لیکن کون سا ہم سار بھی اس کو اپنا مقصد سمجھ پاتا ہے؟
امارات کی حکومت نے بتایا کہ وہ انہیں ایسے فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات استعمال کرنے دے گا جو ان کے علاقوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں! یہ تو ایک بھی ایسا جیسا ناابعدالنفسانہ عمل ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنا مقصد حاصل نہیں ہوگا!
میری بات یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسی پچھلے پینٹ کو دیکھنے کی طرح ہے جو ایک بار ٹھوس ہو گیا ہے! ہم سار کو اس کے لئے اپنا ایسا ہی ذمہ دار بنایا جا رہا ہے جیسا کہ کبھی بھی نہیں دیکھا گیا!
ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں سوشل مीडیا پر ایسے رپورٹس نہیں پائے جاتے جو اس کی فوجی اقدامتوں کو دکھائی دیتے ہیں، یو اے ای کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین استعمال کرنے دے گا، لیکن انہیں پتہ نہیں ہے کہ اس میں سے کس جگہ پر ان کی فوجی اقدامات دکھائی دئیں گی۔
تلاش ہے کہ کیا یو اے ای نے ایسا ہی موازعہ پیش کیا ہے جیسا امارات نے. انہوں نے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کر دیا، لیکن ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے اپنا فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات استعمال کرنے دے گا، یو اے ای. لگتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سے ہی اپنی فوجی اور سمندری حدود استعمال کروائی ہیں، لیکن ابھی تک کسی حملے کے بعد ان پر جواب ملتا تھا. ابھی نئی صورت حال میں اس سے بچنے کی کیوں نہیں ہوتی؟
ایسا لگتا ہے جیسے یو اے ای نے صرف ایک حقیقت کو سامنے رکھ دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران پر حملے کی طرف سے اپنی حدود استعمال کرنے دے گئی ہے لیکن اس میں ایک بھی جگہ نہیں ہے کہ وہ انہیں کس طرح استعمال کر رہا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یو اے ای نے اپنے فوجی اور سمندری اطلاعاتی اقدامات کو کیسے استعمال کیا ہے لیکن انہیں بتایا نہیں گیا ہے کہ اس میں سے کس حد تک استعمال کرنا پڑega?
یہ رائے میں بھی اچھا تھا کیونکہ یو اے ای کا اس بات پر بات چیت کرنا قابل تسلیم ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران پر کسی حملے کی طرف سے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرن گے۔ لیکن یہ بھی ایک بات قابل غور ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات ایران کو نقصان پہنچانے کی طاقت دی گئی تو انہوں نے اس کو کبھی کبھار استعمال کر لیا، حالانکہ وہ یقینی طور پر کیسے اور کس حد تک استعمال کریں گے؟
ایسے تو ہے، متحدہ عرب امارات نے ایران پر ایک جگہ نظر دے دی ہے مگر انہیں ہمیشہ یہی بات کہنا پڑتا ہے کہ اس کی حدود میں کوئی جگہ نہیں ہے، ایران کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی آزادی اور حقیقت کو سمجھ رہا ہو
ਖبروں سے واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر کسی حملے کے لیے اپنی تمام حدود استعمال کرنے کی وعدہ دے دی ہے لیکن یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ان کی یہ حدود کہیں پر محدود نہیں ہیں، نا تو اس میں کسی بھی جگہ پر ایسا کوئی جگہ نہیں ہے جو وہ اپنے حملے کے لیے استعمال کر سکیں।
امارات کی حکومت نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایران کو ایسی حد تک ترجیح دی ہے جو ان کے علاقوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ ان کی فوجی اور سمندری حدود اس حد تک استعمال کرنی جاتی ہیں جو انہوں نے چاہا ہوتا ہے۔
اس سے یہ بات پتہ چلتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کو ایران پر حملے کے لیے اپنی تمام حدود استعمال کرنے کی وعدہ دے کر، اس کا مقصدIran کی سرزمین پر فوجی اقدامات کیا جانا ہوتا ہے۔