ایران روس اور چین کا شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان

کافی عاشق

Well-known member
ایران اور دوسرے ممالک کی بحری افواج، جیسے روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مشقیں پچھلے ماہ منعقد کی گئیں، جس میں تمام تین ممالک کی بحری افواج نے حصہ لیا۔

یہ مشق کو ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، جو اس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کا مقصد بھارتی Ocean میں سلامتی کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا ہے۔ اس کے علاوہ تین ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا بھی ہے۔

اب تک اس سیریز کی سات بار منعقدیں کر لی گئی ہیں، جو 2019 میں ایران کی بحریہ نے شروع کی تھیں۔ اب اس مشق کا مقصد اور مقاصد بھی تبدیل ہوگئے ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
 
ایسے والی ایکسپرشنز دوسری جگہ سے نکل کر انٹرنیشنل سموائنڈ یونیورسٹی میں منعقد ہوئی، اس کی پہلی بار بھی منعقد کی گئی تھی۔ اب دوسری بار ایسی جگہ پر نہیں بلکہ شمالی بحرِ ہند کا استحکام، میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ کا مقصد اس لیے اچھا ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک کو اپنی جانب کیا ہو رہا ہے، مگر یہ سافٹ Power بھی ہے، بھارتی۔
 
یہ مشق بھی سچمے نہیں کرنے والے کی طرح سے ہوگئی ہے، پہلے تو کہتے تھے کہ یہ ایک چیتا چیتا کاروبار ہے اور اب اسے ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کے نام سے پیش کر رہے ہیں...
لگتا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد صرف سلامتی کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے کاروبار کو بھی فروغ دینا ہے...
لیکن یہ کہیں نہ کہیں، اس مشق کی انسداد کرنے والوں میں بھی تیز گریوں آ رہی ہیں...
 
اس حوالے سے سوچتا ہوں کہ یہ مشق ہی نہیں بلکہ بڑی پیمانے پر تعاون کی ایک نئی پہلی ہے۔ اس کی مدد سے ہر ایک ملک ایسے خطروں سے نمٹنا اور خود کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، جہاں ان کا فائدہ لینے کی بھی سंभावनہ ہے۔ اس میں پچھلے مشق کی طرح بھارتی اور ایرانی بحری افواج کو ایک ساتھ لانا نہیں بلکہ ایسا ایک بڑا منصوبہ تھا جس کا مقصد بھی اس وقت سے تبدیل ہوگیا ہے۔
 
چینیوں نے بہت سارے اسلاب ساتھ یہ محفوظ سیکیورٹی بیلٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب انہوں نے تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا ہے، تو یہ کیا خفیہ ہے؟ بھارتی اور ایرانی بحری فوجوں نے پچھلے ماہ اس سیریز میں حصہ لیا تھا، اب انہوں نے اس کا نئا منظر بنایا ہے؟ روس نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور اب یہ سب کے درمیان سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن ہمارے پاس اس بات کو تصدیق کرنا ہوگا کہ یہ واضح طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکا ہے؟
 
ایسے تو چلے ہیں ان تمام ممالک نے ایک ساتھ مل کر ایسی مشق کی، اور پچھلے ماہ ہی انہوں نے منعقد کیا تھا، اب یہ کہتے ہیں اس کو ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کہا جائے گا تو واضح طور پر ایسا ہی، لیکن پچھلے تین سالوں میں یہ مشق منعقد ہو رہی ہے اور اب اس کا مقصد بھی تبدیل ہو گئا ہے۔
 
ایسے واضح نہیں، یہ مشق پچھلے ماہ منعقدیں تھیں! اور اب ان کا مقصد بھی تبدیل ہوگیا ہے? امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے تو کیا اس پر کسی نتیجے کا تعلق ہے؟ یہ بھی عجیب ہے، تین ممالک کی بحری افواج ایک ساتھ آ کر مشق کرتے ہیں تو کیا کسی ملک کو کمزور بنایا جا رہا ہے؟

اس سیریز کی سات بار منعقدیں کر لی گئی ہیں اور اب اس کی جانب سے نتیجے لانا بہت مشکل ہوگا 🤔
 
ایسا لگتا ہے اس سیریز کی منعقدیں آئندہ سال بھی جاری رہن گی، اور یہ ایک بڑا پچرا تھا کہ کبھی ان میں امریکہ شامل ہوگا؟ میری بات یہ ہے کہ کیوں ہمیں صرف وینس نے دیکھا، کہ کبھی کوئی اور بھی آگے آتا، جیسے فوری ایکسپریس ٹرین نہیں بنتے تو ایسے اچھے لانچ کرتے ہیں!
 
آج کے عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بہت اچھی بات ہے کہ ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے! 🤝 اس طرح ایک سیریز کی تین بار منعقدیں کر لی گئی ہیں اور اب بھی ان میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ اس بات کو بھی محسوس کیا جاتا ہے کہ اس سیریز میں تین ممالک کی بحری افواج نے حصہ لیا، جو کہ ایک اچھی بھارتیہ سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کی طرف ہے!
 
ایسا محض میرے خیال میں بہت سچ ہے کہ اس شریک بحری مشق کی واضح اہمیت نہیں رہی جیسے قبل کی مشقوں میں تھی، اب یہ صرف ایک ایسا معاملہ ہوا جیسے کہ پچھلے سال کی مشق کے بعد کا یہ نئا فیصلہ، یہ بات بہت حیرانی کا باعث بن رہی ہے.
 
ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر میں ملکوں کی بحری افواج ایک دوسرے سے مل کر مشق کرنے والی بات تو آدھی نہیں ہے، مگر یہ بات کبھی نہیں سمجھی جاتی کہ یہ تمام جانبدار اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ ہیں… 🤝

آج بھی ایرانی بحریہ، روس اور چین نے مشترکہ مشق کیا، اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بڑھتے ہوئے خطرے کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس سیریز نے اب تک 7 بار منعقد کی گئی ہے، پچھلے مہینے بھی ایسا ہی کیا… مگر یہ بات یقینی نہیں کہ وہ ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی جانب سے محبت کر رہے ہیں یا صرف امن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں… 🤔
 
امریکہ کے بغیر یہ مشق ایسا تو ہی نہیں رہ سکتا، بھارت کی جانب سے دوسری پوری قوت نہیں ہو سکتی اور انھوں نے اس کے لیے ایک نئے نعرے کو بنایا ہے، ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘، یہ اس کے پچھلے نام ’سیمنا‘ کی جگہ ہے، اب وہ ان پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، دوسرے ممالک سے بھی ان کی تعاون کے لیے اپنے منظر نامے میں شامل ہونے کا کوشش کر رہا ہے، یہ بات تو پتہ چل جائیگی کہ وہ اتنے بھی اسکٹنگ نہیں کر سکتا ہے!
 
یہ مشق ایک بڑا قدم ہے اور یہ دلوں سے ٹوٹتے ہوئے ہمیشہ کے خوف سے نجات دینے والا لگتا ہے۔ تین اہل قیمتی ممالک کی بحری افواج ایک ساتھ ملوझ کر سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ اس مشق کے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے، یہ دیکھنا نہیں آئیا چاہتا کہ یہ اس کے بعد انٹرنیشنل سمٹ سے ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں مددگا یا نہیں؟
 
بہت اچھا یہ کہ بھارت، ایران، چین اور روس جیسے ممالک ایک ہی میٹنگ میں مل کر ایک ایسا معاہدہ بنائو جو اس سیریز کو بہتر بنائیں 🤝 وہ یہ کہہ رہے تھے کہ یہ ایک مشترکہ مشق ہے اور یہ سب مل کر پچھلے ماہ کے طور پر کیا گیا تھا، لیکن اب اسے ’میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ‘ کا نام دیا گیا ہے جو ایک اہم خصوصیت ہے۔
 
چین و روس کی ان بحری مشقوں سے بھارت کو ڈرتا ہے یا نہیں؟ پہلے تو بھارتی بحری افواج کا حصہ لینے کی کوشش کر رہے تھے، اب وہ ان مشقوں میں شامل ہونے والے ممالک میں سے ایک بن گئے ہیں۔ یہ بات کچھ عجیب ہے اور اس پر کچھ سوالات بھی تھے، اب تو کچھ نہ کچھ ہوگا؟
 
ایسا تو لگتا ہے کہ پچھلے ماہ کی مشق سے اب تک بھی بہت کم لوگ ان باتوں کے बارے میں کہے تھے کہ یہ ایک اہم اعلان ہے، لیکن اب بھی کوئی نہ کوئی ویکسپورٹز کرتا رہتا ہے کہ اس سے ایران میں امریکہ کی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ جیسے ہی اس مشق کو منظم کیا گیا ہے، تین ممالک کی ایسی ٹیمز نہیں بنتیں گے۔ اس سے ان میں بھی یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ مشق صرف سلامتی اور تعاون کے لیے ہی منظم کی گئی تھی، نہ کہ ان میں کسی بھی قسم کا تنازعہ یا مقابلہ ہو سکتا ہے۔
 
ایسا کہنا مشکل ہوگا کہ یہ مشق کیا وہاکنی کیسے لائیں گی؟ جب تک کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی چلی گئی ہو، تو اس سیریز میں کسی نئی اہمیت کیسے شامل کرائیں؟ یہ مشق صرف سلامتی کو مضبوط بننے کے لیے نہیں بلکہ اس مقصد کے لئے ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
 
ایسے situations میں انچارجی کرونا ایک نئی معذوری بن گیا ہے... 🤔 یہ منعقدات کرنے سے بھارت کو اس کے دورۂ بہت فائدہ ہوگا، اور اس سے انچارجی دیکھنا ہی نہیں ہوگا... یہ منعقدات کرنے والے ممالک کی ایک ایسی پالیسی کا تعلق ہے جس سے ان میں معاشی تعاون بھی ہونا چاہیے, اور اس پر تو انچارجی ہونی چاہیے...
 
واپس
Top