ایرانی سپریم لیڈر منظر عام پر آگئے

سارس

Well-known member
ایران کی قیادت کے سربراہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس وقت عوام کے سامنے آئے ہیں جب ایران میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور امریکی حملوں کی خوفนاک تہذیبوں کا دور رہا ہے، انہوں نے آجIslamic انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے آغاز پر بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی اور دعا کی۔

اس وقت میں ایران کی صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں کرتے ہوئے، آیت اللہ خامنہ ای کا بیان تھا کہ آج Islamic انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے آغاز پر بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی اور دعا کی گئی۔ اس پیشرفت میں ایسی حالات سامنے آئے ہیں جب ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی سطح پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بات ہو رہی ہے۔

ایران کی قیادت نے اس وقت کا استعمال کیا ہے جب امریکی حملوں اور یہ سکنت کا دور رہا ہے، انہوں نے دعائیں کیں اور ایران کی قیادت کے بارے میں اپنے بیان میں ایک بھرپور واضح बयان پیش کیا۔ اس دور میںIranian صدر مسعود پیزشکیان نے ان حالات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی رہنماؤں نے ایران کے معاشی مسائل کا فائدہ اٹھایا، بدامنی کو ہوا دی اور عوام کو احتجاجی مظاہروں کی طرف دھکیلا،دوسری جانب ایرانی قیادت کے اندر سے سفارت کاری کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔

اس وقتIran کی قیادت کے سربراہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور اسرائیل سے بات چیت کے لیے ایک فریم ورک پر کام جاری ہے، تاہم اس کے برعکس جنگ کے ماحول کو بنایا جا رہا ہے، اور اس کے خلاف ایسی کارروائیوں کی تیاری کی گئی ہے۔
 
اس صورتحال میں ایران کی قیادت ایک بہت مشکل موقف میں ہے, اور ان کی جانب سے کیا گیا بیان کافی دلچسپ ہے.
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنا بیان ایک بھرپور واضح बयان پیش کیا ہے جس میں امریکی حملوں اور Israel کی تھیٹرائزیشن پر تاکید کیا گیا ہے, لیکن اس سے باہر بھی کچھ بات ہے.
 
سنتالیسویں سالگرہ کے آغاز پر بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دیا اور دعائیں کی، انہوں نے اس وقت ایران میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور امریکی حملوں کی خوفناک تہذیبوں کا دور رہا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں ایک بھرپور واضح बयان پیش کیا، لیکن ایران کے معاشی مسائل پر بھی غور کیا نہیں، بدقسمتی سے دنیا کو پھینکتا ہوا دیکھنا پڑ رہا ہے۔
 
اس وقت ایران کی صورتحال کے بارے میں بھی تین گنا زیادہ بات چیت کر رہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان کہتے ہوئے ہے کہ جنگ کی سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جا رہا ہے؟Iranian صدر نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں معاشی مسائل کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا، پھر کیوں بھاری زبانیں کی جاتی ہیں؟ مگر واضح ہو گا یہ کہ ایران میں اس وقت کی صورتحال کچھ سے زیادہ مشکل ہے، جس کے لیے ایک چٹانے والا سوتنے والا بیان ضروری ہے اور اس پر بات چیت کرنا بھی ضروری ہو گا
 
پرویز پور بھی نہیں ہوا تو اس وقت کیا کیا جاتا؟ Iran کی قیادت کے سربراہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں تھکاوٹ کی محسوس کرائی، پچیس سالوں سے حکومت لے رکھتے ہوئے اور کئی بار امریکی حملوں کو سامنا کیا کرنے کے بعد بھی انھوں نے اس طرح کا بیان کیا ہے؟ کیا انھوں نے کچھ نئی اور کچھ نہیں سیکھا؟ Iran کی صورتحال بہت گہری تھی لگتا تھا، اور اب جب یہ 21ویں صدی میں رہیں وہ اپنی حکومت کی چیلنجز کس طرح حل کر رہیں؟
 
یہ سننا تھوڑا غم بہت زخمی کرتا ہے کہ ان شہروں میں جس پریشانی کی صورت ہو رہی ہے وہ اسی وقت آ رہی ہے جب ایران کی قیادت نے اپنے سربراہی کے دوران سارے شہروں میں سہی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں. یہ تو بھی محسوس ہوتا ہے کہ ایران کی قیادت آج ایسی حالات میں اترتی ہے جب دنیا بھر سے تنگ آگے پھنس رہی ہے۔
 
اس وقت ایران میں بڑھتی ہوئی تھرڈ ورلڈ وار کا خوف، ایران کی قیادت نے عوام کو محو اربابِ فخر کیا ہے، اور انہوں نے اپنے بیان میں بھرپور رائے داری دی ہے، لیکن آج اس بات پر سوال ہے کہ ایران کی قیادت نے عوام کو کیا منصوبہ بنایا ہے؟ کیا انہوں نے عوام کو جنگ اور تحریر کا راز بتایا ہے؟ اس سے پہلے Iran میں دھنچکھیں دیکھنی پڑتی ہیں، تو کیا ان کے بیان کو عوام کی حقیقی ضروریات سے ملایا جا رہا ہے؟
 
ایسا لگتا ہے کہ ایران کی صورتحال پر بھرپور دباؤ ہے 😕، اور آیت اللہ خامنہ ای کے بیان سے نکلتا ہے کہ اس وقت کے لیے ایک خطرناک دور رہا ہے جب ایران میں بھیڑ بیڑی ہو رہی ہے، اور امریکی حملوں کا خوف رہا ہے جس سے لوگ پرعصرت کرتے ہیں 🚫، لیکن ایران کی قیادت نے بھی اس وقت استعمال کیا ہے جب لوگوں کو ایک لچک ملا رہی ہے ، اور انہوں نے دعائیں کیں، لیکن یہ بات سائنہ در سنہار ہے کہ ایران میں حالات جھیلے ہوئے ہیں اور دنیا بھی ان صورتحال پر توجہ دے رہی ہے 🌎
 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنی واضح बयانیں کر رہے ہیں، تاہم یہ سب سے بھی ہٹاتا ہے کہ ان کے سامنے ایران میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا، تو کیا وہ محض شاندار احتجاجات کے لیے حاضری دی رہے ہیں؟
 
یہ بھی اتنا یقین نہیں کہ امریکا اور اسرائیل سے بات چیت کے لیے وہ ایک فریم ورک بنائو گے، اگرچہ آئی نہیں کہ ان کے پاس ایران کو منظم کرنے کا ذہن تو ہوا کیوں نہیں، اور اسی لئے اس دور میں وہ ایران سے بات چیت کرنا شروع کر دیا جا رہا ہے، لیکن جب یہ بات چیت منفی نکلتی ہے تو دوسری جانب وہ اٹھ کر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اگرچہ یہ پتہ چلتا ہے کہ ایران میں ان کی جانب سے کیا منافقت نہیں ہو سکتی۔
 
Iran ki qadeet ke sarparahay Aitullah Ali Khamenei ne aaj Iran ki qadeet kii sirfabad kari hai jab Iran mein badhate huye sekerity khoshamand aur ameriki haulon ki khoofnaki tehdeebon ka dur rahega, unhone aisi halaton mein bani Iisami insaaph ki 17veen salgrahe ki shurooat par bani Iisami insaaph ke mazaar pe hadirat di aur dua kardi.

Aaj Iran ki qadeet ki surkhast karein to, Aitullah Ali Khamenei ne kaha hai ki yeh din bani Iisami insaaph ki 17veen salgrahe ki shurooat par mazaar pe hadirat karte samay kai halatein aayi hain, jaise ki Iran ke varie shahron mein hawadishari majalariyan, aur zameen par yeh safar hua hai jab Iran ki qadeet ke saamne kaafi gehra rishte khule hue hain.

Iran ki qadeet ne ab tak kaha hai ki ameriki hualon aur yah sakenat ka dur raha hai, unhone apni kalam mein ek badi aur spasht baayan di hai. Toh baat yeh hai ke Iran ki qadeet ne yeh samay aik naya istemaal kiya hai jab ameriki hualon aur yah sakenat ka dur raha hai, unhone dua di aur Iran ki qadeet ke sarparahay mein apna ek spasht bayan paya hai.

Dusra mushkil hai Iran ki qadeet ke saamne Iran ki rashiyaat karein. Iranian sabad Musadduq Pazeshkian ne in halaton par badlaav deta hue kaha hai ki ameriki hualon, Israel aur Yuropiy rahnamaoon ne Iran ki maasilasias kharch ka fayda uthaya hai, aur aam logon ko hawadishari majalariyon ki taraf dhaika diya hai. Lekin dusri or Iranian qadeet ke andar se rashiyaat kareen ho rahe hain.
 
بھی کیا یہ بات بھی نہیں تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای کا منظر کچھ تو کچھ دیر سے ہو رہا ہے... ایران کی صورتحال سے کوئی انصاف نہیں ہوسکta... وہ لوگ جو یہاں کے شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں میں رہ رہے ہیں ان کی بات کس پر مبنی ہوسکتی ہے؟ پھر وہ بھی کہہ رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے بات چیت کے لیے ایک فریم ورک پر کام جاری ہے... یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔

اس وقت کی صورتحال میں ایران کی قیادت کا جو منظر دیکھنا پڑ رہا ہے وہ بہت خوفناک ہوسکta... اور اس کو حل کرنے کے لیے انہوں نے یہ کہا کہ جنگ کے ماحول کو بنایا جائ رہا ہے... یہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ لوگ جو ایران کی قیادت کیوں نہیں دیکھتے کے اور ان کے ساتھ ہیں، انہیں یہ بات کس پر مبنی ہوسکتی ہے کہ اس صورتحال کی کوئی حل نہیں ہوسکta؟

🤔
 
میں بہت سوشل میڈیا پر دیکھا کہ لوگIran کی صورتحال پر زیادہ توجہ نہیں دی رہے، صرف انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی حاضری کے بارے میں بات کی ہے، لگتا ہے کہ وہی سرگرمی ہے جو ایران میں زیادہ سے زیادہ دیکھی جاتی ہے، میری روایتی رائے میں تو یہ بات بھی ہے کہ Iran کی صورتحال پر توجہ دی جانی چاہئے
 
ایران میں حالات بہت تھکاوٹ دے رہے ہیں 🤕، ان کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای نے کیا کہیں اور وہاں بھی اپنی طرف سے پھیلائی گئی ہے، اس وقت ہر شہر میں احتجاجی مظاہروں کی لہر چل رہی ہے اور امریکی حملوں کے خوف و خطر کے دوران انہوں نے دعائیں کیں اور Iran کی قیادت کے بارے میں اپنا بیان پیش کیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، منے لگتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ایسا کہنا ہو گا کہ وہ امریکا اور اسرائیل سے بات چیت کی جانے پر تیار ہیں، لیکن اس کے پاس انہیں اس جگہ سے بھی باہر کرنا پڑے گا۔ یہ دیکھنا مشکل ہے، مگر تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ Iran کی قیادت میں ایک جھگڑا ہو جاتا ہے 🤔
 
ایسا لگتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنا بیان ان حالات میں دیا ہے جب اور بھی زیادہ سے زیادہ سکنت رہتی ہے، لیکن یہ بات دوسرے طرف کے تو نہیں بلکہ ایران کی قیادت کی جانب سے بھی دوسری طرف کو انکار کرنا تھا جو امریکے اور اسرائیل سے بات چیت کرتے ہوئے آئے ہیں، ایسا نہیں کہ وہ ایران کی قیادت سے پھر سے بات چیت کرنے پر مائل ہوں؟ 🤔
 
ایران کی صورتحال کے بارے میں قیاس آرائی کرنے پر آیت اللہ خامنے ای نے امریکی حملوں اور اس سکنت کو بھی استعمال کیا ہے جو ایران کی قیادت کی پائیدار تینتیز سالوں کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں، لیکن اس وقت ایران میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور امریکی حملوں کی خوفناک تہذیبوں کا دور رہا ہے جس کے ساتھ یہ بھی پیش آیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی رہنماؤں نے ایران کے معاشی مسائل کا فائدہ اٹھایا، بدامنی کو ہوا دی اور عوام کو احتجاجی مظاہروں کی طرف دھکیلا… یہ سب ایک بڑا سیاسی گیمبلیٹ بن گیا ہے جو ایران کی قیادت کے بارے میں سارے عالمی رہنماؤں کے لیے حیرت اور خطرہ کا باعث بنا ہوا ہے
 
واپس
Top