تہران سے واپس آنے والے پاکستانیوں کو صرف تافتان بارڈر تک پہنچانا ہو گیا، بھالے کیسے؟
کچھ دنوں میں ہی ایران کے شہری وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف سفر کر رہے تھے، سرحد عبور کرنے کے لئے مقرر وقت پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن اب ایک نئا معاملہ پیدا ہو گیا ہے جس سے پاکستانیوں کو ناکام کرنا پڑے گا اور اس میں ان کا سفر ٹٹ گیا ہے۔
پاکستان کی طرف واپس جانے والے ایک نوجوان طالبہ کے نام نہاد پیغام میں ایسا کہا گیا ہے کہ وہ صرف تフトان بارڈر تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ان کے سفر کے خلاف ایک واضح خطاب ہے۔
پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے تہران میں ایکس پر لکھا ہے کہ اس وقت اگر کسی نے بھی زمینی rout سے پاکستان کی طرف سفر کر رہا ہے تو وہ اچانک تفتان بارڈر تک پہنچ جاتا ہے جو ایسا کروانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہیں دیکھتے کہ سرحد پر کیسے پہنچنا پڑتا ہے اور کس طرح پہنچنا چاہیے۔
پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اگر کسی نے بھی زمینی rout سے پاکستان کی طرف سفر کر رہا ہے تو وہ پوری گئیں پریشانی کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس لیے انہیں پہلے سے ہی خود کو تیار رکھنا چاہیے اور ان کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک سرحد پر پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی نے بھی تفتان زہدان بارڈر کے راستے سفر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس میں خواتین اور بچوں کو شامل کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرونی چاہیے۔
مگر یہ کتنا مشکل ہے؟ تھانڈان بارڈر تک پہنچانا صرف کسے بھی واپس آنے والے پاکستانیوں کو لگاتا ہے، اس سے اس کے سفر میں کتنا ٹکرانا پڑتا ہے؟
مگر یہ رہے تھانڈان بارڈر تک پہنچنا کے لئے کس سے پہنچنا چاہیے، اس کو کس طرح جاننا پڑتا ہے؟
اس بارے میں کیا انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ سفر کرنے والے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے یا اس سے ہم نہیں بھاگتے؟
اس بات پر ہی کیا انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ ہمیں سفر کرنے والے لوگوں کو چاہے وہ خواتین یا بچے ہوں، ان کی مدد کرنی چاہیے یا اس سے ہم نہیں بھاگتے؟
اس بات پر ہی کیا انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ ہمیں سفر کرنے والے لوگوں کو اس بارے میں پہلے سے ہی خود کو تیار رکھنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے، یا اس سے ہم نہیں بھاگتے؟
یہ واضح ہے کہ ایران نے ایسے لوگوں کے لیے سفر کرنے کی معزلت کرو دی ہے جو زمینی راستے سے پاکستان جانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ایسا کیا جائے گا اسے کون سمجھتا ہے؟ سفر کی معزلت نہ صرف وطن سے دور لوگوں کو اچانک ہی رکھ دیتی ہے بلکہ انہیں اپنے سفر کے بعد بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔
یہ راز ٹھیک نہیں ہے کہ تہران سے واپس آنے والوں کو صرف پہلے گھنٹوں میں پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ تفتان بارڈر تک کیسے پہنچنا پڑتا ہے اور اس میں کس طرح پہنچنا چاہیں؟ مگر یہ بات تو واضح ہے کہ اس خطے کے لوگ تازہ آئے ہو کر اس سفر سے خوفزدہ ہیں اور انہیں پہلے سے ہی کسی طرح کی تیاری کرنی چاہیں۔
اس بات سے واقف ہوں، ایران اور پاکستان کے مابین سفر کرنے والوں کو تھوڑا سا عرصہ پہلے سے ہی پہنچنا پڑتا تھا، اب تو صرف بارڈر تک بھی جانا مشکل ہورہا ہے؟ یہ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوگا کہ انہیں اچانک ایسا معاملہ پیش آئے جو انہیں ناکام کر جائے؟
عجائب یہ ہے کہ پاکستانیوں کو پہلے سے ہی خود کو تیار رکھنا پڑتا ہے اور اب وہ صرف تفتان بارڈر تک پہنچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور سفر ٹٹ جاتا ہے۔ اس کے بعد کس طرح وہ اپنی گئیں پریشانیوں کا سامنا کریں گے؟
ایک نوجوان طالبہ کو بھی پیغام ملا ہوا ہے کہ اس سے صرف تفتان بارڈر تک پہنچنا ہو گا، یہ اور کیا چاہتے ہیں؟
سفیر کی بھی بات نہ تو صاف تھی اور نہ ہی اس پر بالکل کسر نہیں لگی۔ اس کے بعد کیسے ہو گا جب وہ تمام سرگرمیوں سے خالی ہوجاتے ہیں؟
ارے، یہ کیا ہوا۔ پاکستانیوں کو واپس جانے کی پریشانی میں پھنسنا پڑا۔ تفتان بارڈر تک پہنچانا صرف ناکام کرنا ہی نہیں بلکہ سفر کی پوری کامیابی کو ٹٹ دیتی ہے۔ اور اس میں کیسے پہنچنا پڑتا ہے؟ ابھی تو وہ زمینی راستے سے بھی سرحد عبور کرنے لگتے تھے، لیکن اب ایسا کروانا مشکل نہیں ہو گیا۔ اور اچانک تفتان بارڈر تک پہنچنا بھی؟ یہ تو بھالے ہوا ہے۔ پوری سفر کی کامیابی میں صرف ایک ٹوئٹ کے بعد پورا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے پاکستانیوں کو بھی ناکام کرنا پڑ گیا ہے، اور یہ ان کی سفر کی طاقت کو دیکھنے کے لئے ایک بد Example ہی ہے۔
تم جو سب سے پہلے سرحد پر پہنچتا ہو وہی دوسرے کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس نے اسے پہلے سے خود تم نے جانا چاہیے تو آپ کو بھی یہ معلوم ہو گا کہ تم کیا کر رہے ہو...
اس معاملے سے ہر کیا ہوا ہے؟ تھوڑا سا پچاس سال قبل ہوا وہیں مگر اس میں بھی کوئی نئی چیز نہیں ہوئی تو کیونکہ جس بات کے بھی ایران بے عادت ہو رہا ہے۔
اب وہ لوگ جو اپنے گھروں سے باہر گئے تھے وہ ٹیکسٹ کے ذریعے تفتان بارڈر تک پہنچ سکتے ہیں مگر اس میں بھی یہ بات کوئی نے نہیں سمجھی کہ وہاں کیسے پہنچنا چاہیں اور اس کے لیے کتنی پریشانی کی ضرورت ہو گی۔
اس معاملے سے ان لوگوں کو بھی تعلیم ملنی چاہئیے جو ٹیکسٹ کے ذریعے سفر کر رہے ہیں اور انہیں اپنے سفر کے لیے تیار رکھنا چاہئیے تاکہ وہ کچھ پریشانیوں سے ناخوشی۔
میری خلاصتی یہ ہے کہ تہران سے واپس آنے والوں کو صرف تافتان بارڈر تک پہنچانا بہت مشکل ہوگا، اس میں بھی ناکام رہنا اور سفر ٹٹنا پکہرا گا۔ ابھی کچھ دنوں میں ہیIran میں شہریوں کو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن اب وہ لوگ جو تفتان بارڈر تک پہنچنا چاہتے ہیں انہیں اچانک پہنچنا مشکل ہوگا۔ کس طرح یہ سفر کرنا چاہیں؟
یہ واضح ہے کہ ایران نے اپنے سرحد پر ایک نئی رواداری کی پالیسی کھڑی کر دی ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا جس سے پاکستانیوں کو اس پہلی سرحد تک پہنچانا پڑتا تھا۔ لیکن اب جو کہیں بھی ہو رہا ہے، وہ واضح اور زیادہ ترادمی ہے۔ مگر یہ بات ایک بار پھر تھی کہ ایران نے اپنے ساتھیوں کو اٹھانے میں ناکامی ہوئی ہے، جو اب واضح ہے۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہنگامی صورتحال میں ناکام رہنا بھی بے اعتبار ہوگیا ہے۔ توفان بارڈر تک پہنچانے کا یہ فیصلہ ایک نوجوان طالبہ کی جانب سے دھمکی میں تبدیل ہوا ہے اور اس پر پاکستان سفارت خانہ کی انصاف طلبی کر رہا ہے۔ یہ بھی انسaf واقف نہیں کہ سرحدوں پر پہنچنے سے قبل آپ کیسے تیار رہنا چاہیے اور اس میں کس طرح مدد لینا ہوگا۔
اس نئے معاملے سے باپ بھات پوسٹ کی گئی تھی اور اب ہو رہا ہے کہ پاکستانیوں کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچانا پڑ رہا ہے؟ یہ تو سڑک کی نئی منصوبہ بندی پر دیکھنا ہو گا، اس کے بغیر کیسے چل سکتے ہیں? اور ان لوگوں کو کس طرح تیار رکھا جائے گا جو زمین پر سفر کر رہے ہیں؟ یہ تو ایک نئی سرچیلو بھی بننا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ وہ لوگ جنہوں نے زمین پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کی پوری سفر کرتار میں کسی نوعیت کا چیلنج شامل ہونے لگتا ہے۔
اس بات پر مجھے یہ لگتا ہے کہ ایران کے نئے فیصلے سے بھارت کی طرح پاکستان کو ایک بڑی تنگی پہنچائی جا رہی ہے۔ آج تک یہ بات سامان ہو چکی ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف بارڈر تک پہنچا دیا جاتا ہے اور اس بعد کے سفر کی بھی قیمتی معلومات نہیں ملا سکتے۔ یہ تو وہی بات ہے جس پر امریکی اور برطانوی سفیروں نے کہا تھا ہو گا، مگر اب پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کی طرف سے بھی اس طرح کا مطلع آگیا ہے۔ اور انہوں نے اس بات پر یقین دیا ہے کہ اگر کسی نے بھی زمین کے راستے سے پاکستان کی طرف سفر کر رہا ہے تو وہ ایسا کروایا نہیں پائے گا، کیونکہ انہیں سرحد پر پہنچنا پڑتا ہے اور پہنچنے کا راستہ نہیں ملتا ہے۔
اس بات سے مجھے یہ بھی گallebana laga raha hai کہIran کی حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہوگا کہ وہ اپنے شہریوں کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سفر کے بعد کی قیمتی معلومات نہیں مل سکیں گی، مگر ایسا بھی ہوا تو وہ لوگ جو زمینی راستے سےPakistan کی طرف جاتے ہیں ان کا سفر ٹٹ جائے گا اور ان کو ایک نئی تنگی پہنچائی جاے گا۔ یہ ایک بڑا معاملہ ہے جو ایران کی حکومت کے لیے بھی ہوگا، مگر میں اسے سمجھ نہیں سکتا کہ اس سے پاکستان کو ایک واضح خطاب مل گیا گا اور انہیں اپنے سفر کے خلاف ایک واضح خطاب دیا جائے گا۔
اس بات پر مجھے یہ لگتا ہے کہ ایران کی حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہوگا کہ وہ اپنے شہریوں کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سفر کے بعد کی قیمتی معلومات نہیں مل سکیں گی، مگر اس سے یہ بھی بات سامان ہو چکی ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف بارڈر تک پہنچا دیا جائے گا اور اس بعد کے سفر کی بھی قیمتی معلومات نہیں ملا سکتے۔ یہ تو وہی بات ہے جس پر امریکی اور برطانوی سفیروں نے کہا تھا ہو گا، مگر اب پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کی طرف سے بھی اس طرح کا مطلع آگیا ہے۔
اس بات پر مجھے یہ لگتا ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سفر کے بعد کی قیمتی معلومات نہیں مل سکیں گی، مگر اس سے یہ بھی بات سامان ہو چکی ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف بارڈر تک پہنچا دیا جائے گا اور اس بعد کے سفر کی بھی قیمتی معلومات نہیں ملا سکتے۔
اس بات پر مجھے یہ لگتا ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سفر کے بعد کی قیمتی معلومات نہیں مل سکیں گی، مگر اس سے یہ بھی بات سامان ہو چکی ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف بارڈر تک پہنچا دیا جائے گا اور اس بعد کے سفر کی بھی قیمتی معلومات نہیں ملا سکتے۔
اس بات پر مجھے یہ لگتا ہے کہ ایران میں سفر کرنے والے وہ لوگ جو زمینی راستے سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ان کو صرف تفتان بارڈر تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سفر