امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اعلان جاری کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو امریکا سے تجارت پر 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے اعلان میں کہا ہے کہ اگر کoi ملک ایران کے ساتھ کاروبار کر رہا ہو تو وہ امریکہ کے ساتھ تمام کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا۔ یہ حکم حتمی اور آخری ہے، اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!
امریکی صدر نے اعلان میں ایسے ملکوں کی طرف اشارہ کیا جو ایران سے کاروبار کر رہے ہیں، جیسے کویت ، امارات ، بھارت اور سعودی عرب ۔
ایران میں معاشی صورت حال کے خلاف مظاہروں پر امریکی صدر نے ہرہرہ لگایا ہے اور اس سے پہلے بھی انہوں نے ایران کے خلاف تہران کو دھمکی دی ہے۔
امریکی ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے اعلان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ایک آخری فیصلہ سمجھا جاتا ہے اور اس سے پہلے کوئی آپشن نہیں تھا۔
امریکی صدر کی یہ announcement ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو 25 فیصد ٹیرف ادا کرنے پر مجبور کرنی گئی ہے، جس سے آپ کے کاروبار میں نقصان ہو سکتا ہے۔
amerika ko iran se karobaar karte hue deshon ko 25% teraaf ada karna pade gya ? yeh kaisa faisla hai? America apne carobaar ke liye iran se bahut behtar deal karsakti thi, ab wo aam logon ko bhi nuksaan pahunchaya hai. Koi baat toh ye teraaf america ki khud ki loss nahi hai.
امریکی صدر کی یہ announcment بہت خطرناک ہے، ملک پر ایسے حکم ہونے سے قبل ہی پہلے کا کوئی آپشن نہیں تھا؟ اس سے پہلے بھی انہوں نے ایران کے خلاف تہران کو دھمکی دی ہے، اب وہ ان مظاہروں پر ہرہرہ لگا رہے ہیں؟ یہ ایک بڑی ناقصٹ decicion ہے جو ملکوں کو ٹھیک سے سمجھنے میں تنگ آئی گئی ہے، ابھی انہوں نے کوریت ، امارات ، بھارت اور سعودی عرب جیسے ملکوں کی طرف اشارہ کیا ہے؟
اس announcement کے پیچھے کی story کہیں؟ Iran کے ساتھ carobar karne wale deshon ko kaise pata chala ki america se terf 25% karna padega? Koi baat nahi, America hi apni market mein aik aag nahi lagai, balki Iran ne apni politics mein aik aag lagai!
یہ ایک خوفناک خبر ہے کہ اب اگر آپ Iran se business karte ho to aapko America se trade par 25% tariff ka samna karna padega . Lekin yeh faisla bilkul behtar nahi hai, kya aapke carobar mein fayda hogi?
Ameriki sadr ne Iran ke saath business karte huye deshon ko 25% tariff ka samna karna padega, yeh ek aisi galti hai jis se apne carobar ko nuksaan pahunch sakta hai. Lekin mera khayal hai ki isse Pakistan ko fayda hogi
ایسا نہیں ہوگا کہ ان ملکوں کو صرف ایک چھٹی بھی کرنی پڑگی، ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں میں سے کسی بھی ملک کی ایک بڑی تجارت ہوگئی ہے۔ وہاں تک کہ کوریتھ کویت کے ساتھ بیس لاکھ ملازمت پہنچ گئی ہیں تو یہ کیسے سچا ہوگا؟
امریکی صدر کی یہ announcement ایک بھی بات نہیں جو ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو منفی دیکھنے والوں کو خوش نہیں ہوگی ، مگر اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو محدود کرنا اور ایسے ملکوں پر زور دینا جو ایران کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، اس سے ان ملکوں کے لیے وہ اپنے معاشی تعلقات کو بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہیں
مگر امریکی صدر نے یہ announcement کیا تو اس کے پیچھے ایک وجہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران میں اب معاشی صورتحال کسے دیکھنی پڑ رہی ہے، اور اگر امریکا نے اس صورتحال کو حل کرنا شروع کیا تو یہ announcement ایک بدلنے والے دور کی پہلی ہو سکیگی
مگر دوسری طرف، اگر ان ملکوں میں سے کسی نے بھی اس announcement کو مندرجہ میں چھوڑا تو وہ اپنے معاشی تعلقات کے لیے ایک خطرہ کا سامنا کر رہے ہوں گے ، اور یہ announcement ان ملکوں کو ایسے کاروبار سے دور ہونے پر مجبور کر دے گی جو ایران سے تعلقات نہیں رکھتے ہیں۔
मیری نظر میں یہ announcement واضح تھی کہ امریکا ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں پر مجبور کر رہا ہے۔ اس کے پچھلے اعلان کی طرح یہ بھی ایک تنگنا ہے جس سے ان ملکوں کے کاروبار میں نقصان ہوگا
اس announcement پر میرا خیال یہ ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ اپنا معاشرے دیکھ رہا ہے اور اس لیے وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں پر مجبور کر رہا ہے۔
میری توجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے کاروباری ادارے اپنی کار obat karein اور اس announcement کی وجہ سے نقصان محسوس کریں گے
امریکی صدر کی یہ announcement ایک اہم تحریک نے شروع کر دی ہوئی ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس سے یہ معاملہ مزید تیز ہو جائے گا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو اپنا کیردرہ بہم بھرنا پڑے گا۔ یہ announcement Iran کے خلاف Amrika ki policy ka ek اہم حصہ ہے، جس سےIran میں معاشی صورت حال کے خلاف Mazaahroon par Amrika ki reactions mil rahi hain.
ایسا محض سوچنا کہ ایران کے ساتھ کبھی کوئی ملک ایسا معاملہ نہیں کرسکتا، ابھی بھی ان ملکوں میں سے کوئی بھی اپنے کاروبار کے لیے ہمیشہ ٹیرف دینے پر تیار نہیں ہوتا؟
یہ اعلان بھی وہی نچوٹی بات ہے جو امریکا پہلے کیے گئے اعلان کے بعد ہے، تاکہ Iran سے اپنی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں! ٹرمپ نے 25 فیصد ٹیرف نہیں دیا، بلکہ ایسی ملکوں کو مجبور کر دیا ہے جو Iran سے کاروبار کر رہے ہیں، اور کیا یہ بھی وہی تصور تھا کہ امریکا اپنی تجارت پر کنٹرول حاصل کر سکتی ہے!
ایران کی معاشی صورتحال ایسے ہی ہے جیسا اس نے بڑھائی ہوئی، اور اب یہ وہی بات ہے کہ ملک کے اندر معاشی دھچکہ لگایا جائے!
امریکی ہاؤس کی پریس سکریٹری نے بھی اپنی بات کیا، لیکن اس کے بعد یہ کہنا کہ اس اعلان کو ایک آخری فیصلہ سمجھا جاتا ہے، تو ایسا اچھا نہیں لگ رہا!
ایسے اعلانات کی وجہ سے ملکوں کے کاروبار میں نقصان ہوتا ہے، اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو یہ بھی پتہ چلا ہوگا کہ امریکا کی تجارت پر وہ جتنے دیر تک زور نہیں دیتا!
تو کیا یہ اچھا حل تھا؟ کہ ملک کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کو پریشان کرنا!
مریخ پر رکھے گئے ٹوریزٹر کے پیروں میں سے ایک کون سیٹلائٹ نہیں پائی جا سکتی ہوں کے؟ اور یہ تو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں پر ٹیرف لگا دینا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ میٹرولائی ان 25 فیصد ٹیرف کا کس طرح لین گے؟
امریکی صدر کی یہ announcement توڑتھ سوشل پر ایک بڑا ایڈز جسٹیج رچایا ہے، اب ان ملکوں کو جو ایران کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں وہ 25 فیصد ٹیرف ادا کرنے پائے گئے ہیں... اس کی وجہ بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے مگر امریکی صدر کو اس پر اچھا جواب دینا ہوگا...
ایران میں معاشی صورت حال اس لی کہیں بھی ہے، پہلے ملک کی حکومت کو وہیں سے پیداوار نہیں کر رہی اور ان کی معیشت میں نقصان ہو رہا ہے... لگتا ہے ہر ملک کو اپنی معیشتی صورت حال کا احاطہ کرنا پڑے گا...
یہ اعلان بھرام ہوا! امریکی صدر نے ایران کے ساتھ کس طرح کارोबاری ملکوں پر زور دیا ہے؟ کویت ، امارات اور سعودی عرب وغیرہ میں آزاد تجارت کی کیا نہیں گئی!
ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کو 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا پڑے گا؟ یہ تو اسے کس طرح آسانی میں ہونے دوئے گی؟ وہ اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی، بلاشک اور بھرام!
میری opinion میں ایران سے کس طرح کاروبار کرنے والوں کا کوئی نقصان ہونے دوئے گا؟ وہ اپنے ملکوں کے تحفظ کے لئے کیا کرتے ہیں، ان کی کاروبار میں نقصان ہونے کو یقینی بنایا جائے گا؟
امریکی صدر نے حتمی اور آخری حکم دیا ہے؟ یہ تو اس کے لئے بھرام ہی ہے!
America ki government Iran ke saath business karte samay kuch nai rules bana rahi hai . Iranian market mein tension badhegi, aur international trade par bhi impact padega.
Koit kuch businesses Iran se nahi karte, to usse kya benefit hoga? Unki company ki khareedari kam kar degi, aur dollar ko losing karenge . Lekin America ke government ke pas baat yeh hai, kaisa sahi decision lene ka matlab?
Mujhe lagta hai ki Iran mein ek market ya khazana nahin hai jo America ko loss nahi de sakta . Kyunki Iranian companies mere imports aur exports par bhi reliance rakhti hai, to usse ek badhaav se kya hoga?
اس announcement ko dekhte hi mujhe lagta hai ki ye america ke president se kuch galat soch di gayi hai. 25% terfe adai karne se kya faayda hota hai? Iran ke saath business karne wale deshon ko terfe adaya karna ek aam duniya ka mudda nahi hota, isse unka business bhi nuksaan ho sakta hai.
ایسے فیصلے کیے جانے والے شخص کو توہمہ کرتے ہیں؟Iran کے ساتھ کاروبار کرنے والوں پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا بہت مشکل ہو گا! Carobari mein behtareef kyun nahin?
ایک بار پھر آمریکی صدر نے آپنا تعاطف نہیں کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے . ایران سے کاروبار کرنے والے ملکوں کو 25 فیصد ٹیرف ادا کرنے پر مجبور کرنا، یہ بہت چیلنجنگ ہوگا اور کئی ملک کے لیے ایک بڑی Economic Risk ہوگا!
میتھود کو دیکھتے ہوئے یہ پتا لگتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے خلاف دھمکی دینا چاہتے ہیں اور ان کی وضاحت میں بھی کوئی Logical Reason نہیں دی گئی!
ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ ایک Political Move ہے، جو ایران سے کاروبار کرنے والے ملکوں کو تنگ کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح ان کی Trade Relations کو Negative Impact دینا چاہتے ہیں!
اس کے علاوہ یہ بھی ایک Question ہے کہ ایران میں معاشی صورتحال کیسے ہونگی اور آپ کا فیصلہ کیسے ہونا چاہیے!