ترکیہ نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے، اس سے قبل ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ Iran ایران کے اندرونی مسائل کو بیرونی مداخلت کے بغیر حل کرلیں گے۔
ترکیہ کی اس پالیسی کی تعمیل سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے اور اسرائیل نے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی حملہ کرنے پر آمادہ کیا ہے، اس سے صورتحال بدل جائے گی اور انصاف پہچانے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔
ترکیہ کی حکومت نے اسرائیل کو اپنی عدم استحکام کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی ایک واضھے معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے، جس سے اس سے انصاف اور امن کا راستہ ہوسکے گا۔
ان Iranian وزیر خارجہ عباس عراقچی نےTurkey کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیر خارجہ حاقان فیدان کا شکریہ دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جنگیں شروع کرنے کی خواہش ختم نہیں ہوتی اور Iran مذاکراتی ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کا پروگرام اہل و عاقل ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر Iran پر حملے کی جسارت کی گئی تو ہم بھرپور جواب دیں گے، اور Amraca کو Iran پر حملے میں شامل ہونے سے قبل واضح طور پر انصاف کے راستے پر رہنا چاہیے۔
ترکیہ کی اس پالیسی کی تعمیل سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے اور اسرائیل نے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی حملہ کرنے پر آمادہ کیا ہے، اس سے صورتحال بدل جائے گی اور انصاف پہچانے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔
ترکیہ کی حکومت نے اسرائیل کو اپنی عدم استحکام کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی ایک واضھے معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے، جس سے اس سے انصاف اور امن کا راستہ ہوسکے گا۔
ان Iranian وزیر خارجہ عباس عراقچی نےTurkey کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیر خارجہ حاقان فیدان کا شکریہ دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جنگیں شروع کرنے کی خواہش ختم نہیں ہوتی اور Iran مذاکراتی ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کا پروگرام اہل و عاقل ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر Iran پر حملے کی جسارت کی گئی تو ہم بھرپور جواب دیں گے، اور Amraca کو Iran پر حملے میں شامل ہونے سے قبل واضح طور پر انصاف کے راستے پر رہنا چاہیے۔