پی ایس ایل کی future کیا ہوگا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی عزم ظاہر کی ہیں کہ پی ایس ایل کو دنیا کا بڑا برانڈ بنایا جائے گا، اس سے قبل یہ ٹیم ابھی ڈھائی ارب روپے میں خریدی گئی تھی۔
پی ایس ایل کی مارکیٹ کو مزید وسعت دینا ہمارا ہدف ہے، چیئرمین پی سی بی نے کہا ہے جو پچاس سالوں سے لڑائی دے رہے ہیں اس پر اب وہ اپنی اور اس کی اہمیت کو دیکھ رہے ہیں۔
چینز پریمیئر لیگ سے ملنے والے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، کہا جاسکتا ہے اس کے بعد چیئرمین پی سی بی نے پچاس سالوں کی لڑائی کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ جب بھی کھلاڑی نئے ڈھونگے آتے ہیں تو وہ ٹیم کا اہتمام کر رہے ہیں، اس سے پہلے بھی انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایس ایل کی اہمیت کو دیکھنا شروع کیا گئا۔
کیا یہ صرف ایک دباؤ کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے، نہیں چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس پر ان کو یہ کہنا پڑ رہا تھا کہ یہ ڈھائی ارب روپے میں خریدی گئی ہے لیکن اب انہوں نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے بھی کئی ٹیموں کو یہی قیمت دی گئی تھی، چناں چہتنیں۔
چینز پی سی ایل کی اہمیت کو دیکھ کر انہوں نے بتایا ہے کہ یہ دنیا بھر میں ہونے والی کھیلوں کے لیے ایک اہم معاملہ بن رہے ہیں، اس سے پہلے ہی نے بتایا تھا کہ اس سے پی ایس ایل کی مارکیٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور وہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل کر رہے ہیں۔
کیا یہ پچاس سالوں کی لڑائی کا آخری بلا ہو گیا؟ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اس میں ایک اور قدم رکھنے پر تیار ہیں، یہاں تک کہ ہندوستان سے بھی تعاون ملتا ہے اور پچاس سالوں کی لڑائی میں وہ اپنی اہمیت کو دیکھ رہے ہیں اور اب انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایس ایل کو دنیا کا سب سے بڑا برانڈ بنایا جائے گا۔
پی ایس ایل کی مارکیٹ کو مزید وسعت دینا ہمارا ہدف ہے، چیئرمین پی سی بی نے کہا ہے جو پچاس سالوں سے لڑائی دے رہے ہیں اس پر اب وہ اپنی اور اس کی اہمیت کو دیکھ رہے ہیں۔
چینز پریمیئر لیگ سے ملنے والے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، کہا جاسکتا ہے اس کے بعد چیئرمین پی سی بی نے پچاس سالوں کی لڑائی کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ جب بھی کھلاڑی نئے ڈھونگے آتے ہیں تو وہ ٹیم کا اہتمام کر رہے ہیں، اس سے پہلے بھی انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایس ایل کی اہمیت کو دیکھنا شروع کیا گئا۔
کیا یہ صرف ایک دباؤ کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے، نہیں چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس پر ان کو یہ کہنا پڑ رہا تھا کہ یہ ڈھائی ارب روپے میں خریدی گئی ہے لیکن اب انہوں نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے بھی کئی ٹیموں کو یہی قیمت دی گئی تھی، چناں چہتنیں۔
چینز پی سی ایل کی اہمیت کو دیکھ کر انہوں نے بتایا ہے کہ یہ دنیا بھر میں ہونے والی کھیلوں کے لیے ایک اہم معاملہ بن رہے ہیں، اس سے پہلے ہی نے بتایا تھا کہ اس سے پی ایس ایل کی مارکیٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور وہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل کر رہے ہیں۔
کیا یہ پچاس سالوں کی لڑائی کا آخری بلا ہو گیا؟ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اس میں ایک اور قدم رکھنے پر تیار ہیں، یہاں تک کہ ہندوستان سے بھی تعاون ملتا ہے اور پچاس سالوں کی لڑائی میں وہ اپنی اہمیت کو دیکھ رہے ہیں اور اب انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایس ایل کو دنیا کا سب سے بڑا برانڈ بنایا جائے گا۔