وزیر دفاع خواجہ آصف نے حکومت سے مذاکرات میں بات کرتے ہوئے کہا، پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدگی کو لینا مشکل ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے چار پانچ زبانیں بولتی ہیں اور اسے سمجھنا بھی مشکل ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت مذاکرات میں سنجیدگی کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن پی ٹی آئی کی نیت بھی کچھ مختلف ہے، وہ اپنی اسپیس کو قائم کرنے کے لیے بیٹھ رہے ہیں اور وہ سب سے پہلے اپنی زبانوں میں بات کرتے ہیں، انگلش، پنجابی اور اردو۔
جب لوگ باہر بیٹھتے ہیں تو ان کی زبان کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، جس لیے ایک پہلے وہ اپنی زبانوں میں بات کرنا شروع کرتے ہیں اور بعد میں ان کی زبان کو سمجھنے کا کوشش کرتے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کی مرضی سے کتنے لوگوں پر بولتے ہیں اور باہر بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں، یہ سب ایک حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے جس سے وہ اپنی نیت کو ظاہر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
جیسے جیسے مذاکرات ہوسکتے ہیں پی ٹی آئی کی نیت بھی ظاہر ہوتی چلیگی، یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدگی کے لیے کس عزم کے ساتھ آئے ہیں یا یہ صرف ان کی نیت کا فutor ہے جس کے تحت وہ اپنی اسپیس کو قائم کرنے کے لیے بیٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کیGovernment اس بات سے متفق نہیں ہو سکتی، وہ بھی اپنی نیت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور یہ سب ایک تاش کی بازی ہوسکتی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کھیل رہی ہیں، ان سارے مل کر اپنی نیت کو ظاہر کرنے اور مذاکرات کا نتیجہ ملانے کے لیے ایک ہی ہدف پر متفق ہوسکتی ہیں۔
جب لوگ باہر بیٹھتے ہیں تو ان کی زبان کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، جس لیے ایک پہلے وہ اپنی زبانوں میں بات کرنا شروع کرتے ہیں اور بعد میں ان کی زبان کو سمجھنے کا کوشش کرتے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کی مرضی سے کتنے لوگوں پر بولتے ہیں اور باہر بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں، یہ سب ایک حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے جس سے وہ اپنی نیت کو ظاہر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
جیسے جیسے مذاکرات ہوسکتے ہیں پی ٹی آئی کی نیت بھی ظاہر ہوتی چلیگی، یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدگی کے لیے کس عزم کے ساتھ آئے ہیں یا یہ صرف ان کی نیت کا فutor ہے جس کے تحت وہ اپنی اسپیس کو قائم کرنے کے لیے بیٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کیGovernment اس بات سے متفق نہیں ہو سکتی، وہ بھی اپنی نیت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور یہ سب ایک تاش کی بازی ہوسکتی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کھیل رہی ہیں، ان سارے مل کر اپنی نیت کو ظاہر کرنے اور مذاکرات کا نتیجہ ملانے کے لیے ایک ہی ہدف پر متفق ہوسکتی ہیں۔