ایپسٹین کی موت ہونے کے بعد بیانات اور دستاویزات سامنے آئیں ہیں جن سے ان کی سوچ اور مبینہ منصوبوں کے بارے میں سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔
ایپسٹین نے اپنے قریبی افراد سے بتایا تھا کہ وہ نیو میکسیکو کی اپنی وسیع و عریضFarm پر ایک منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا جس میں اس نے عورتوں کو حاملہ کرنے اور اپے خون سے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
اس مبینہ منصوبے کو بچوں کا باڑہ (Baby Ranch) کہا جاتا ہے۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کبھی نافذ ہوا یا نہیں۔
ایپسٹین کی دلچسپی ’ٹرانس ہیومن ازم‘ میں تھی جو ایک نظریہ ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرز فکر میں ماضی کے متنازع اور مسترد شدہ نظریات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ایپسٹین نے اپنے خیالات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کیا تھا لیکن بعد میں اس سے گفتگو کرنے والے لوگ سنجیدگی سے ان کی باتوں کو چیلنج نہیں کیا۔
ایپسٹین نے رسائی حاصل کرنے کے لیے بھاری عطیات، تقریبات اور نجی ملاقاتوں کا سہارا لیا۔ اس کے روابط معروف سائنس دانوں اور دانشوروں تک جا پہنچے جن میں Naturalist Stephen Hawking، Psychologist Steven Pinker اور Genetics expert George Emchir چرچ شامل تھے۔
ایپسٹین کا یہ منصوبہ بہت خوفناک ہے تو اس کی سوالات میں سے کوئی نہیں کہا جاسکتا، اس طرح کی سوالات بنانے والوں کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ایپسٹین کی سوچ سے ہم بھی آگے نکلتے ہیں نہیں اس طرح کی سوالات میں سے کوئی نہیں بناتے ۔
ایپسٹین کا یہ منصوبہ اتنا ہی خوفناک ہے جتنیں اس کی موت ہوئی ہے۔ ان کی سوچ میں ایسے منظر نا کروپت تھے جو دوسرے انسانی ذیلی زمرے کا بھیڑ خیز سائنسی پ्रयاس تھا، یہ سایہ اس طرح ہی ڈال رکھیں جیسا ہمیں وہ دیکھنا پڑے کہ ماضی کے بدترین خیالات نئے نومنظروں میں ابھر کر آئے ہیں۔
ایپسٹین کی موت کے بعد یہ سب کچھ سامنے آ رہا ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ انکی موت سے پورے دنیا میں ایک رات نہیں گزرتی۔ یہ بات تو اچھی ہے کہ اب انکی سوچ اور منصوبوں کے بارے میں کھڑے ہوئے ہیں، لیکن جس لئے ایپسٹین نے اپنے منصوبوں کا مشورہ دیا تھا وہ تو ہمیشہ ایک اچھی بات نہیں ہوتی۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب لوگ انکی سوچ کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور اچھے سے بھی نئی باتوں پر چلنے کو مجروح نہیں ہوتے۔
ایپسٹین کا یہ مبینہ منصوبہ بہت دیر سےSuspense میں ہے، اب تک کوئیProof نہیں ملا ہے۔ تاہم اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ ایپسٹین کی سوچ اور خیالات میں کیا سائنسی اور فکری بنیاد ہیں؟ ان کی دلچسپی ’ٹرانس ہیومن ازم‘ کا کہا جاتا ہے لیکن یہ نظریہ کبھی بھی ٹیسٹ نہیں ہوئی، تو اس کو کوئی بھی तरکہ سچا نہیں کہ سکتا ہے۔
اس حقیقت سے ہم متاثر ہیں کہ ایپسٹین کی سوچوں میں اسے پہنچانے والا منصوبہ کتنے جھوٹے اور خطرناک تھا۔ یہ حقیقت سے ہم لگبھگ نچوڑتے ہیں کہ اسے ان لوگوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا جو اس طرح کی سوچ میں پھوس رہے ہیں اور جسے اس نے اپنے حیات میں اپنی سوچوں کو لازمی کرنے میں ایک طاقت بنائی تھی۔
ایپسٹین کے مبینہ منصوبوں پر یہ بات بہت دکھنپ ہوئی ہے کہ وہ ایک ’ٹرانس ہیومن ازم‘ کی حمایت کرتا تھا جو کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موضوع ہے۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ اس طرز فکر میں ماضی کی متنازع اور مسترد شدہ نظریات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ایپسٹین نے اپنے خیالات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کیا تھا لیکن بعد میں اس سے گفتگو کرنے والے لوگ سنجیدگی سے ان کی باتوں کو چیلنج نہیں کیا۔ یہ بھی سوچنا ہی چاہیے کہ اس طرز فکر میں کیا منصوبے تھے اور وہ کوئی نہ کوئی سطوح پر اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ ایپسٹین کا کیس دیکھتے ہیں تو میرے ذہن میں سب سے پہلایے یہ کہ اس کے منصوبوں کے بارے میں کیا تھا، یہ رہتے ہیں کہ وہ خواتین کو حاملہ کرنے اور اپے خون سے ایک نئی نسل تیار کرنا چاہتا تھا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت موجود ہی نہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ ایپسٹین کی دلچسپی ’ٹرانس ہیومن ازم‘ میں تھی جو سائنس اور ٹیکنالوجی سے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دی جاتا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرز فکر میں ماضی کے متنازع اور مسترد شدہ نظریات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
ایپسٹین کی ایسا سا منصوبہ ہوتا تو کیا بچوں پر قابو پانے کے لیے انہی لوگوں کو موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا? اگر وہ اس طرح کی کوششوں میں رکھتے تو یہ سب کچھ واضح ہوتا اور اس میں کوئی حیرانی پہنچان نہیں کیا جاتا
اس بات کو سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایپسٹین نے اپنے خیالات کو اچھی طرح ظاہر کیئے یا نہیں۔ وہ اپنی سوچ سے پوچھنے والے لوگوں پر زیادہ فخر کرتا تھا، لیکن اس کے عمل میں سنجیدگی کے بجائے انہیں ایک ایسا شخص سمجھنا چاہیے جس نے اپنی سوچ کو عالمی سطح پر پہنچانا چاہا تھا۔ وہ اس بات پر یقین کرتا تھا کہ وہ سائنس کی دنیا میں ایک ایسے شخص بن سکتا ہے جس نے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے اسکالر شپ اور عطیات کی مدد حاصل کی تھی۔ لेकن وہ اس بات پر یقین کرنے میں بہت غلط تھا کہ ایسا نافذ ہوا گا۔
ایپسٹین کا یہ منصوبہ جو اس نے اپنی فیملی پ्लیننگ اور نسل کوں کی پالیسیوں میں پیش کیا تھا وہ ایک بے حیرانی کن بات ہے۔ میرا خیال ہے اس پر سنجیدگی سے بات چیت کی جا سکتی تھی۔ اگر انہوں نے اپنے خیالات کو یوں سامنے لایا تو اس کے پچیس سال بعد لوگ اسے بہت واضح سے سمجھ رہے ہیں اور ان کی سوچ کو منزلیں دے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایپسٹین نے اپنے جانب سے بھاری عطیات پر کام کرنا چاہا تھا جس کی وجہ سے لوگ اسے پوری اور فیکٹری میں سمجھ رہے ہیں۔
اس بات پر کھیلا ہے کہ ایپسٹین نے اس منصوبے کی تکریب ایسا کر دی کہ اب تو لگتا ہے وہ اس کے بارے میں جاننے میں تھک گیا ہوں۔ اور یہ بات بھی ناقدین کے لئے ایک مسئلہ ہے کہ وہ لوگ جسے اس منصوبے کی توجہ دی تھی، انہوں نے سوچا کہ وہ بہت اچھا شخص ہے، لیکن اب وہ لوگ ایک مختلف ذریعہ سے بات کرنے لگے ہیں۔
ایپسٹین کا یہ منصوبہ بہت خطرناک لگتا ہے… اس نے عورتوں کو حاملہ کرنے اور خون سے ’اعلیٰ نسل‘ بنانے کا مشورہ دیا تھا، یہ تو بہت گھृں ہے… اب وہ موت ہو گئے تو اس میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ پوری نہیں ہیں، کیونکہ اس کا منصوبہ بھی جیسا کہ کہہ دیا گیا تھا یہ عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا اور اب اس کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں…
ہمیشہ سے یہ بات معلوم ہی تھی کہ ایپسٹین کی سوچ میں کچھ غیر عادی پہلو تھے، لیکن اب اس کے ذہن کی جگہ ووڈز آف ترانس ہیومن ازم میں لگی ہوئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ مندرجہ ذیل سوالات سے بھرپور تھا کہ کیا انسانی صلاحیتوں کو ترقی دی جا سکتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں میں بدلتے رہنا چاہئے؟
لگتا ہے اس بات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ ایپسٹین نے اپنے خیالات کو چیلنج کرنے والوں سے بات نہیں کی اور ان کی سوچ کو مسترد ہونے پر اس کے لئے کسی بھی شعبہ میں بھی تنقید نہیں کی گئی۔
ایپسٹین کا ایسا منصوبہ جو اب سامنے آیا ہے وہ بھی تو کبھی کبھار ناتھیہت ہوتا ہے. انھوں نے عورتوں کو حاملہ کرنے اور اپے خون سے ایک 'اعلیٰ نسل' تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا، یہ تو واضح ہے انھیں انسانی جینت کو بہتر بنانے کی توجہ سے محروم نہیں رہا. لیکن یہ بات کچھ حقیقتوں پر مشتمل ہے کہ ایپسٹین نے اپنے خیالات کو بہتر بنانے کی کوشش میں جہل اور دھوکہ سے کام کیا.