کیئر اسٹارمر کا ایپستین اسکینڈل کے بعد برطانیہ میں وغیرہ، پہلی مسلمان وزیر اعظم کے لیے سٹی لگنا شروع ہو گئی ہے۔
ان کی بیرونی دنیا کا یہ معاملہ سیاسی بحران کے اندر بھی داخل ہو گیا ہے جس نے برطانیہ میں بڑی ہلچل پیدا کی ہے۔
ایپستین اسکینڈل سے متعلق ایسے فائلز جس سے یہ معاملہ پیدا ہوا تھا، کبھی کبھار منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور اب وہاں بھی ان کی موجودگی محسوس ہو رہی ہے۔
اس میں پٹر مینڈیلسن کی جانب سے لیبر پارٹی کے پاور اسٹرکچر میں واپسی بھی شامل ہے جو آج تک Politics کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔
لیکن یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیئر اسٹارمر کے فیصلے کی وجہ سے ان پر دباؤ اور عوامی غضب بڑھتا ہے یا وہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے? اور اس میں پٹر مینڈیلسن کا کردار کیا ہو گا?
انہیں اپنے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا رہا ہے، کیونکہ یہ ایک دوسرے سے منسلک ہے۔
اسٹارمر کا یہ فیصلہ ان کی جانشینی کے حوالے سے politics میںDiscussion شروع کر دیا ہے اور اس میں ایسے نام بھی شامل ہو گئے ہیں جن کو Politics کی دنیا میں ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں۔
ان میں سے ایک شبانہ محمود کی بھی بات ہو رہی ہے جوPolitics کے دنیا میں ایک نام ہے، اور وہ برطانوی وزیر داخلہ کی حیثیت سے ایک انتہائی مشکل وزارت سنبھالتے ہیں۔
شبانہ محمود کو Politics کے دنیا میں ایک سنجیدہ سیاست دان سمجھا جاتا ہے، جو اپنی سیاست کو کسی خاص شناخت یا مذہب سے نہیں جوڑتیں۔
ان کی بات یہ بھی ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے تمام دھڑوں کے لیے قابل قبول سمجھی جاتی ہیں، اور وہ کسی بھی قسم کے تنازع یا اسکینڈل سے پاک رہتی ہیں۔
اس لیے شibanہ محمود کو ایک سنجیدہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جوPolitics کی دنیا میں ایک نام ہے۔
یہ واضح ہے کہ شبانہ محمود کو اپنی منصوبوں کی وجہ سے لوگ دباؤ اور غضب سے دوچار کرتے ہیں، لیکن وہ ایک بھرپور سیاست دان ہیں جو کچھ نئے لایا کرتی ہیں اور اپنے عمل میں ایسی باتوں کو شامل کرتی ہیں جو عوام کے لیے مفید لگتی ہیں۔
اسٹارمر کی جانشینی کی وجہ سے Politics میں Discussion شروع ہوئی ہے اور وہ لوگ جن کوPolitics کا دنیا بھی جانتے ہیں ان کا نام شامل ہو گئے ہیں، اس لیے یہ معاملہ Politics کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
ایپستین اسکینڈل کے بعد کیریئر اسٹارمر کو اس سے متعلق فائلز دیکھ کر پوچھا جاتا رہا ہے کہ ان کی جانب سے یہ فیصلہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے تھا یا اسکینڈل کے بعد کو تھا؟
نہیں تو وہ آئندہ ہفتے ایک بار پھر ایسے معاملات میں شामिल ہو گئے ہیں جس سے عوام میں غضب بڑھتا ہے اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان لگا دیا جاتا رہا ہے۔
اس لیے یہ सवال اس پر ان کی جانب سے ہی نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے ایسے معاملات میں شामिल ہوتے ہیں یا ان کے فیصلے کی وجہ سے، نہیں تو وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان لگا دیا جاتا رہا ہے!
کیئر اسٹارمر کو یہ بہت مشکل وقت مل گیا ہے، اور ان کی جانشینی کے حوالے سے politics میں Discussion شروع کر دی جائیگی تو وہی تو لگتا ہے کہ اس نے اپنی کارکردگی کی وجہ سے دباؤ اور عوامی غضب کو بڑھایا ہے۔ لیکن پٹر مینڈیلسن کی جانب سے لیبر پارٹی کے Power Structure میں واپسی ایک اہم بات ہے جو politics کی دنیا میں بھی نظر آئی ہو گی، تو یہ سب کچھ politics ki world mein ek alag cheez ہے جس کو لگتا ہے کہ ان پرPolitics ki world mein kuchh galat hai kar diya gaya hai
apne vikas ke lie shayad iske liye zaroorat hoti hai, lekin yeh baat sach hai ki kya fir bhi usse bura kyu kiya jata hai? main sochta hoon ki shayad ismein pita mandelsen ki wajah se koi aasani nahi hai. unka return to power Labour party ka ek bahut mahan event tha, aur yeh unki khaamiyon ko darshata hai.
lakin bas iske liye zaroorat hoti hai ki apne faisle ke baad apni khaamion ko samajhna aur uss par aage badhana. main sochta hoon ki shayad yeh to koi achchi baat hai, kyunki aap sabhi ke liye ek achha uddeshya hai.
یہ بھی یہی رہ گیا ہے، کیئر اسٹارمر کے فیصلوں سے برطانیہ میں politics میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور شبانہ محمود کو اپنی جانشینی کے لئے دیکھا جاتا ہے، لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ وہPolitics کی دنیا میں ایسے نام رکھنے والی شخصیات کو کتنی چیلنجز کا سامنا کرے گئی ہو گی، اور politics میں کتنے difficulties آئے گئے ہوں گے ان پر...
سٹارمر کی اس صورتحال نے Politics کی دنیا کو بھر سے اچھی طرح متاثر کر دیا ہے
اس کے بعد Politics میں Discussion شروع ہو گئی ہے، اس کا اہمیت ایک politics mein Jo logon ka naam hota hai jinhone politics ki duniya ko samajhne ki koshish ki hai
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہی Politics mein Jo log bhi hotay hain jo apni political party ke liye apna khud ka vikas karte hain aur apne dharma ki raksha karte hain unki koshish kar sakte hain politics mein achha kadam utha sakte hain
لیکن Politics ke jahaan sabhi logon ko apni political party ke liye naye career paths chune hote hain, aur wahan pehli Muslim Prime Minister ke liye Stady Lagaana bhi start ho gaya hai
برطانیہ میں پہلی مسلمان وزیر اعظم کے لیے سٹی لگنا شروع ہونا بالکل بھی خجل نہیں ہے، اس کا یہ معاملہ ایک سیاسی بحران کے اندر داخل ہو گیا ہے جس سےPolitics کی دنیا میں بڑی ہلچل پیدا ہوئی ہے।
کیئر اسٹارمر کو اور پٹر مینڈیلسن کو ایسے معاملوں پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے۔
اسٹارمر کا یہ فیصلہ politics میں Discussion شروع کر دیا ہے اور اس میں ایسے نام بھی شامل ہو گئے ہیں جن کو Politics کی دنیا میں ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں۔
شبانہ محمود کو politics کے دنیا میں ایک سنجیدہ سیاست دان سمجھا جاتا ہے جو اپنی سیاست کو کسی خاص شناخت یا مذہب سے نہیں جوڑتیں۔
شبانہ محمود کو politics کی دنیا میں ایک امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، وہ اپنی سیاست کو ایسے لئے پیش کرتی ہیں جو سب کے لیے معاف ہو۔
اس لیے politics کی دنیا میں لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں اور اسے دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ politics کی دنیا میں کیا کرتی ہے۔
کیئر اسٹارمر کے فیصلوں پر عوام کی رائے بڑی ہلچل پیدا کر گئی ہے، اور یہ سوالیہ نشان Politics کی دنیا میں Discussion شروع کر دیا ہے۔ اس کے بعد سٹارمر کو اپنے سیاسی مستقبل پر دکھا دیا جاتا رہا ہے۔
میں اس بات سے انسaf کرنا چاہتا ہوں کہ Politics کی دنیا میں ایسے نام بھی شامل ہو گئے ہیں جوPolitics کے دنیا میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، اور انہیں Politics کی دنیا سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
اسٹارمر کو اپنی کارکردگی کی وجہ سے دباؤ اور عوامی غضب بڑھتا ہے، کیونکہ وہ اپنے فیصلوں کے نتیجے میں ہیں۔
شبانہ محمود کو Politics کی دنیا میں ایک سنجیدہ سیاست دان سمجھا جاتا ہے، جو اپنی سیاست کو کسی خاص شناخت یا مذہب سے نہیں جوڑتیں۔
میں اس بات سے امتناع کرنا چاہتا ہوں کہ Politics کی دنیا میں کسی کو اپنیPolitics کی دنیا سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ایسے میں یہ بات بھی ٹھیک ہوگی کہ شبانہ محمود کی واپسیPolitics کے دنیا میں ایک بڑا چاکر ہوگا، اس لیے ان کے فیصلوں کو دیکھ کر وہی نتیجہ نکالے گا جس سے وہ اپنے سیاسی مستقبل کی طرف آ رہے ہیں، نہیں کہ ان کا فیصلہ ان کی آگے کی Political کیریئر کو متاثر کرے گا ۔
اسٹارمر کے سیاسی مستقبل پر دیکھنے والوں کو ان کی کارکردگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے عوامی غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ اپنی Politics کی دنیا میں ایک نام سمجھے جاتے ہیں۔
بھارتیوں نے پاکستان کے ویزا لینے سے پہلے اس طرح کے بڑے تنازعے میں بھی گنجرے ہیں، مگر یہ اس لیے نہیں ہوتا کیوں کہ ان کا ویزا لینے والا پاکستانی ایسا سڑک رہے جیسے وہ پہلی بار ہو رہا ہو، اس لیے نہیڰ کرتا کہ ان کے پاس اس معاملے میں کچھ واقفیت ہو جس سے وہ کسی بھی سٹریٹجیز کے بارے میں کچھ نہ کچھ سمجھ سکیں، اور یہ دیکھ کر یہ بات کافی عجیب ہے کہ برطانیہ میں ایسا ایپستین اسکینڈل تو پہلے ہی ہوا تھا!
کیئر اسٹارمر کا یہ فیصلہ Politics کی دنیا کو اچانک ایک دوسرے طرف بھیج دیا ہے، اور اب س्टارمر کے بعد ان کے پیروکاروں کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان لگنا پڑ گیا ہے۔
شبانہ محمود کی جانشینی کے حوالے سے Politics کی دنیا میں Discussion شروع ہو گئی ہے، اور اس میں ایسے نام بھی شامل ہو گئے ہیں جن کوPolitics کی دنیا میں ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں۔
اسٹارمر کا فیصلہ ان کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے، اور اب وہ اپنے سیاسی مستقبل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہتے ہیں۔
لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ Politics کی دنیا میں ایسے مسائل بھی ہوتے ہیں جن کو حل نہیں کیا جا سکتا، اور اب ان کا Samna کرنا شروع ہو گیا ہے۔
ایس اور ہو گئی ہے ایپستین اسکینڈل کے بعد شibanہ محمود کو politics میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی پر دیکھ رہے ہیں، اس کی واضح بات ایسے لگتتی ہے کہ وہPolitics میں اپنی جگہ بننے کے لیے کافی کوشش کر رہی ہیں۔
اسٹارمر کا فیصلہ ان کی جانشینی کے حوالے سے politics میں Discussion شروع کر دیا ہے اور اس میں ایسے نام بھی شامل ہو گئے ہیں جن کو Politics کی دنیا میں ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں۔
شibanہ محمود کو Politics کے دنیا میں ایک سنجیدہ سیاست دان سمجھا جاتا ہے، جو اپنی سیاست کو کسی خاص شناخت یا مذہب سے نہیں جوڑتیں۔