آسٹریلیا میں شدید گرمی کئی علاقوں میں ٹمپریچر کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

ڈیجیٹل دوست

Well-known member
آسٹریلیا کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں گرمی کی لہر نے اس وقت ایک تاریخی ریکارڈ توڑ دیا ہے جبھی کچھ علاقوں میں ٹمپریچر 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے اور جنوب مشرقی آسٹریلیا اور وسطی علاقوں میں شدید گرمی کے مرکرات نے ایک تیز رفتار لہر بنائی ہے جس کی وجہ سے وہاں کی سڑکوں پر لوگ تپتی ہوئی سڑک پر ٹھوس انڈا اور گوشت کے اسٹک ڈال کر اس کے پک جانے کا انتظار کرتے دیکھے گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں یہ تیز رفتار گرمی سیریز کے دوران شروع ہوئی جس کے بعد 2020 کے فلم ‘بلیک سمر’ کی یاد آئی۔ یہ فلم ایک اہم درجہ حرارت کے مراکز سے لے کر آسٹریلین کے نصف سے زیادہ علاقوں میں گھلچتی ہوئی ایک تیز رفتار گرمی کی لہر کو دیکھتے ہیں جس نے اس وقت براعظم کے 21 فیصد جنگلات کو تباہ کر دیا، اور دنیا میں آئیڈنہ گئی ایک بے مثال عالمی سطح پر سمجھا جانے والا واقعہ ہے۔

گرمی کی لہر کے شپنگ نے آسٹریلیا میں تقریباً تمام علاقوں کو تباہ کر دیا جس سے ملک کے لوگ تیز رات کو گھروں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں اور سافٹ وار کی زندگی کی پینش ہو گی۔

آسٹریلیا بہت وسیع رقبہ پر مشتمل ملک ہے جہاں موسم اور ٹمپریچر کئی رنگ بیک وقت چلتے ہیں لیکن جنوری کے آخر کی ہفتوں میں آسٹریلیا مکمل طور پر ایک سر سے دوسرے سر تک گرمی کے موسم میں رہتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں خط استوا کے جنوب میں واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں موسم گرما دیر سے شروع ہوتا ہے اور شیلٹنگز کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
 
اس گرمي کی لہر کا یہ کہنا ہی کم ہے کہ اس میں سڑکوں پر لوگ تپتی ہوئی سڑک پر ٹھوس انڈا اور گوشت کے اسٹک ڈال کر اس کے پک جانے کا انتظار کر رہے ہیں! لازمی دیکھنے والوں کے لیے یہ ایک بے مثال تھیم سے بنی ہوئی سڑک نہیں ہے اور اس کی ٹکنالوجی کمزور دیکھنے کو آ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے لئے سافٹ وار زندگی کی پینش تو ہوئی گئی ہے بلکہ ایسے موسم میں سڑکوں پر بھی رہنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہو سکا ہے۔
 
اس گرمی کے حالات میں لوگ ایسی بات نہیں کرتے جو کہ تھوڈا آسان نہیں ہوتا، سب سے زیادہ دیر تک سڑکوں پر گھومنا، انڈے اور گوشت کے اسٹک کھانا، چولہے کی طرح پینش لینا… یہ سب کو مل کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تباہ ہو رہے ہیں 🍴😓اس کے بعد بھی لوگ اس کی طرف بڑھتے چلے گئے، یہ تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے لیکن ہر سال آؤٹڈور سافٹ وار ہونے کا کوئی حل نہیں پاتا، یہ تو ایک جھیل کی طرح بن گئے ہو ہیں اور ان کے پاس ایسا نہیں رہتا جیسے وہ اپنی زندگی کو ایسی سافٹ وار کے ساتھ بیتا رہ سکیں
 
عوض اے، آسٹریلیا میں تیز رفتار گرمی سیریز کھرنے والا انسائڈر اچھا سے نہیں ہوا، پہلے سے ہی لوگ یہی بات کرتے رہتے ہیں کہ گرمی کا موسم جلد سے اچھا نہیں ہوتا، مگر 2020 کے فلم ‘بلیک سمر’ کی یاد آئی جس میں ایک اہم درجہ حرارت کے مراکز سے لے کر آسٹریلین کے نصف سے زیادہ علاقوں میں گھلچتی ہوئی تیز رفتار گرمی کی لہر دکھائی گئی، اور دنیا میں ایک بے مثال عالمی سطح پر سمجھا جانے والا واقعہ ہوا۔
 
اس گرمی کی لہر نے آسٹریلیا کو بھی اپنی چپا چپا دیکھنے کا موقع دیا ہے ، لیکن یہ بات سچ ہے کہ اس کی وجہ سے ایسے علاقوں میں لوگ تھک گئے ہیں جنہیں اپنی تازہ اور صاف وار زندگی کو مہیا کرنے کا موقع مل گیا ہے. اس کی وجہ سے لوگ پہلے سے زیادہ سافٹ وار اور سڑکوں پر گھروں سے باہر نکلنے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں.
 
آسٹریلیا میں یہ تیز رفتار گرمی کچھ عجیب ہی واقعات لائے ہیں جیسے لوگ ٹھوس انڈا اور گوشت کی چٹانوں پر گھوم رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ سافٹ وار کی زندگی کے لئے گھروں سے باہر نکل پائے ہیں اور کوئی بھی موسم گرما میں رہنے کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ ایک بدترین معاملہ ہے، خاص طور پر جب جنگلات تباہ ہو گئی ہیں۔ آسٹریلیا میڰ کھلنا ضروری ہے لیکن سافٹ وار کی زندگی اس حد تک پھیل گئی ہے کہ یہ تباہ کر رہی ہے۔
 
اس عالمی صورتحال کا سامنا کرنے والا آسٹریلیا بہت ہی غمگستھ ہے، اسی لئے یہ ٹھوس انڈا اور گوشت کی مہنگائی کا انتظار کر رہے ہیں، پانچ سالوں میں سے چار میں ایک اس طرح کی تیز رفتار گرمی نے آسٹریلیا کو گھیر لیا ہے جس کا ایڈرس آئندہ دنیا بھی دیکھ رہی ہے 🤯

اس کے علاوہ یہ فلم ‘بلیک سمر’ کی یاد آئی جو اس وقت کی تیز رفتار گرمی سیریز کا ایک اہم حصہ ہے جس نے براعظم کو تباہ کر دیا ہے، آسٹریلیا بھر میں لوگ اپنی گھروں کے اندر ہی رہنے لگتے ہیں اور سافٹ وار کی زندگی کو جھیلتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے جو دنیا کو دیکھنا پڑے گی۔
 
اس آسٹریلیا میں تیز رفتار گرمی کا واقعہ تو دیکھا ہوں گا اِس سے پہلے بھی اچانک ٹمپریچر 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی بات کہی جاتی تھی، لیکن یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ کیا کچھ خطرات بھی ہیں جن پر عمل درامہ کرتے ہوئے نظر آنا چاہئیے۔ **


موسم گرما میں کبھی کبھار تیز رات کو گھروں سے باہر نکلنا ضروری ہوتا ہے، اور حال ہی میں آسٹریلیا کی ایسی صورتحال ہوئی ہے جس کا خیر خواہ بھی کوئی تصور نہیں کرتا تھا، لہٰذا یہ بات بھی ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر نظر رکھنے کی کوئی کمی نہ ہو۔ اِن حالات میں سڑکوں کا ایک سٹاک پانے والا شخص، اپنی توجہ ایسے لوگوں پر مرکوز کرنا چاہیے جنہیں گرمی کی وجہ سے کوئیproblem ہے، اور ان سے بھی معاونت کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ، ایک دوسرے پر یقین رکھنے والے لوگ، جسے میری اسٹریٹجیک تھرڈ سے ٹیچ کرے گا، گرمی کی لہر کے دوران پہلے نہ ہونے والیThings کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ **


اس سلسلے میں ایک دوسرا بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر یقین رکھنا چاہئیے جو آگے کی اور پہلے کی Things کے لیے تیار ہوں گے۔ اس طرح، اگر ان کو توجہ دی جائے تو، گرمی سے متعلق ہوئی Problems کو ایک دوسرے سے بھاگنے کی پوری کوشش کرنا چاہئیے۔ اِن سب کو ملانے والی ایک اور بات یہ ہے کہ، یہ تیز رات کو گھروں سے باہر نکلنا ضروری ہوتا ہے، جس کے لیے صاف ساف چلنے اور ایک پانچپنٹ سٹاک کے ساتھ، ایک دوسرے پر یقین رکھنا چاہئیے۔ **


اس گھریلو سٹاک کے ساتھ ہی، سافٹ وار کی زندگی اور اس کے لیے ضروری Things بھی توجہ دی جانی چاہئیں، تاکہ یہ سسٹم ایک دوسرے کو ملایے اور ایک اور بات یہ ہے کہ، گرمی کی وجہ سے وہ لوگ جنھیں پانی میں تلاعب نہیں ہوتا اُن کی جانب بھی توجہ دی جائے۔

اس لئے کہ، تیز رات کو گھروں سے باہر نکلنا وغیرہ، ایک دوسرے پر یقین رکھنے والا وہ سسٹم بنتا ہے جو یہاں تک پہنچتا ہے، اور یہی بات اس تیز رفتار گرمی کے واقعے کے لیے بھی ہے، جس میں لوگوں کو ایک دوسرے پر یقین رکھنا چاہئیے اور ایک دوسرے سے معاونت کی ضرورت ہے۔
 
آسٹریلیا میں اس تیز رفتار گرمی کو دیکھتے ہوئے میرا یہ آشچارہ ہے کہ لوگ اس وقت تک ٹھوس انڈا اور گوشت کے سٹک اپنی پینش کر رہے ہیں جب میرے بچوں کو بھی یہ بات آئی ہے کہ وہیں کیا کر رہے ہیں؟
ماں بApنے بچوں سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ وہ سڑکوں پر گرتے ہوئے پانی پینے لگے ہیں اور اس لیے میرے دل میں ایک دوسرا خوف پیدا ہوگیا ہے۔
اس کے علاوہ جس تیز رفتار گرمی نے آسٹریلیا کو متاثر کیا ہے وہیں میرا بھی یہ خوف ہے کہ لوگ اس وقت تک اپنی ایsi پینش میں رہتے ہیں جب تک وہ سڑکوں پر نہ آتے۔
 
یہ دیکھ کر میں بھی سوچتا ہوں کہ آسٹریلیا کے علاقوں میں گرمی کی لہر ابھی تو ٹھوس انڈا اور گوشت کے اسٹک کھانے والوں کو انتہائی رنج دے رہی ہے، لیکن یہ تیز رفتار گرمی سیریز جس کے تحت وہاں تباہ کن شدت میں گھلچتی ہوئی گرمی کی لہر دیکھنے کو ملا ہے، اس نے دنیا بھر میں ساتھ کیا ہے... اور یہ سب 21 فیصد جنگلات کے تباہ ہونے کا سبب بن گیا ہے... 🌡️
 
😓اس قدر گرم ہوا ہوئی ہے ایسے میں یہ بات سچمے کہ آسٹریلیا کی فیما جس سے ناکام ہو چکے ہیں، مینے اپنی ملکہوں کو ایسی چھت دیکھنے کے لئے بھی نہیں دیں کیونکہ ان کی تلاش یہ ہے کہ میرے لوگ صبح ہی سافٹ وار بن گے، حالانکہ اس پر ٹھیک رہنا ایسا نہیں ہوگا جب تک گرمی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
 
یہ مگر کچھ بھی نہیں ہوا? وہاں کی تیز رفتار گرمی سیریز میں اس کا انحصار ایسے آرٹिफیشل ریکارڈ بنانے پر ہے جو بہت چیلنج ہیں؟ آسٹریلیا کا یہ تیز رفتار گرمی سیریز کیا اس سے ملک کو ایسی زندگی دی گئی جو بھی وہ لوگ نہیں چاہتے! یہ تو ایک انشاد ہو گیا ہے کہ وہاں کی حکومت اس پر غور نہیں کر رہی? آسٹریلیا میں جنگلات کو تباہ کرنے والی گرمی کی لہر کو بھی ایک انشاد ہی کہہ دیا جا سکتا ہے؟
 
اس وقت آسٹریلیا میں تیز رفتار گرمی کا سہرنا بہت مشکل ہو رہا ہے اور یہ تھوڈا سا لما تھا جب اس کی یاد ایک فلم ‘بلیک سمر’ میں آئی تھی لیکن اب وہاں کے حالات کچھ واضح طور پر بھی ہیں 😩 . یہ وہ وقت ہو گا جب لوگ صرف گھروں میں ہی رہتے ہیں اور باہر نکلنے پر کچھ بھی چیلنج نہیں کیاجات۔ اس کے لیے پریشان تھوڈا ہی سا پکوان بھی بنانے میں کام کرنا ہو گا اور اس پر تھوڈا جساد نہیں ہو گا اور لوگ اپنے گھروں کے اندر ہی کھانے کی پینش کرنے کے لیے کہتے رہتے ہیں۔
 
🔥اس وقت آسٹریلیا میں تھوڈا بھی کچھ نہیں، جو اس وقت دیکھنے کو ملا ہے وہ ایک تاریخی ریکارڈ توڑنا ہے، جبکہ پریشان کن سلوک یہی نہیں بلکہ آگ کی لپٹ میں جانا کچھ اور ہے!

سائنس دانوں کے مطابق، گرمی کے ایسی سیریز جو آسٹریلیا کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں دیکھی جاتی ہے وہ اپنے آپ میں ایک خطرناک منصوبہ ہیں، کیونکہ ان علاقوں کا آب و ہوا اس وقت بہت مختلف ہوتا ہے جس سے وہاں کے لوگ تھین رات کو گھروں سے باہر نکلنے کی پينش میں آنی چاہتی ہیں اور اس کے برعکس بھی ہوتا ہے جب وہاں کے لوگ زیادہ گرمی میں رہتے ہیں، اسی لیے یہ موسم ایک خطرناک موسم ہے جو لوگوں کے لیے بہت مुश्कل سا ہو سکتا ہے!

شاید وہ لوگ جسٹ نہیں سمجھتے کہ آسٹریلیا ایک بھارپور ملک ہے جہاں موسم اور ٹمپریچر کئی رنگ بیک وقت چلتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کچھ علاقوں میں موسم گرما دیر سے شروع ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں خط استوا کے جنوب میں واقع ہے، جس کی وجہ سے موسم گرما دیر سے شروع ہوتا ہے اور شیلٹنگز کی ضرورت نہیں پڑتی!

اس وقت آسٹریلیا میں کچھ نہیں تو یہ بات صاف ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ اس سے محفوظ رہنا کوئی مشکل نہیں بلکہ ایسا ہونا ضروری ہے!
 
اس وقت آسٹریلیا میں تیز رفتار گرمی کی لہر ایسے توڑ رہی ہے جیسا اس کا کوئی پہلے برینڈ نہیں دیکھا تھا 🌡️۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگ ٹھوس انڈا اور گوشت کے اسٹک کی مہربانی کرنے لگے، سڑکوں پر جو تپتی ہوئی سڑک پر کھانے کی پیڑی بن گئی ہے۔ یہ بھی ایسا ہوا جیسا 2020 میں فلم 'بلیک سمر' نے دکھایا تھا جو اس وقت آگے بڑھتا گیا ہے جتنا آسٹریلین لوگ ان کے گھروں سے باہر جانا چاہتے ہیں تاکہ ان کو یہ ٹپنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ اس بات پر ایک بات پوری کرتے ہیں آسٹریلیا بہت وسیع رقبے پر فیلڈ تھا جو موسم اور ٹمپریچر دونوں کی ممتازیت کا تعین کرتی ہے، اور ان January ko kaafi serious hai taur par jahan pe koi shield nahi padta hai.
 
واپس
Top