آسٹریلیا اس وقت جنوبی مشرقی اور وسطی علاقوں میں ایک تاریخی اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس نے کچھ علاقوں میں ٹمپریچر 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے زیادہ ہونے کا باعث بنا ہے۔
جنوری کے آخر کے دنوں میں آسٹریلیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک گرمی کو ملا رہا ہے، اور یہاں کچھ علاقوں میں گرمی بھی کم اور کچھ علاقوں میں زیادہ ہے۔
اس وقت وکٹوریہ اور جنوبی آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے لاکھوں لوگ Pasina baha rahe hain.
آسٹریلین میڈیا کے مطابق جنوب مشرقی آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے لاکھوں لوگ Pasina baha rahen ge.
گرمی کا آغاز 24 جنوری سے ہوا اور جنوبی آسٹریلیا میں تین اور نیو ساؤتھ ویلز میں دو شہروں نے اپنے ٹمپریچر کا آل ٹائم ریکارڈ توڑ دیا۔ سیڈونا سایہ میں ٹمپریچر 49.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس کے بعد یہ آسٹریلیا میں ریکارڈ کیے گئے سب سے زیادہ درجہ حرارت سے صرف 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہے.
آزادانہ تجزیے سے پتا چلا کہ 5 سے 10 جنوری کے درمیان آخری گرمی کی لہر عالمی حرارت سے پانچ گنا زیادہ امکان ہے اور اس صورت حال میں ایسی شدت ہو سکتی ہے جس کی تاریخ سے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
آسٹریلین کرکٹرز کے لئے پاکستان میں سردی کا جھٹکا بھی ہوا، اس لیے مچل مارش نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں اس قدر سردی کی توقع نہیں کر رہے تھے اور اسی وجہ سے مناسب گرم کپڑے ساتھ نہیں لا سکے.
آسٹریلیا کے بیورو آف میٹ نے بتایا ہے کہ جنوبی مشرق سے ٹکرانے والی مسلسل گرمی وسیع اور طویل رہے گی، اور امکان ہے کہ اس ہفتے درجہ حرارت کے مزید ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔
جنوری کے آخر کے دنوں میں آسٹریلیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک گرمی کو ملا رہا ہے، اور یہاں کچھ علاقوں میں گرمی بھی کم اور کچھ علاقوں میں زیادہ ہے۔
اس وقت وکٹوریہ اور جنوبی آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے لاکھوں لوگ Pasina baha rahe hain.
آسٹریلین میڈیا کے مطابق جنوب مشرقی آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے لاکھوں لوگ Pasina baha rahen ge.
گرمی کا آغاز 24 جنوری سے ہوا اور جنوبی آسٹریلیا میں تین اور نیو ساؤتھ ویلز میں دو شہروں نے اپنے ٹمپریچر کا آل ٹائم ریکارڈ توڑ دیا۔ سیڈونا سایہ میں ٹمپریچر 49.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس کے بعد یہ آسٹریلیا میں ریکارڈ کیے گئے سب سے زیادہ درجہ حرارت سے صرف 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہے.
آزادانہ تجزیے سے پتا چلا کہ 5 سے 10 جنوری کے درمیان آخری گرمی کی لہر عالمی حرارت سے پانچ گنا زیادہ امکان ہے اور اس صورت حال میں ایسی شدت ہو سکتی ہے جس کی تاریخ سے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
آسٹریلین کرکٹرز کے لئے پاکستان میں سردی کا جھٹکا بھی ہوا، اس لیے مچل مارش نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں اس قدر سردی کی توقع نہیں کر رہے تھے اور اسی وجہ سے مناسب گرم کپڑے ساتھ نہیں لا سکے.
آسٹریلیا کے بیورو آف میٹ نے بتایا ہے کہ جنوبی مشرق سے ٹکرانے والی مسلسل گرمی وسیع اور طویل رہے گی، اور امکان ہے کہ اس ہفتے درجہ حرارت کے مزید ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔