ہائی سکول تعلیم کے لیے آسٹریلیا دنیا کا مہنگا ترین ملک قرار

ساحل دوست

Well-known member
آسٹریلیا میں ہائی سکول تعلیم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے مہنگا ملک ہیں جتھے خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے کہ آسٹریلیا میں ایسکول فیس بڑھتی چلی گئی ہیں اور اب اسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر سالانہ 4،957 ڈالر کا خرچ کرنا پڑتا ہے جو دنیا بھر میں 38 ترقی یافتہ ممالک کی اوسط سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھتی چلی گئی ہے جس نے ایسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے جو سرکاری اسکولوں میں فراہم نہیں کی جاتی۔ اس سے خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان کے-budget میں ایک بھاری چھاپ رکھی ہوئی ہے۔

بڑی تعداد میں پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جو دنیا بھر میں دوسری سب سے بڑی تعداد کے ساتھ آسٹریلیا میں 40 فیصد سے زیادہ اٹھتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایسکول والوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو وہ ایسی جگہاں یہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں جہاں ان کے ماموں کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے اور انہیں اسکول والوں سے بھاری اخراجات فراہم کئے جاتے ہیں۔
 
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں اسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر ایسے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں جو دنیا بھر میں 38 ترقی یافتہ ممالک کی اوسط سے تقریباً چار گنی زیادہ ہیں۔ یہ بات بھی بتائی جاتی ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 40 فیصد تک ہو چکی ہے، جس سے اسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان کے-budget میں ایک بھاری چھاپ رکھی ہوئی ہے۔
 
اس رپورٹ سے پتا چalta ہے آسٹریلیا میں تعلیم کی کوئی معقولیت نہیں ہے حالانکہ یہ کہتی ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مہنگا ملک ہے تو ایسے میں بھی اس کی پالیسیوں کو منظم کرنا چاہئے تاں خاندانوں کو بھاری اخراجات پر مجبور نہ کیا جائے؟ 😐
 
اس اسکول کی پولیسی پر ایسا نہیں چلا کہ آپ کے بچوں کو وہی اسکول میں داخل ہو جائیں جو آپ کے ذاتی استحال اور مقبولیت کی وجہ سے زیادہ ترازون ہوں؟ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر کبھی کچھ نظر نہیں آئی تاکہ اس پر چیلنج کیا جاسکے۔
 
اسٹریلیا میں ہائی سکول تعلیم کی پائیدار عظمت سے متاثر ہو رہا ہے، اخراجات بڑھتے چلے گئے ہیں...

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکولوں میں معاشیاتی ضicultیاں پیدا نہیں ہوتی، لیکن جب پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی تو اس نے خاندانوں کو اپنے بچوں کے تعلیم کے لیے اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے...

اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں بھرپور معاشیاتی ترقی ہوئی ہے اور اس نے لوگوں کو بھاری اخراجات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کی ہے...

لیکن یہ بات بھی پتوں میں نہیں لگتی کہ اس سے خاندانوں کی معاشیاتی صورتحال پر اثر پڑتا ہے...
 
آسٹریلیا میں ایسکول کی قیمت بڑھتی چلی گئی ہے اور اب اسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر سالانہ 4،957 ڈالر کا خرچ کرنا پڑتا ہے جو دنیا بھر میں 38 ترقی یافتہ ممالک کی اوسط سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

میرے لئے یہ بات کافی concern ہے کیونکہ اس سے خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان کے-budget میں ایک بھاری چھاپ رکھی ہوئی ہے۔

بڑی تعداد میڤر پرائیویٹ اسکولوں میڵے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جو دنیا بھر میڈی دوسری سب سے بڑی تعداد کے ساتھ آسٹریلیا میڈ۔

اس کی بات ہے، اسکول والوں کے لیے یہ ایک بڑا problem ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میڲ تعلیم حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں جو بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔
 
اس رپورٹ کی پڑھتے ہوئے، مجھے ان کھان پین کے معاملات سے منسلک کرنے والا ایک حقيقی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ہماری اہلیتیں اسی کی بناوٹ میں ہوں؟ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ ان کھان پین کے معاملات میں بھی ایک بدولت ترقی کا رہاسہ ہوتا ہے؟ آج دنیا، جو ایسی ہے جہاں ہر کوئی اپنی اہلیتیوں میں ناخوشی کا تجربہ کر رہا ہے اس میں بھی ایک سہولت کے معاملات پر زور دینا ضروری نہیں، کیونکہ یہ ہمیں اپنی اہلیتیوں میں کمی لایا کر سکتا ہے۔
 
آسٹریلیا کی یہ فیکر ہیچ سچی ہے! ابھی پہلے اسکول والوں کو اپنے بچوں کے لیے ڈالرز میں خرچ کرنا پڑتا تھا اور اب وہ سالانے 4،957 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں! یہ سچ بھی ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کی تعداد زیادہ چلی گئی ہے اور اب خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ڈالرز خرچ کرنا پڑتا ہے، یہ ایک بڑا خطرہ ہے! اس سے خاندانوں کے budget پر بھی زیادہ چھاپ رکھی جاتی ہے، تو یہ پوری طرح ایک مہنگا گھر بنتا ہے اور یہ کیسے سچائی ہو گئی? 🤯
 
اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے، میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بڑا سہارا نہیں، بلکہ ایک تانہ تنازع ہے جو اسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر پھیلائی گئی ہوئی دہلیڈار کرتے ہیں۔ وہ بھت اخراجات ان کے-budget میں ایک چھاپ رکھی ہوئی ہیں، اس سے انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنا کھانے پینے جیسا پکدرہ ہی کیا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اس سے انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کو Prioritet دینا چاہیے اور انھیں وہیں سکول کھیلنا چاہیے جتے وہ کمزور نہ ہوکر چل سکیں۔
 
اس کی یہ رپورٹ ٹھیک ہے آسٹریلیا میں تعلیم پر کیا خرچ کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ بات سب کو اسی ساتھ نہیں دیتی کہ وہ چھوٹے بچوں کی واقفیت کے لیے کیا خرچ کرتے ہیں؟ منہ بھر ملاعمت اور ایسا پینا جائے کہ بچے اسکول میں نہیں جائیں تو ایسی صورتحال میں کیا اخراجات ہوں گے؟
 
اس کی بات اتنا چنچلے دھندلا ہے! آسٹریلیا میں ایسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے 4،957 ڈالر خرچ کرنا پڑتا ہے جو دنیا بھر میں 38 ترقی یافتہ ممالک کی اوسط سے چار گنا زیادہ ہے! یہ کہتا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھتی چلی گئی ہے اور ایسکول والوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ان کے budget میں ایک بھاری چھاپ رکھی ہوئی ہے! 40 فیصد سے زیادہ طلبہ آسٹریلیا میں پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، جو ایسکول والوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے! یہ اسی بات پر عمل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں! یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک خاندان اپنی زندگی میں ایسے اخراجات پر خرچ کرے جو اس کی ذاتی-budget میں بھی نہیں ہوتے!

— @CommentCyclist
 
واپس
Top