آئی پی ایل کی نئی سیزن آف سیسر نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو 9.20 کروڑ روپے میں خریدا تھا، لیکن اب بی سی سی آئی کی ہدایت پر انہیں ٹیم سے ریلیز کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی سی سی آئی نے سفارتی اور سیکیورٹی معاملات کی بنا پر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد کے کے آر کو انہیں اسکواڈ سے نکالنا پڑا۔ عام طور پر آئی پی ایل نیلامی کے قوانین کے مطابق کسی کھلاڑی کو خریدنے کے بعد فرنچائز کی رقم لاک ہو جاتی ہے، لیکن مستفیض الرحمان کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ ان کی رہائی کسی چوٹ یا ذاتی فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ سفارتی اور سیکیورٹی معاملات کے سبب بی سی سی آئی کے حکم پر کی جا رہی ہے۔
آئی پی ایل کے آپریشنل قوانین کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کو غیر کرکٹ وجوہات کی بنیاد پر بی سی سی آئی کے حکم سے ہٹایا جائے تو متعلقہ فرنچائز کو اس کھلاڑی پر خرچ کی گئی پوری رقم واپس ملنے کا حق ہوتا ہے، جس سے کے کے آر کو مستفیض الرحمان پر खरچ کی گئی 9.20 کروڑ روپے کی مکمل رقم دوبارہ اپنے پرس میں ملنے کا امکان ہے۔
مستفیض الرحمان کی رہائی قانونی طور پر ’فورس میجور‘ کے زمرے میں آتی ہے، جس سے فرنچائز کو کھلاڑی سے معاہدہ پورا کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ کیونکہ مستفیض کی رہائی بی سی سی آئی کے حکم پر ہوئی، اس لیے کے کے آر پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
رقم کی واپسی کے بعد کے کے آر کو رجسٹرڈ اویلیبل پلیئر پول (آر اے پی پی) یا متبادل ڈرافٹ کے ذریعے نیا غیر ملکی فاسٹ بولر خریدنے کی اجازت ہوگی، جس سے انہیں کسی مالی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
بچھڑی ہوئی بات یہ ہے کے کے آر کو مستفیض الرحمان پر 9.20 کروڑ کی مکمل رقم واپس ملنے کا امکان ہے! یہ تو ایک بڑا نقصان کا سامنا کرنے والی فرنچائز ہوگی، اور یہ ان کی کارکردگی پر بھی اس کے پوری قیمت کے برابر نہیں رہے گا!
بھائی یہ واضح ہو گیا ہے کہ بی سی سی آئی کے ایک سے زیادہ فاسٹ بولر خریدنے کی راز بھی کسی معاملے میں پھنسی ہوئی ہے، اس کی واضح نہیں ہو سکتی کہ کیا یہ ایک غیر ملکی کھلاڑی سے باضابطہ معاملات کے باعث ہوا یا کسی political drama ka hissa ban gaya hai.
مستفیض رحمان کو ایسا بھی نظر آتا ہے جیسے وہ ایک عادی معاملہ ہو رہا ہے ، پھر نہیں کے یہ ایک اسی طرح کی دباؤ اور دوسری جانوں کے لئے کیا جارہا ہے۔ کے کے آر کو اس صورت حال سے نکلنا پڑتا ہے، لیکن ان کی رہائی کسی بھی قیمتی چیز کے لئے نہیں ہوئی بلکہ ایسے معاملات میں دوسری جانوں کو پچتانا پڑتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تمام فرنچائزز اپنی ٹیموں کے ساتھ ایک ساتھ رہیں اور کسی نہ کسی صورتحال میں انہیں ایسا بھی نہ ملے کہ وہ اپنی تمام راتوں ٹیم کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں
ایک دیرپا معاملہ ہوا ہے۔ کیوکر ایسٹر کے بعد سے میری خاطرس پر یہ بات اچھی نہیں لگ رہی ہے کہ کپ کے فرنچائزز آہستہ آہستہ پرانے کھلاڑیوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ مستفیض الرحمان کی صورتحال کو دیکھا تو مجھے ناہکو لگتا ہے کہ یہ بھی ایک جینیش یو اسٹریٹیجیز کا حصہ ہے جس پر انہوں نے پچاس برس قبل تھما دیا تھا کہ آئی پی ایل ہر سال کسی نہ کسی طرح سے متعثر رہے گا۔
یہ تو ایک حقیقت ہے کے بی سی سی آئی کی ہدایت پر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ریلیز کرنا پڑ رہا ہے، لیکن جس لیے کے آر کو انھیں اسکواڈ سے نکالنا پڑا ہے وہ ایک حقیقت بھی ہے کیونکہ ان کے بعد کے کے آر کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑ اور ان کا معاملہ مختلف ہے، مگر یہ سبھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر بی سی سی آئی کے حکم کی فوج نہیں ہو سکی ہیں
یہ واقفہ ایک اچھی مثال ہے کہ نئے سیزن میں کیا کیا جائے؟ بی سی سی آئی کی ایسسی پالیسیوں پر انہیں لگتا ہے کہ وہ ایک ٹیم کی پابندیاں بھی طے کر سکتے ہیں اور کوئی معاملہ نہیں ہوتا۔
لگتا ہے کہ آئی پی ایل کو ایسا کرنا پڑے گا کہ انہیں فرنچائزوں کی معاہدوں پر بھی فیکٹرنگ کا خیال رکھنا پڑے گا، جو اس وقت تک نہیں ہوا جب تک کہ بی سی سی آئی نے ان کو ایسے لاک ہی نہیں رکھا تھا۔
یہ تو ایک بھائی کی کہانی ہے! مستفیض الرحمان کو انہیں خریدنے کے بعد اور واپس جانے کے عمل میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی جیسے ایک فلم میں ہوتا ہے۔ بی سی سی آئی نے انہیں خریدنے کے بعد اسے ہٹانے کی کوہنیت کر دی اور یہ دیکھنا بہت ہی معقدم ہے۔ جب تک یہ رہا، تو کے کے آر کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔ اب پھر واپس جانے کی پابندی نہیں ہے اور یہ دیکھنا جانتا ہے کہ فرنچائز کو یہ کیے جانے والے نقصان کیسے پورا کیا جائے گا؟
ہمارے دوسرے ایپ کو یہ بات دھیمے ٹکرانے کی ہوگی کہ آئی پی ایل میں فاسٹ بولر خریدنے کے بعد پوری رقم واپس ملنا نہیں سہولت ہے؟ بی سی سی آئی کی سفارتی اور سیکیورٹی معاملات کی بنا پر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ریلیز کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس میں فرنچائز کو بھی ایک بڑی واپسی کی ذمہ داری ملگئی ہے۔
یہ بھی ضرور نہیں تھا کے کی ہی کے اور بی سی سی آئی ایک دوسرے پر یہی مازوہش کر رہے تھے کہ وہ سب کو کچل دیں؟ یا اس سے بھی نہ رہے کہ انہیں پورے معاملے میں مایوس ہونے کا موقع مل جائے? مستفیض الرحمان کو خریدنے کے بعد کی ایسے قوانین نہیں تھے کہ وہ فرنچائز سے باہر رہ جائیں؟ اور اب وہ اس معاملے میں ایک دوسرے پر چلنا نہیں چاہتے؟
عجیب و غریب یہ کہ بی سی سی آئی کو دوسرے ملکوں سے اچھے کھلاڑی خریدنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو کیا ہوگا؟ سب کو پتا چلا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کے لوگ بھی اچھے کھلاڑی ہیں۔ لیکن یہ تو ایک جتنی جانتے ہوں وہ نہیں کہ بی سی سی آئی کا رہنما ایسا کس طرح کام کرتا ہے۔
بھائیے یہ تو اتنی بڑی صورتحال ہوگئی ہے۔ بی سی سی آئی کی ایسی ہدایت پر کے اے آر کو اسکواڈ سے نکلنا پڑا، جو قانونی طور پر یہ بھی بتاتا ہے کہ وہاں کچھ معاملہ جات کے سبب انہیں ٹیم سے ریلیز کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اب تو مستفیض الرحمان کو بھی اسٹرکچر میں شامل کرنا پڑ رہا ہے، اگر وہ اسکواڈ سے بھاگ جائیں تو کتنی معذوری یہ ہوگئی ہے؟
اللہ یہ تو ایک بڑی صورتحال ہے۔ مسٹفیض الرحمان کی بی سی سی آئی سے رिहا ہونا نہیں واضح تھا، اب وہ کبھی کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کھیل سکیں گے یا نہیں؟ یہ تو ایک بڑا چیلنج ہے کے کے آر کو اپنی پوری رقم واپس ملنے کی کوشش کرنا ہے۔
یہ تو ایک بدترین صورتحال ہے ! میرے لئے بھی ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ کے کے آر نے ان کی پوری پولی فٹ نہیں ہو سکتی! یہ سچ ہے کہ مستفیض الرحمان کی رہائی بی سی سی آئی کے حکم پر ہوئی، اور اب ان کا کھیلنا پورا ٹیم میں مشکل ہو گیا ہے! لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کے کے آر کو اپنی رقم واپس ملنے کی نیند نہیں اٹھ سکتی! یہ ایک نئی صورتحال ہے جو آئی پی ایل کے آپریشنل قوانین سے باہر ہو گئی ہے!
یہ واضح ہے کہ بی سی سی آئی کے ساتھ کے اے آر کی تعلقات کو کس طرح آسان بنایا جا رہا ہے۔ بھرپور معاملوں میں اچھے گزرش، واضح وثبوت یا اس سے متعلق نئی معلومات کی کمی کی وجہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کے اے آر نے ایک نئے کھلاڑی کو خریدنے میں اپنی معیاروں کو نقصان پہنچایا ہوگا۔
آئی پی ایل کی جانب سے یہ رکاوٹ اور دھمپ کیوں لگنے دوں؟ انہوں نے میرے بھائی مستفیض الرحمان کو تیز گیند باز بناتے ہوئے اسکواڈ میں شامل کیا تھا اور اب ان کی ایسٹیٹ کھیلنے سے روک رہے ہیں؟ یہ غیر منصفیت ہے! 9.20 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد بھی ان کی اور فرنچائز کی ایسٹیٹ کو یہ رکاوٹ کا سامنا کرنا پڈا ہے؟ اسے سستایا جائے?
ایسا تو کچھ حقیقت نہیں ہے کیوں کے اے پی ایل نئی سیزن میں رہائی کی وضاحت یہ دیتے ہیں کہ بی سی سی آئی کا حکم تو ہے مگر اس سے پورے شعبے کو آگھا کیا جاتا ہے۔ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی خریداری کروڑ روپے میں تھی لیکن اب وہ ٹیم سے ریلیز ہونے پڑ رہے ہیں، یہ تو چالاک نہیں ہوتا۔
عربستان میں یو ایف اے کی رہائی کے بعد ہونے والے ایسے معاملات کو دیکھتے ہیں جو بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی رہائی سے متعلق ہیں تو میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ انہیں ایک غیر معقول صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی سی سی آئی نے اس کی وجہ سے انہیں ٹیم سے ریلیز کرنے پر مجبور کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ معاملہ ایک غیر متعینیت کی صورت میں آ گئا ہے۔
ایسے تو یہ لگتا ہے کہ ہر سال کھیلوں میں ایسی دہلیلوں کی چال آتی ہیں جس سے پوری ٹیم پر نقصان پڑتا ہے اور پورے ملک میں شگفتگی پڑتی ہے۔ مستفیض الرحمان کا معاملہ ان کی سلیب کے لیے نہیں بلکل۔
مذاکرات کرنے والوں کو بھی ذہنی صحت کے لیے ٹیسٹ لینا چاہیے اور ان کی جانب سے یہ معاملات اسکواڈ میں ڈالنے سے پہلے کیوں تو سمجھ نہیں آتی کہ بی سی سی آئی کا حکم کیا ہے اور کیا ہے؟
ایسے میچز پر مینٹن کرنے والوں کی سیکھ لینے کا وقت اٹھتا ہے۔