پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک خط میں اپنی پوزیشن پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
دہشت گردی کی تمام صورتوں میں پاکستان ایک صاف مذمت کرتا ہے۔ اس خط میں، قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے طالبیت کی اور کہا ہے کہ شام میں کئی برسوں سے جاری تنازعہ کے بعد سیاسی و ادارہ جاتی پیشرفت کا مظاہرہ ہوا ہے۔
شام میں اسرائیل کی خود مختاری کی بار بار خلاف ورزیاں استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں، یہ بھی کہتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ شام میں وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
اس خط کا اسٹیٹمنٹ تو بہت اچھا ہے، لیکن یہ بات واضع طور پر نہیں ہے کہ شام کی صورت حال کس سے بھری ہوئی ہے... دہشت گردوں کی فکратور کی وجہ سے ہی یہ وہاں ایسا ہوا ہے جس پر اس خط میں بات کی جا رہی ہے... اسرائیل کے ساتھ شام کی تعلقات تو بے پناہ ہیں، ان کے دباؤ میں ہی وہاں یہ تنازعہ جاری رہا ہے... لیکن ایسا لگتا ہے کہ شام کی خود مختاری کی طرف پھرنا تو بھارتیوں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ دباؤ میں رکھے گا...
اس خط میں کیا بائے؟ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک خط میں اپنی پوزیشن پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی پچھتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں اسرائیل کی خود مختاری کی بار بار خلاف ورزیاں استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں... یہ تو وہ بات جس پر ہم سب توجہ مرکوز کرتے ہیں، لیکن وہ بھی بات جو آپ کا دل دیکھتا ہے وہ کیا ہے؟ شام میں کئی برسوں سے جاری تنازعہ کے بعد سیاسی و ادارہ جاتی پیشرفت کا مظاہرہ ہوا ہے... یہ تو ایک نہتے پہلو ہیں، لیکن اس میں بھی ایک حقیقی اور واضح بات ہے کی کہ شام میں وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنی ضروری ہے۔ اور یہ سچ ہے...
یہ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے شام کی صورت حال کو پورا جائزہ دیا ہو اور یہ سمجھنا بھی ہو چکا ہے کہ اسرائیل کی توہین کنہیوں سے ان کی سلامتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے... سچمنے یہ بات تو بھی چپکے میوزس نہیں ہوتے کہ شام میں ایسا کیا جاسکتا ہے؟
شائنیکوں کا یہ سچم وہی تھا جو آج بھی ہوتا رہتا ہے... یہ خط پڑھ کر سچ میں ان کا فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کی نتیجے کو جانتے ہی نہیں کیسے ملے گا...
ان لوگوں کو انٹرنیٹ پر دیکھنے کا لگتا ہے کہ وہ شام میں وحدت اور خود مختاری کی بات کر رہے ہیں، لیکن نہیں نہیں اسے سچ جیسا کرنے دیتے۔ یہاں تک کہ شام میں اسرائیل کی خود مختاری کی بار بار خلاف ورزیاں اس کا استحکام نقصان پہنچاتے ہیں، لگتا ہے نہیں لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی जरور ہوگی کہ شام میں وحدت اور خود مختاری برقرار رکھنا یوں سے ہی ممکن نہیں ہوتا جو کہ اس مظاہرے کا Meaning بھی ہوسکتا ہے۔
اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ شام کی حکومت ایسا نہیں چاہتی کہ وہاں ایک اور نئی جمہوریہ قائم ہو جائے؟ یہ تو توہین کھیل رہی ہے! شام میں اسرائیل کی طرف سے کیا سبق اٹھایا گیا ہے کہ وہاں سے کچھ بھی نہیں چلے گا؟
اس خط میں بھیجے گئے یہ نتیجے ایسے ہیں جو ہم سب کا جانتے ہیں کہ شام میں اسرائیل کی موجودگی اس علاقے کے امن کو دھونے والے پانی میں منگلی ہوئی ہے. یہ کہتے ہوئے کہ وحدت اور خود مختاری برقرار رکھی جا سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ شام کو اپنی ملکی جزیروں سے آزاد کر دیا جائے.
اس کے بجائے یہ صرف ایک بات کی تاکید ہے، اور یہ بھی ہمیشہ پوری نہیں ہوسکی گی. یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شام میں اسرائیل کی موجودگی کس طرح انیس سو کی دہائی سے امن کو دھونے والے پانی میں منگلی ہوئی ہے. اور اب بھی اسے یہاں پر رکھنا جاری ہے.
اس لئے، یہ خط وحدت اور خود مختاری کی بات کرتا ہے، لیکن کبھی تک پوری نہیں ہوسکیگی.
شام کا بحران تو ہزاروں سال پہلے سے شروع ہوا تھا، لیکن اب یہ اس طرح نہیں رہا جیسا قوم کے حامیوں نے بتایا تھا کہ شام میں وحدت اور علاقائی سالمیت برقرار ہو گی۔ اب یہ ہمیشہ سے طویل تنازعہ کے بعد ہوا، لیکن اب یہ بات ہی نہیں رہی سکتی کہ شام میں وحدت برقرار ہو گی یا نہیں، اب یہ پورا دنیا دیکھ رہی ہے کہ شام میں کیا ہونگے۔
مثنوں پہ شام کی صورت حال سے بہت پرेशان ہو جاتا ہے، لگتا ہے کہ انھیں نتیجے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے... اور ایسے میں یہاں اسرائیل کی مداخلت کو روکنے کی ضرورت ہے، بالکل چھوٹی جگہ میں بھی انھیں اپنی ادارتی حدود کے خلاف ورزی کرنا پڑ رہا ہے...