پاکستانی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بدستور بند رکھنے کا فیصلہ

بلبل

Well-known member
بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر پاکستانی فضائی حدود بھی توسیع میں رہیں گئیں، اب پابندی 24 فروری صبح 5 بجے تک نافذ عمل ہوگی۔

بھارت کی جانب سے قائم پاکستانی ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کا اس فیصلے کے بعد نوٹم جاری کر دیا گیا ہے، جو بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کو ایک لاکھ 40 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے، اب بھارتی طیاروں پر پابندی 24 فروری صبح 5 بجے تک نافذ عمل ہوگى۔

بھارتی طيارات پر عائد پابندی میں توسیع کرتے ہوئے پی اے اے نے کہا ہے کہ ان طيارات پر بھی یہ پابندی لागو رہے گی، جن کی ملکیت فوج میں ہوں، جس میں وولVO FLIGHT اور این آئی او ایچ این ایس ٹرین کراہتھاں بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے 8 مئی 2019 کو بھارتی طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایس اے فائر کا بحران ہوا اور اس میں پچیس مرتبہ توسیع ہوئی۔
 
بھارتی طيارات پر پابندی کا یہ فیصلہ توجہ سے لینا چاہیے، ان طيارات کو بھی پابندی کی ایک لاکھ 40 منٹ تک استعمال نہ کرنے دی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ وولVO FLIGHT اور این آئی او ایچ این ایس ٹرین جیسے طيارات پر بھی پابندی لگی رہیگی۔ پابandi 24 فروری صبح 5 بجے تک شروع ہو گیی، یہ توسیع سے پکہا کہ کس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بھی ٹپنے گئے ہیں۔
 
اس فیصلے سے بھارتی طيارات کو پاکستانی فضائی حدود پر لگنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن یہ کہا گیا ہے کہ انڈین ایئر پورٹس اتھارٹی نے اپنی پابندیوں کو توسیع دیا ہے اور اب بھی ان طيارات پر پابندی لگائی گئی ہے جو کسی بھی ملکیت کی نہیں ہے۔ یہ بات interessant hai ki پی اے اے نے اس فیصلے سے قبل بھی کہا تھا کہ وہ بھارتی طيارات پر پابندی لگائیں گے، لیکن اب انہوں نے اس کی توسیع کر دی ہے۔
 
میری رाय ہے کہ یہ توسیع بہت اچھی نہیں تھی، ایسا کیا کر رہے ہیں کہ 24 فروری سے ایسا نہیں ہوتا؟ آج بھارتی طيارات پر پابندی لگا دی گئی تو اب وہ 40 منٹ تک پاکستانی فضا حدود استعمال نہیں کر سکتے، یہ کیسے ہوگا؟ اور ان طیارات کی ملکیت فوج میں ہونے پر اس پابندی میں توسیع ہوئی، ایسا تو کھیل کھیل کی بات نہیں۔
 
بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر ایک لاکھ 40 منٹ تک پابندی کا نذرانہ کرنا ایسا سے کہیں زیادہ بھرپور نہیں ہونا چاہیے جس کی یہ پابندی ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں ایسے طیارے بھی شامل ہیں جن کی ملکیت فوج میں ہے، جب تک کہ یہ پابندی لگا رہی اور ان طوائفے کو بھی کسی قسم کی ترجیح نہ دی گئی ہو۔
 
یہ بات کوئی نہ کوئی جانتا ہے، پاکستان نے 8 مئی 2019 کو بھارتی طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا اور اب وہی کرتے گا۔ لیکن توسیع کروانے والے 24 فروری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ، یہ پابندی نہ صرف بھارتی طیاروں پر لागو رہی گئی ہے بلکہ وہاں کی فضائی حدود میں توسیع بھی کر دی گئی ہے تاکہ یہ پابندی ساتھ ہی اس کے ساتھ ہی آ جائے، یہ ایکFair Decicion Nahi hai balki ek strategik Majaaz hai 😐
 
بھارتی طيارات پر دھرنا بھول گئے ہیں؟ توسیع کرنے کے بعد پابندی کو نافذ کرنے کی بات کروں تو یہاں 24 فروری تک اچھی تھی، اب پابندی میرے لئے بھی ایک چانن لینے والی ہوگی, انھوں نے توسیع کر دی، تو اس میں اپنی فوج کا جو طے کی گئی تھی وہ 24 فروری تک رہی گئی, اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک لاکھ چیسٹ پر پابندی لگا دی ہوگی, اور اب وہ طے کرنے والے بھی 24 فروری تک رہتے ہیں!
 
بھارتی طيارات پر نافذ ہونے والی پابندی کو دیکھتے ہوئے، منہ بہنوں کا یہ سوال آیا ہے کہ انٹرنیٹ پر بھی ایسی پابندی کی لگائی نہیں ہے؟ میرے خیال میں، اگر 24 فروری صبح 5 بجے تک بھارتی طيارات پر پابندی نافذ ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں بھی ایسی پابندی نافذ کی جائے گی۔ لیکن انٹرنیٹ پر وہی پابندی 24 فروری کو شروع ہونے والے دنوں سے لے کر اس کے بعد 24 گھنٹے تک نافذ رہیگی، اور یہ پابندی صرف بھارتی طيارات پر ہی نہیں بلکہ وولVO فلیگ اور این آئی او ایچ این ایس ٹرین کراہن بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ پابندی پاکستان کی طرف سے دباو میں رہیگی، لیکن انٹرنیٹ پر اس کی لگائی نہیں ہوگی۔
 
🤐 یہ فیصلہ بھارتی طےارتوں پر لگائے جانے والے پابندی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ طےارتن جو ایسے ملک میں استعمال ہوتے ہیں جہاں بھارتی طےارتوں کا احتساب نہیں کیا جاتا وہ اسی طرح کی پابندیوں سے گزرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ایسا بھی ہوا تو یہ دوسرے ملکوں کے لئے بھی ایک اہم چیلنج بن جائے گا۔
 
بھارتی طيارات پر بھی پابندی نافذ کی جا رہی ہے، اب کیا یہ سستا شعبہ بن جائے گا؟ پاکستانیوں کو ایس اے فائر میں ہلچل تو لگتی ہے لیکن یہ سے ملک کی безопасности نہیں پہنچی، ابھی تک کہیں تک یہ بھارت کا معاملہ صرف ان کی آمریکی دوستوں کو پہنچایا جاسکتا ہے تاکہ وہ لوگ اس سے مایوس نہ ہو کر اپنی جان بھی گوا بیٹھائیں
 
بھارتی طیارات پر پابندی لگائی نہیں گئی، تو یہ رہا ایک مزید کامیابی کا معاملہ ہوگا! اب بھی بھارت کی جانب سے قائم پی اے اے نے پاکستانی فضائی حدود پر پابندی لگا دی ہے، یہ توسیع کر دی گئی ہے لیکن میں اس کے بارے میں کسی کی غبراہی نہیں کرووں گا! 😂🚀
 
واپس
Top